Khaleej e Hormuz Ki Aatish Fishan Lehrain, America Iran Tasadam (2)
خلیجِ ہرمز کی آتش فشاں لہریں، امریکہ ایران تصادم (2)
انہیں محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا بھی شاید ایک ایسی ہی شام میں داخل ہو چکی ہے جہاں روشنی ابھی مکمل ختم تو نہیں ہوئی مگر اندھیروں نے اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ انسان نے چاند پر قدم رکھ لیا سمندروں کی تہہ ناپ لی مصنوعی ذہانت ایجاد کر لی مگر اپنے دل کے اندر چھپی ہوئی نفرت کو شکست نہ دے سکا یہی انسان کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔
بندن میاں کے کانوں میں اچانک محلے کے بچوں کی آوازیں پڑتی ہیں جو گلی میں کھیل رہے ہوتے ہیں وہ انہیں دیر تک دیکھتے رہتے ہیں اور پھر دھیرے سے کہتے ہیں کہ شاید دنیا ابھی مکمل ختم نہیں ہوئی کیونکہ بچوں کی ہنسی ابھی باقی ہے مگر انہیں یہ خوف بھی ستاتا ہے کہ اگر یہی جنگیں بڑھتی رہیں تو آنے والی نسلیں کھیل کے میدانوں کے بجائے پناہ گاہوں میں پروان چڑھیں گی کتابوں کی جگہ اسلحے کے سائے ہوں گے اور خوابوں کی جگہ خوف جنم لے گا۔
بندن میاں کے دل سے ایک ٹھنڈی آہ نکلتی ہے وہ اخبار کو بند کرتے ہیں اور بہت دیر تک خاموش بیٹھے رہتے ہیں جیسے الفاظ بھی اب تھک چکے ہوں پھر وہ دھیرے سے آسمان کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں کہ اے خدا شاید اب انسان کو پھر سے انسان بننے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر یہی آگ اسی طرح بھڑکتی رہی تو ایک دن زمین پر صرف راکھ بچے گی اور تاریخ یہ لکھے گی کہ انسان اپنی عقل کے غرور میں اپنی ہی دنیا جلا بیٹھا تھا۔
بندن میاں کی سوچ کی گہرائی اب اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں الفاظ کم اور خاموشی زیادہ بولنے لگتی ہے مگر پھر بھی انسان کی فطرت ہے کہ وہ خاموشی کے اندر سے بھی معنی نکال لیتا ہے اور بندن میاں بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جو دنیا کو صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ دل کے زخموں سے دیکھتے ہیں وہ اپنی پرانی کرسی پر یوں بیٹھے ہیں جیسے صدیوں کا بوجھ ان کی پشت سے چپک گیا ہو اور ان کے سامنے رکھا ہوا اخبار اب صرف کاغذ نہیں رہا بلکہ ایک پوری دنیا کی چیخ بن چکا ہے امریکہ اور ایران کے درمیان 2026 کی اس آگ نے صرف خطے کو نہیں ہلایا بلکہ انسان کی سوچ کے اندر بھی ایک زلزلہ برپا کر دیا ہے۔
بندن میاں کے لیے یہ خبر کوئی نئی خبر نہیں بلکہ تاریخ کا وہ تسلسل ہے جو ہر دور میں نئے ناموں کے ساتھ دہرا دیا جاتا ہے کبھی بغداد کبھی کابل کبھی دمشق اور اب تہران مگر نقش وہی ہے صرف چہرے بدل جاتے ہیں وہ اپنے حقے کا کش لیتے ہوئے سوچتے ہیں کہ انسان نے ترقی کے نام پر شاید سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ اس نے طاقت کو عقل سے بڑا سمجھ لیا اور جب طاقت عقل سے بڑی ہو جائے تو پھر انصاف صرف کتابوں میں رہ جاتا ہے زمین پر نہیں رہتا وہ اخبار کے اوراق الٹتے ہیں اور ہر صفحہ انہیں ایک نئی بے چینی کی طرف لے جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز کا ذکر ان کے ذہن میں کسی پرانے زخم کی طرح ابھرتا ہے وہ سوچتے ہیں کہ یہ محض پانی کی ایک پٹی نہیں بلکہ دنیا کی سانسوں کی نالی ہے جہاں سے تیل بہتا ہے اور تیل کے ساتھ ساتھ سیاست معیشت اور جنگ کا خون بھی گردش کرتا ہے اگر یہ نالی بند ہو جائے تو صرف مشرق وسطیٰ نہیں بلکہ پوری دنیا کی نبض رک سکتی ہے۔ بندن میاں کو حیرت اس بات پر ہے کہ انسان نے زمین کے ہر کونے میں نظام تو بنا لیا مگر امن کا کوئی مستقل نظام نہ بنا سکا وہ کہتے ہیں کہ شاید امن انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے مگر سب سے کم کمائی جانے والی شے بھی یہی ہے کیونکہ جنگ زیادہ منافع دیتی ہے اور امن زیادہ صبر مانگتا ہے۔
بندن میاں کے ذہن میں ایران کے اندرونی حالات بھی ایک دھندلے منظر کی طرح گھومتے ہیں وہ تصور کرتے ہیں کہ تہران کی گلیوں میں اس وقت کیسا سناٹا ہوگا کیسی بے چینی ہوگی نئی قیادت ابھی اپنی کرسی کو پوری طرح سنبھال بھی نہ پائی ہوگی کہ باہر سے آنے والے دباؤ نے اسے ہلا کر رکھ دیا ہوگا وہ سوچتے ہیں کہ اقتدار ہمیشہ ایک نازک شیشہ ہوتا ہے جو اندر سے طاقتور اور باہر سے کمزور دکھائی دیتا ہے اور جب اس شیشے پر جنگ کی ضرب پڑتی ہے تو پھر فیصلے جذبات سے نہیں مجبوری سے ہوتے ہیں۔
بندن میاں کو امریکہ کا کردار بھی ایک ایسے طاقتور تاجر کی طرح نظر آتا ہے جو دنیا کی منڈی میں اپنی شرطیں منواتا ہے اور جو نہ مانے اسے معاشی اور عسکری دباؤ کے ذریعے راستے پر لانے کی کوشش کرتا ہے وہ سوچتے ہیں کہ شاید دنیا اب اصولوں سے نہیں مفادات سے چل رہی ہے اور جب مفاد اصول بن جائے تو پھر سچائی سب سے کمزور فریق بن جاتی ہے۔
بندن میاں کے دل میں ایک تلخ مسکراہٹ ابھرتی ہے وہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی لگتا ہے اقوام متحدہ صرف ایک ایسا تھیٹر ہے جہاں سب کردار اپنا اپنا مکالمہ بول کر چلے جاتے ہیں مگر اصل کہانی کہیں اور لکھی جا رہی ہوتی ہے انہوں نے زندگی میں کئی جنگیں دیکھی ہیں مگر ہر جنگ کے بعد انہوں نے یہی سنا کہ یہ آخری جنگ تھی مگر تاریخ ہر بار انہیں غلط ثابت کرتی رہی ہے وہ سوچتے ہیں کہ شاید انسان نے سب سے بڑا جھوٹ یہ بولا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا کیونکہ اگر واقعی نہ چاہتا تو پھر جنگیں اتنی آسانی سے شروع نہ ہوتیں۔
بندن میاں کا ذہن اب پاکستان کی طرف پلٹتا ہے وہ اپنے ملک کو ایک ایسے درخت کی طرح دیکھتے ہیں جس کی جڑیں مضبوط ہیں مگر شاخیں بار بار طوفانوں کی زد میں آتی ہیں وہ اسلام آباد کے ان مذاکرات کا تصور کرتے ہیں جہاں مختلف طاقتیں امن کی بات تو کرتی ہیں مگر ہر ایک کے ذہن میں اپنی اپنی شرط چھپی ہوتی ہے وہ سوچتے ہیں کہ ثالثی ہمیشہ کمزور ملکوں کے حصے میں آتی ہے کیونکہ طاقتور کبھی درمیان میں نہیں آتے وہ یا تو ایک طرف ہوتے ہیں یا دوسری طرف بندن میاں کے لیے یہ بات بھی باعث فکر ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر صرف ایوانوں پر نہیں بلکہ غریب کے چولہے پر پڑتا ہے وہ اپنے محلے کے ایک مزدور کو یاد کرتے ہیں جو روزانہ دیہاڑی کے بعد کہتا ہے کہ مہنگائی نے جینا مشکل کر دیا ہے اور اب جنگوں کی خبریں سن کر لگتا ہے کہ شاید آنے والے دن اور بھی سخت ہوں گے۔
