کائناتی معمّہ

کائنات کی وسعت اور اس کی مسلسل پھیلتی ہوئی ساخت صدیوں سے انسانی تجسس کا مرکز رہی ہے، مگر جدید فلکیات نے اس راز کو سمجھنے کے لیے جس پیمانے پر تحقیق کی ہے وہ انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ حال ہی میں عالمی ماہرینِ کونیات کے ایک مشترکہ تحقیقی تعاون نے ہبل مستقل (Hubble Constant) کی پیمائش کو پہلے سے کہیں زیادہ درست بنانے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔ اس نئی تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کائنات دراصل کس رفتار سے پھیل رہی ہے اور کیوں موجودہ نظریاتی ماڈلز اور عملی مشاہدات کے نتائج ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
فلکیات دان جب دور دراز کہکشاؤں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ایک واضح رجحان سامنے آتا ہے کہ جتنی دور کوئی کہکشاں زمین سے واقع ہوتی ہے، وہ اتنی ہی زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہوتی ہے۔ اسی تعلق کو ایک عددی قدر کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے جسے ہبل مستقل کہا جاتا ہے۔ یہ قدر نہ صرف کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار ظاہر کرتی ہے بلکہ اسی کی بنیاد پر سائنس دان کائنات کی عمر کا اندازہ بھی لگاتے ہیں، جو موجودہ تحقیق کے مطابق تقریباً 13.8 ارب سال سمجھی جاتی ہے۔
یہ تصور پہلی مرتبہ اس وقت واضح ہوا جب ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے دریافت کیا کہ کہکشائیں جامد نہیں بلکہ ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔ اس مشاہدے نے جدید کونیات کی بنیاد رکھ دی اور اس نظریے کو تقویت ملی کہ کائنات ایک عظیم دھماکے یعنی بگ بینگ کے بعد مسلسل پھیل رہی ہے۔ تاہم بظاہر سادہ نظر آنے والا یہ اصول آج سائنس کے سب سے پیچیدہ معمّوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سائنس دان کائنات کے ابتدائی دور کے مشاہدات اور موجودہ دور کی براہ راست فلکیاتی پیمائشوں کا موازنہ کرتے ہیں۔ ابتدائی کائنات کے ڈیٹا، جو کاسمک مائیکرو ویو بیک گراؤنڈ اور نظریاتی ماڈلز سے حاصل کیا جاتا ہے، ایک خاص رفتارِ پھیلاؤ کی پیش گوئی کرتا ہے، جبکہ قریبی کہکشاؤں اور سپرنووا کے مشاہدات اس سے تقریباً دس فیصد زیادہ رفتار ظاہر کرتے ہیں۔ اس تضاد کو سائنسی دنیا میں "ہبل ٹینشن" کہا جاتا ہے اور یہ فرق شماریاتی اعتبار سے اتنا بڑا ہے کہ اسے محض تجرباتی غلطی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف پیمائشی طریقے استعمال کیے گئے، مگر ہر طریقہ اپنی الگ کیلِبریشن اور فاصلے کے پیمانوں پر انحصار کرتا تھا۔ نتیجتاً مختلف تحقیقی گروپس کے نتائج قریب ہونے کے باوجود مکمل طور پر یکساں نہیں تھے۔ اسی مشکل کو دور کرنے کے لیے عالمی سطح پر ماہرین نے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی اور انٹرنیشنل اسپیس سائنس انسٹیٹیوٹ، برن (سوئٹزرلینڈ) میں ایک خصوصی ورکشاپ منعقد کی گئی جہاں اس شعبے کے تقریباً تمام نمایاں ماہرین کو مدعو کیا گیا۔
اس تعاون کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مختلف پیمائشی طریقوں میں مشترکہ عناصر کی نشاندہی کی جائے اور ایسے عوامل الگ کیے جائیں جو ایک دوسرے سے آزاد ہوں۔ اس کے بعد ایک جامع شماریاتی فریم ورک تیار کیا گیا جس کے ذریعے تمام پیمائشوں کو یکجا کرکے ایک متفقہ قدر حاصل کی جا سکے۔ اس تحقیق میں ایڈم ریس اور دیگر ممتاز ماہرین نے اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے واضح کیا کہ مقصد صرف ایک عدد حاصل کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ نتیجہ مختلف طریقوں کے باوجود قابل اعتماد رہے۔
نتیجہ حیران کن حد تک واضح تھا۔ نئی مشترکہ پیمائش نے پہلی مرتبہ تقریباً ایک فیصد درستگی حاصل کر لی، جو اب تک کی سب سے زیادہ درست قدر سمجھی جا رہی ہے۔ مزید اہم بات یہ سامنے آئی کہ اگر کسی ایک پیمائشی طریقے کو مکمل طور پر الگ بھی کر دیا جائے تو بھی حاصل ہونے والی قدر تقریباً تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب ہے کہ نتیجہ کسی ایک تکنیک پر منحصر نہیں بلکہ مجموعی سائنسی اتفاقِ رائے کی نمائندگی کرتا ہے۔
تاہم اس پیش رفت نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے اسے مزید گہرا کر دیا ہے۔ بہتر درستگی کے باوجود ابتدائی کائنات کے نظریاتی ماڈلز اور موجودہ مشاہدات کے درمیان فرق بدستور برقرار ہے بلکہ اب زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ یہ صورتحال سائنس دانوں کو اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ شاید موجودہ کونیاتی ماڈل میں کوئی بنیادی کمی موجود ہے یا پھر کائنات میں کوئی ایسا نامعلوم طبعی مظہر کارفرما ہے جسے ابھی تک سمجھا نہیں جا سکا۔
ممکنہ وضاحتوں میں نئی اقسام کے ذرات، تاریک توانائی کے مختلف رویے، یا کائنات کے ابتدائی دور میں طبیعی قوانین کی مختلف حالتیں شامل کی جا رہی ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ شاید فاصلے ناپنے کے روایتی پیمانے، جیسے سپرنووا کو "معیاری شمع" سمجھنا، مکمل طور پر درست نہ ہوں۔ دیگر سائنس دانوں کے نزدیک یہ تضاد نئی طبیعیات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے جو موجودہ نظریات سے آگے نکلنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اس تحقیق کی اہمیت صرف ایک عدد کی درستگی تک محدود نہیں بلکہ یہ جدید کونیات کے بنیادی سوالات کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہے۔ اگر ہبل ٹینشن برقرار رہتی ہے تو ممکن ہے کہ سائنس دانوں کو کائنات کے ارتقا، تاریک مادے اور تاریک توانائی کے بارے میں اپنے نظریات پر نظر ثانی کرنا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نئے نتیجے کو کائنات کے سب سے بڑے سائنسی معمّوں میں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کو امید ہے کہ آئندہ خلائی دوربینوں، کششِ ثقل کی عدسہ بندی کے مشاہدات اور مزید جدید شماریاتی ماڈلز کے ذریعے اس تضاد کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔ اگر ایسا ہوگیا تو انسان نہ صرف یہ بہتر انداز میں جان سکے گا کہ کائنات کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے بلکہ یہ بھی سمجھ سکے گا کہ اس عظیم کائناتی سفر کا آغاز کیسے ہوا اور مستقبل میں اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔

