Arbon Ke Badalte Khayalat, Pakistan Ki Sifarti o Irani Danish Ka Imtihan
عربوں کے بدلتے خیالات، پاکستان کی سفارتی و ایرانی دانش کا امتحان

شہزادہ ترکئی الفیصل بن شہید شاہ فیصل دو دہائیوں سے زائد سعودی انٹیلی جنس چیف رہے اور پھر وزیر خارجہ بھی، نے اپنے مضمون میں سعودی قیادت کے بدلتے خیالات بارے جو مضمون لکھا یقیناََ اہل اسلام کے لیے وہ خوش گوار ہوا کا جھونکا، ان کے مطابق "اسرائیل سعودی عرب و ایران کے درمیان نفاق کی کوششوں کو ہوا دینے میں پیش پیش، دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع کرنے اور جنگ میں انہیں آمنے سامنے لاکھڑا کرنے کی کوششوں کو ولی عہد محمد بن سلمان کی دوراندیشی اور معاملہ فہمی نے ناکام بنا دیا"۔ جبکہ قطر کے سابق وزیر اعظم محمد بن جاسم الثانی نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار الجزیرہ میں لکھے گئے مضمون میں کیا جس کے مطابق "نیتن یاہو عرب ممالک کو لڑا کر گریٹر اسرائیل کے منصوبہ پر عمل پیرا جسے فی الوقت عرب ممالک کے اتحاد نے ناکام بنا دیا"۔
یقیناََ عربوں کے خیالات و نظریات میں رونما ہوتی یہ تبدیلی ایک طرف اربوں ڈالرز سالانہ ادائیگی کے باوجود ایران امریکہ جنگ میں امریکہ کی جانب سے عربوں کو تنہا چھوڑ دینے کے بعد تو دوسری طرف اس کے پیچھے پاکستان کی زبردست سفارتی و نظریاتی کوشش کہ جن کی بنا پر خلیجی ممالک ایرانی حملوں کے باوجود براہ راست جنگ میں نہیں کودے۔ عرب ممالک کو تحمل کا مشورہ اور ایرانی قیادت کے اندر برادر ممالک کے لیے احساس جاگزیں کرانا یقیناََ مشکل ہی نہیں ناممکن عمل تھا مگر پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں اور شہزادہ ترکی الفیصل اور محمد بن جاسم کے مضامین اسی کا اظہار۔
ادھر لبنانی صدر نبی بہری کے سعودی کراون پرنس سے روابط نے بھی لبنان میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا نہ ہونے دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ عرب خطہ میں تبدیل ہوتے حالات و نظریات کے بعد اب ذمہ داری ایرانی قیادت پر کہ وہ کس طرح اور کتنا خطہ کے ممالک کے مفادات کا خیال رکھتا ہے کہ اب تک انہوں نے پاکستانی ایما پر بہت صبر و تحمل اور بیدار مغزی کا ثبوت دیا۔
اس مین شک نہیں کہ دونوں اطراف سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والے موجود، اب تک کی جنگ میں سبھی تجزیہ نگار ایران کو فتح یاب گردانتے ہیں اور عالمی دنیا اور رائے عامہ بھی ایران کے حق میں مگر مشکل یہ کہ کیا ایران اپنی قربانیوں اور شہادتوں کو مذاکرات کی میز پر کیش کرا پاتا ہے؟ یا روایتی ہٹ دھرمی سے ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ چاہتا ہے؟ کہ اگلی جنگ بندی بھی کسی نہ کسی مذاکراتی عمل کے بعد ہی ہونی ہے۔
ایران ایک طرف ایٹمی صلاحیت بھی نہیں چاہتا مگر یورینیم کے معاملہ پر لچک بھی نہیں جو سفارتی ماہرین کے لیے پریشان کن۔ جبکہ چین امریکہ مذاکرات میں چین کی جانب سے امریکی صدر کو کوئی ایسا واضح اشارہ بھی نہیں دیا گیا کہ جس میں جنگ دوبارہ چھڑنے کی صورت میں چین کوئی سخت موقف لے۔ پس پردہ رہ کر اگر چین امریکہ کو الجھائے رکھنا چاہتا ہے تو اس کی قیمت ایران نے معاشی و انفراسٹرکچر کی تباہی اور شہریوں کی ہلاکتوں کی صورت میں تو ادا کرنی ہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سمیت دیگر ممالک بدترین معاشی بحران کی زد میں ہوں گے۔