بندن میاں اس مزدور کے چہرے میں پوری دنیا کا سچ دیکھتے ہیں کیونکہ اصل اثر وہاں ہوتا ہے جہاں خبریں نہیں پہنچتیں بندن میاں کو یاد آتا ہے کہ کسی زمانے میں جنگیں فوجوں کے درمیان ہوتی تھیں اور عوام دور کھڑے دیکھتے تھے مگر اب جنگیں براہ راست عوام کے گھروں میں داخل ہو جاتی ہیں مہنگائی کے دروازے سے بے روزگاری کی کھڑکی سے اور خوف کے راستے سے وہ سوچتے ہیں کہ شاید یہ دور سب سے خطرناک اس لیے ہے کہ اس میں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
بندن میاں جب آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو انہیں بادلوں میں بھی ایک بے چینی محسوس ہوتی ہے جیسے فضا بھی جانتی ہو کہ زمین پر کیا ہونے والا ہے وہ دھیرے سے کہتے ہیں کہ انسان نے چاند پر قدم رکھ لیا مگر زمین پر امن قائم نہ کر سکا یہ کیسی ترقی ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے ان کے دل میں ایک عجیب سا سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی طاقت ہی حق ہے یا حق کبھی طاقت کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے وہ اس سوال کا جواب اپنے حقے کے دھوئیں میں تلاش کرتے ہیں مگر ہر بار دھواں منتشر ہو جاتا ہے اور جواب غائب ہو جاتا ہے۔
بندن میاں کو ایران کی نئی قیادت کے بارے میں بھی ایک انجانی سی فکر لاحق ہے وہ سوچتے ہیں کہ جب قیادت تبدیلی کے مرحلے سے گزرتی ہے تو سب سے پہلے استحکام کمزور ہوتا ہے اور جب استحکام کمزور ہو تو دشمن زیادہ قریب آ جاتے ہیں وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ایران اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتا ہے۔ بندن میاں کی سوچ اب فلسفیانہ رنگ اختیار کر چکی ہے وہ کہتے ہیں کہ شاید جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں ہوتیں بلکہ انسان کے اندر بھی چل رہی ہوتی ہیں خوف اور امید کے درمیان طاقت اور کمزوری کے درمیان اور جب اندر کی جنگ ختم نہ ہو تو باہر کی جنگیں خود بخود جنم لیتی ہیں بندن میاں کے لیے یہ پورا منظر نامہ ایک ایسے طوفان کی مانند ہے جو آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے مگر اس طوفان کے بیچ بھی وہ ایک چھوٹی سی امید تلاش کرتے ہیں جو شاید انسانیت کی آخری نشانی ہے وہ امید یہ ہے کہ ابھی بھی کچھ لوگ ہیں جو جنگ کے بجائے امن کی بات کرتے ہیں ابھی بھی کچھ دل ہیں جو نفرت کے بجائے محبت چاہتے ہیں۔
بندن میاں کی آنکھوں میں تھکن ہے مگر ان کی سوچ میں ایک مدھم سی روشنی باقی ہے وہ اخبار کو دوبارہ تہہ کرتے ہیں اور آہستہ سے کہتے ہیں کہ دنیا شاید بدل رہی ہے مگر انسان اگر نہ بدلا تو یہ تبدیلی صرف تباہی بن جائے گی اور پھر وہ خاموش ہو جاتے ہیں جیسے ان کے الفاظ بھی اب اس دنیا کے شور سے تھک چکے ہوں اور کمرے میں صرف حقے کا مدھم سا دھواں رہ جاتا ہے جو آہستہ آہستہ چھت کی طرف اٹھتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔۔

