Digital Mujahideen Aur Unke Digital Danday
ڈیجیٹل مجاہدین اور ا کے ڈیجیٹل ڈنڈے

کچھ برس پہلے تک ہمیں لگتا تھا کہ آزادی اظہار پر پہرے صرف ریاست لگاتی ہے۔ پھر سوشل میڈیا آیا اور معلوم ہوا کہ ریاست تو خیر ایک میکانیزم اپناتی ہے، اصل مسئلہ تو عوام ہیں۔ یہاں اب ہر شخص اپنی جیب میں موبائل کی صورت ایک چھوٹا سا مارشل لا اٹھائے پھرتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے زبان بند کرانے کے لیے سرکاری نوٹس آتا تھا اب انباکس یا کمنٹ سیکشن میں لوگوں کی جانب سے آ جاتا ہے۔
ہمارے ہاں ہر تحریک کا وہی حشر ہوتا ہے جو برصغیر میں آنے کے بعد کئی مذاہب کا ہوا۔ اصل فلسفہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور مقامی کلچر اس پر ایسے سوار ہو جاتا ہے جیسے شادی میں پکتی دیگوں کے گرد محلے کے بچے۔ فیمن ازم آیا تھا عورت کے حقوق کی بات کرنے، یہاں پہنچا تو دو قبیلوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک وہ جو ہر مرد کو پیدائشی ظالم سمجھتا ہے اور دوسرا وہ جو عورت کو ہر فساد کی جڑ قرار دے کر اس کے سر پر روزانہ علامتی گھڑے توڑنے کی مشق کرتا ہے۔ بیچ میں اگر کوئی بندہ یہ کہہ دے کہ بھائی کچھ عورتیں غلط ہوتی ہیں اور کچھ مرد بھی۔ گناہ و بدکاری کا تعلق جنس کے ساتھ نتھی تو نہیں ہوتا، تو دونوں طرف سے ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے انوکھی بات کہہ دی ہو۔
یہاں لوگ دلیل سے زیادہ ڈیجیٹل ڈنڈے پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ کوئی بات کریں، فوراً ایک گروہ نمودار ہوگا۔ وہ آپ کے خلاف مہم چلائے گا، فالوورز کو ٹیگ کرے گا اور پھر کی بورڈ مجاہدین کی فوج آ دھمکے گی۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی اپنی زندگی میں واحد پہچان فیسبک پر دوسروں کو ٹرول کرنا ہوتی ہے۔ ہمارا معاشرہ عجیب نفسیات کا شکار ہے۔ یہاں ہر شخص دوسرے کو نیچے دھکیل کر اوپر چڑھنا چاہتا ہے مگر ساتھ ہی اخلاقیات پر لیکچر بھی دیتا ہے۔ ہر صاحبِ دستار اپنی دستار بچانے میں لگا ہے۔ بنام مذہب، ذات برادری، فیمن ازم، سیاست اور ادب گروپس بنے ہیں لیکن یہ سب گروپس اب گروپ نہیں رہے، باقاعدہ غول بن چکے ہیں اور غول کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ سوچتا کم اور غراتا زیادہ ہے۔
سوشل میڈیا پر خواتین کے حقوق کے نام پر کچھ لوگ اتنا شور مچا چکے ہیں کہ اب کئی سنجیدہ مسائل بھی "وومن کارڈ" اور "مین کارڈ" کے درمیان پھنس جاتے ہیں۔ دوسری طرف ردعمل میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو چکا ہے جس کے نزدیک دنیا کی ہر خرابی کا آغاز عورت سے ہوتا ہے۔ اس معاشرے میں اب کسی بھی موضوع پر بات کرکے دیکھ لیجیے۔ لسانی گروہ ناراض، مذہبی گروہ مشتعل، سیاسی گروہ متحرک، علاقائی گروہ بپھرا ہوا اور جنس کے ناموس کی خاطر بنا گروہ خفا ملے گا۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہی سب لوگ پھر اکٹھے ہو کر ریاستی اداروں کو آزادی اظہار کا دشمن قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ کرپشن ریڑھی والے سے شروع ہوتی ہے مگر گالی صرف حکمران کھاتا ہے۔ جھوٹ چھوٹے کاروبار سے جنم لیتا ہے اور کوسا سیاستدان جاتا ہے۔ خاندان کے اندر بدتمیزی، دھوکہ، جائیداد پر قبضہ اور ایک دوسرے کی عزت اچھالنے کا کام ہم خود کرتے ہیں مگر الزام منبر کو دیتے ہیں۔
خون جلانے، کڑھنے اور انگلیاں گھسانے کے بعد سمجھ آیا کہ یہاں لکھنے والا شخص دراصل بارودی سرنگوں کے میدان میں واک کر رہا ہوتا ہے۔ کچھ لکھو تو ایک گروہ دشمن بن جاتا ہے، خاموش رہو تو دوسرا گروہ بزدل قرار دے دیتا ہے۔ یہاں گونگا آدمی اپنی عزت نہیں بچا پاتا، بولنے والا کیا خاک بچے گا۔