یہ بھی حقیقت کہ ایران گزشتہ تین ہفتوں سے پاکستانی سفارتی کوششوں پر انحصار کی بجائے ٹرمپ شی جنگ ملاقات پر تکیہ لگائے بیٹھا تھا جس کا کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلا مگر اس کے باوجود محسن نقوی فیلڈ مارشل کے خصوصی پیغام کے ساتھ اہم دورہ پر گئے اور ایرانی قیادت کو قابل عمل تجاویز کے ساتھ مذاکرات پر لانے کی کوشش کی اب اس کے ثمرات اگلے دو سے تین دن تک ہی ظاہر ہوں گے مگر ایرانی قیادت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اندر کے منافق اور باہر کے دشمن دونوں ہر صورت دوبارہ جنگ چاہتے ہیں اور اس سے ایران کے علاوہ لبنان اور غزہ پر بھی آتش و آہن کا بازار گرم گا کہ اب ان دو کی قسمت بھی ایران کے ساتھ منسلک۔ جبکہ دوبارہ جنگ ایران عرب بڑھتی قربتوں کو دوریوں میں بدل سکتی ہے اور یہی اسرائیل کی خواہش! کہ خطہ میں اسرائیلی وجود کے لیے کوئی اتحاد نہ بن پائے کہ جسے پاکستان کی زبردست فضائی قوت اور ایٹمی چھتری بھی میسر ہو۔
اب صرف معاملہ یورینیم اور ابنائے ہرمز کا ہی نہیں رہا بلکہ ایران کو مستقبل کے بدلتے منظر نامہ میں خود کو فٹ، عرب ایران اتحاد کے قیام کی راہ ہموار اور لبنان میں جنگ بندی و ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا بھی ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران کی سفارتی تنہائی ختم کرانے میں مصروف کہ ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی، قطری و دیگر عرب ممالک کے وزرائے خارجہ سے روابط اسی سلسلے کی کڑی تو دوسری طرف دونوں فریقین کو قابل عمل تجاویز پر متفق کرانا۔ مگر ان کوششوں کو دونوں فریقین کی ہٹ دھرمی سبوتاژ کر رہی ہے۔
ایسے میں عالمی سفارتی کوششیں اپنی جگہ ایک مشکل فریضہ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی مقتدرہ کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ معیشت سیکورٹی سے براہ راست منسلک اور ملکی استحکام معیشت سے جڑا ہے۔ عوامی بے چینی اور اضطراب ملکی استحکام کی بنیادیں ہلاتا ہے۔ ناقص معاشی پالیسیاں اور بدعنوانی ایسا زہر کہ جو ملکی جڑیں کھوکھلی تو عسکری و سفارتی کامیابیوں کو گھنا رہا پے اور اس کی وجہ سے پاکستان کی عالمی پذیرائی کے باوجود عوام کے چہروں پر مسکراہٹ نہیں لوٹ رہی اور ان تاریخی کامیابیوں کا جشن بدعنوانی، ایلیٹ کلچر اور اشرافیہ کی لوٹ مار کے ساتھ تادیر نہیں منایا جا سکتا اس کے لیے معاشی ایمرجنسی اور بے لاگ و بے رحم احتساب لازم کہ جس کی آرزو عوام کے دلوں میں مدتوں سے مچل رہی ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ معاشی استحکام اور کڑے احتساب کا سہرا بھی فیلڈ مارشل کے سر سجنے کو تیار کہ اس کے بغیر پاک سعودی دفاعی معائدہ، خطہ میں پاکستان کے بڑھتے کردار اور بالخصوص عرب ممالک کے ساتھ متوقع دفاعی معائدہ جات سے نتائج کا کماحقہ حصول ممکن نہیں۔ پاکستان نے امامت و قیادت کا خواب اگر شرمندہ تعبیر کرنا پے اور انشاءاللہ کرنا ہے تو اسے کرپٹ نظام، بدعنوان بیوروکریسی اور نااہل سیاست دانوں سے جان چھڑانا ہوگی کہ دنیا اس خطہ میں پاکستان کو مڈل پاور کے روپ میں ابھرتا دیکھ رہی ہے۔
ایک خوش کن اقدام یہ کہ پاکستان نے JF-17 بلاک 3 طیارے کا ٹریننگ سمولیٹر اور فل ریہرسل سسٹم بنگلہ دیش فضائیہ کے ھیڈکوارٹر ڈھاکہ میں نصب کر دیا ہے 15 مئی سے ٹریننگ سیشن کا آغاز ہوگیا ہے۔ پاک فضائیہ کے وائس ائرمارشل اورنگزیب احمد نے اسکا افتتاح کیا PAF نے دنیا میں ایک نئی روایت قائم کی ہے کہ طیارے پہنچنے سے قبل ہی سمولیٹر پر تربیتی مراحل طے کرا دیئے جائیں پاکستانی ماہرین بنگلہ دیشی پائلٹ کو ابتدائی تربیت کے عمل سے گزاریں گے۔ ایڈوانس لیول کی ٹریننگ کامرہ اور سرگودھا میں ہوگی۔ یہ مملکت خداداد کے لیے بہت بڑا اعزاز کہ مسلح افواج اپنی زمینی حدود سے باہر بھی پاکستان دشمنوں کے سینوں پر مونگ دلنے لگی ہے۔

