Monday, 08 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Ye Circus Ka Khel Hai

Ye Circus Ka Khel Hai

یہ سرکس کا کھیل ہے

گلگت بلتستان میں دس دن تک جاری رہنے والا انتخابی میلہ آخر اپنے اختتام کو پہنچ گیا لاکھوں ووٹرز نے بیلٹ باکس کے ذریعے اپنے فیصلے کا اظہار کر دیا جلسے ختم ہو گئے نعروں کی گونج مدھم پڑ گئی گاڑیوں کے قافلے منتشر ہو گئے اور سوشل میڈیا پر جاری انتخابی جنگ بھی آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہونے لگی لیکن انتخابات کے بعد ہمیشہ ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ سوال ووٹ سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے کیا واقعی کچھ بدلے گا؟

ہم ایک عجیب معاشرے میں رہتے ہیں یہاں الیکشن صرف نمائندے منتخب کرنے کا عمل نہیں بلکہ امیدوں کی سالانہ یا پانچ سالہ تجدید کا نام بن چکا ہے ہر امیدوار عوام کو یقین دلاتا ہے کہ اگر اسے موقع ملا تو علاقے کی تقدیر بدل جائے گی۔ سڑکیں بنیں گی ہسپتال فعال ہوں گے سکولوں میں اساتذہ آئیں گے نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور محرومیوں کا خاتمہ ہو جائے گا یہ وعدے نئے نہیں ہیں۔ یہی وعدے پانچ سال پہلے بھی کیے گئے تھے اس سے پہلے بھی کیے گئے تھے اور شاید آئندہ بھی کیے جاتے رہیں گے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سیاست دان وعدے کیوں کرتے ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم وعدوں کا حساب کیوں نہیں مانگتے دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں انتخابات نعروں پر نہیں بلکہ کارکردگی پر لڑے جاتے ہیں وہاں ووٹر پوچھتا ہے کہ آپ نے گزشتہ مدت میں کیا کیا؟ کتنے سکول بنائے؟ کتنے ہسپتال بہتر کیے؟ کتنی ملازمتیں پیدا کیں؟

کتنی سرمایہ کاری لائے ہمارے ہاں سوال الٹا ہوتا ہے یہاں امیدوار سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ اس نے کیا کیا بلکہ یہ سنا جاتا ہے کہ وہ کیا کرے گا گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی ہے یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے سیاحت کی بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں۔ نوجوان پڑھے لکھے ہیں شرح خواندگی ملک کے کئی حصوں سے بہتر ہے۔ لیکن اس کے باوجود بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر روزگار کے منتظر ہیں یہ نوجوان صرف نوکری نہیں مانگ رہے یہ مستقبل مانگ رہے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر انتخاب میں نوجوانوں کو موضوع تو بنایا جاتا ہے مگر ترجیح نہیں بنایا جاتا ان کے نام پر تقریریں ہوتی ہیں تصاویر بنائی جاتی ہیں منشور لکھے جاتے ہیں لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتے ہیں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ترقی صرف سڑک بنانے کا نام نہیں ترقی اس وقت آتی ہے جب ایک نوجوان کو یہ یقین ہو کہ اس کی محنت اسے ایک بہتر زندگی دے سکتی ہے جب ایک طالب علم کو معلوم ہو کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کے لیے مواقع موجود ہوں گے جب ایک مریض کو علاج کے لیے سینکڑوں میل سفر نہ کرنا پڑے انتخابات کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے۔