اور پھر شہرت۔۔ یہ بڑی ظالم چیز ہے۔ پہلے انسان سوچتا ہے، پھر بولتا ہے۔ لیکن مشہور آدمی پہلے خوفزدہ ہوتا ہے، پھر سوچتا ہے کہ بولنا بھی ہے یا نہیں۔ شہرت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان سے اس کی سوچ، اس کے بے ساختہ پن اور اس کی آواز پر پہرے بٹھانے لگتی ہے۔ معاشرے میں ایک جانا مانا شخص ہزار گنا زیادہ خطرات میں ہوتا ہے بہ نسبت ایک غیر معروف شخص کے اور وہ خطرات کو فیس کر رہا ہوتا ہے اور پھر ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں کچھ معلوم نہیں پڑتا کہ کونسا گروہ، طبقہ یا ریاستی یا غیر ریاستی عناصر آپ کی تاک میں ہیں۔ وہاں شہرت بہت ظالم شے ہے۔ یہ انسان کو مسخ کرکے رکھ دیتی ہے۔ یہی شہرت رفتہ رفتہ انسان کو عقل کُل کی معراج پر لے جاتی ہے۔ جہاں پہنچ کر اسے لگتا ہے اب وہ جو کچھ کہہ دے گا، جو حرکت بھی کرے گا، وہ قبول کی جائے گی۔ اگر قبول نہ بھی کی جائے تو بھی ایک گروہ ایسا ضرور ہوگا جو اسے سراہے گا۔ چنانچہ اپنے بلنڈرز، اپنی کوتاہی اور اپنی لغزش پر ڈٹ جانے کا چلن عام ہوتا جاتا ہے۔
ہمارا معاشرہ اس وقت جس بیماری میں مبتلا ہے اس کا نام اجتماعی بداخلاقی ہے۔ سیاسیات کی قدریں ویسے ہی ناپید ہو چکی تھیں اب سماجیات بھی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ پہلے اختلاف ہوتا تھا، اب حملہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں چھ کروڑ موبائل صارفین ہیں۔ ریڑھی بان سے لے کر بابو تک، طالب علم سے لے کر ریٹائرڈ چاچا تک، سب کے ہاتھ میں ایک ڈیجیٹل ہتھیار موجود ہے۔ انٹرنیٹ نے ہر شخص کو مائیک تھما دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس کے دل میں جو زہر، غصہ، حسد یا محرومی تھی، وہ اب کمنٹ سیکشن میں بہنے لگی ہے۔ سوشل میڈیا نے عام آدمی کو پہلی بار یہ احساس دیا کہ "میں بھی بول سکتا ہوں"۔ مگر المیہ یہ ہوا کہ بولنے کے ساتھ سننے کا ظرف پیدا نہ ہو سکا۔ چنانچہ اب ہر شخص مقرر ہے اور ہر دوسرا شخص دشمن۔ لوگ پہلے پروفائل پکچر دیکھتے ہیں، پھر سیاسی وابستگی اور رائے سے پہلے فرقہ تلاش کرتے ہیں۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اب عام آدمی کو اپنی ساکھ خراب ہونے کا ڈر بھی نہیں رہا۔ کیونکہ معاشرے نے پہلے ہی لاکھوں لوگوں کو اگنور کر رکھا ہے۔ ایک ایسا شخص جسے گھر و دفتر میں اہمیت نہیں ملی، سماج میں شناخت نہیں ملی، اسے جب سوشل میڈیا پر ایک جعلی طاقت ملتی ہے تو وہ اپنی ساری بھڑاس وہیں نکالتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کل اگر دس گالیاں دے بھی دے گا تو کون سا اُس کی پارلیمنٹ کی نشست چلی جائے گی یا کون سا اس کی ساکھ متاثر ہوگی۔ ساکھ تو پہلے ہی قرض پر چل رہی ہوتی ہے۔
معاشی بدحالی نے بھی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی بے یقینی اور گھریلو دباؤ نے لوگوں کے اعصاب ایسے کھوکھلے کر دیے ہیں کہ اب معمولی اختلاف بھی ذاتی جنگ لگتا ہے۔ حسد نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ یہاں دوسروں کی کامیابی بہت سے لوگوں کو اپنی ناکامی محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص تھوڑا سا نمایاں ہو جائے تو لوگ اُس کی بات نہیں، اُس کی ٹانگ کھینچنے بیٹھ جاتے ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ معاشرہ بیمار ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب بیماری کو نارمل سمجھا جانے لگا ہے۔ بداخلاقی کو "کھری بات"، بدتمیزی کو "بیباکی" اور کردار کشی کو "آزادی اظہار" کہا جانے لگا ہے۔
یہاں مسئلہ صرف ریاستی ادارے نہیں مسئلہ پورا سماجی مزاج ہے۔ ہم آزادی اظہار چاہتے ضرور ہیں مگر صرف اپنی۔ دوسرا بولے تو فوراً دل کرتا ہے اس کی زبان پکڑ کر فریز کر دی جائے۔