اب جبکہ نتائج سامنے آ رہے ہیں تو جیتنے والوں کو جشن منانے کا حق ہے لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عوام نے انہیں اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری سونپی ہے ووٹ دراصل ایک امانت ہے اور امانت کا تقاضا جوابدہی ہوتا ہے اسی طرح ہارنے والوں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ عوام نے انہیں کیوں مسترد کیا جمہوریت میں شکست بھی ایک سبق ہوتی ہے گلگت بلتستان کے عوام نے اپنا کام کر دیا انہوں نے ووٹ ڈال دیا اب باری منتخب نمائندوں کی ہے پانچ سال بعد پھر جلسے ہوں گے، پھر نعرے لگیں گے پھر وعدے کیے جائیں گے لیکن اس بار عوام کو ایک کام ضرور کرنا چاہیے وعدے یاد رکھیں تقریریں محفوظ رکھیں منشور سنبھال کر رکھیں اور جب اگلا الیکشن آئے تو صرف یہ ایک سوال پوچھیے آپ نے جو کہا تھا کیا وہ کیا بھی تھا؟ اگر یہ سوال پوچھنے کی روایت پیدا ہوگئی تو شاید انتخابات سرکس نہیں رہیں گے بلکہ حقیقی معنوں میں عوامی احتساب کا عمل بن جائیں گے

ہمارے ہاں انتخابات اکثر احتساب کا عمل نہیں بلکہ امیدوں کی نئی نیلامی بن جاتے ہیں عوام کو ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں سڑکوں، اسپتالوں، یونیورسٹیوں اور روزگار کے وعدے کیے جاتے ہیں مگر جیسے ہی نتائج آتے ہیں نمائندے عوامی گلیوں سے نکل کر اقتدار کے ایوانوں میں منتقل ہو جاتے ہیں پھر پانچ سال تک عوام صرف تصاویر بیانات اور اخباری اشتہارات میں اپنے نمائندوں کی جھلک دیکھتی ہے گلگت بلتستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے نے ہمیشہ وفاداری نبھائی، قربانیاں دیں اور قومی مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دی مگر بدلے میں اکثر محرومیاں، بے اختیاری اور ترقی کے نام پر اعلانات ہی حاصل کیے۔ وسائل یہاں کے، پہاڑ یہاں کے دریا یہاں کے اور مشکلات بھی یہاں کی، لیکن فیصلوں اور فوائد پر قبضہ کہیں اور کا رہا افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ عوامی خدمت کا مقدس لفظ اب بہت سے سیاست دانوں کے لیے ایک پیشہ ورانہ نوکری کی شکل اختیار کر چکا ہے انتخاب جیتنے کے بعد پہلی ترجیح عوام نہیں بلکہ مراعات، فنڈز، اختیارات اور اپنے سیاسی مستقبل کی مضبوطی بن جاتی ہے عوامی مسائل فائلوں میں دب جاتے ہیں جبکہ ذاتی مفادات ترجیحات کی فہرست میں اوپر آ جاتے ہیں۔

آج گلگت بلتستان کی عوام ووٹ ڈالنے نکلی ہے کاش وہ صرف جماعتوں کے نشان نہ دیکھیں بلکہ گزشتہ پانچ سال کا حساب بھی دیکھیں یہ سوال بھی پوچھیں کہ جو شخص کل منتخب ہوا تھا وہ ان کے دکھ درد میں کہاں تھا؟ اس نے نوجوانوں کے لیے کیا کیا؟ اس نے غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے لیے کیا کردار ادا کیا کیونکہ جمہوریت کا حسن صرف ووٹ ڈالنے میں نہیں ووٹ کے بعد جواب طلبی میں بھی ہے اگر عوام نے سوال پوچھنا سیکھ لیا تو نمائندے خادم بن جائیں گے اور اگر عوام صرف نعروں کے پیچھے چلتی رہی تو پھر اگلے پانچ سال بھی وہی کہانی دہرائی جائے گی نمائندے اسلام آباد کے ایوانوں میں مزے کریں گے اور عوام پہاڑوں کے سائے میں غربت بے روزگاری اور محرومی کا نوحہ پڑھتی رہے گی پھر اگلے پانچ سال یہی سرکس اسی انداز سے دوبارہ سجے گا وہی وعدے وہی نعرے اور وہی سٹیج۔۔

Check Also

Khamosh Aur Bhayanak Zulm To Yahan Ho Raha Hai

By Abid Mehmood Azaam