1.  Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Galiyan Aur Thapar Hi Bantay Hain

Galiyan Aur Thapar Hi Bantay Hain

الیکٹرانک میڈیا نے صحافت کو ایک نیا اور عجیب رنگ دے دیا ہے بلکہ پرانے اور معروف معنوں میں حقیقی صحافت رہی ہی نہیں جس میں صحافی خبروں کی کھوج لگاتا تھا، اس کے پاس دو آپشن ہوتے تھے، ایک معمول کی کوریج اور دوسرے ایکسکلوسوز کی تلاش۔ وہ دس، گیارہ بجے گھر سے نکلتا تھا، دفتر میں میٹنگ اٹینڈ کرتا تھا اوراس کے بعد بیٹ میں چلا جاتا تھا، لوگوں سے ملتا تھا، حالات جانتا تھا اور رات کو خبریں فائل کر دیتا تھا اور اسی دوران بیچ میں اپنے دوسرے کام بھی نمٹا لیتا تھامگر الیکٹرانک میڈیا نے رپورٹر کا کا م بدل دیا کہ اب اسے بہرصورت ڈیوٹی پر ہونا ہے اور یوں بہت سارے چینلز میں آٹھ یا نو گھنٹے ڈیوٹی کو رواج بنا لیا گیا جو ایک طرح سے مجبوری بھی تھی کہ کوئی بھی انسان چوبیس گھنٹے کام نہیں کر سکتا، اگر دو چار روز کر لے تو سمجھ جائیں کہ وہ اگلے کئی روز غائب رہے گا۔

رپورٹنگ خبروں سے نکل کر بیپرز پر چلی گئی اور رپورٹر کو فائدہ یہ ہوا کہ اب وہ روٹین کی کوریج پر بھی ایکسکلوسو کی طرح اپنا چہرہ دکھا سکتا ہے، مشہور ہوسکتا ہے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ہم میں سے بہت ساروں کے لئے رپورٹنگ کلیریکل جاب جیسی ہو گئی جبکہ کلرک کو تو آٹھ گھنٹے دفتر میں بیٹھنا پڑتا ہے لیکن رپورٹر کو سڑکوں پر بھی کھڑے ہونا پڑ سکتا ہے۔ مثال اس کی یوں ہے کہ اگر جاتی امرا میں نواز لیگ کا اجلاس ہو رہا ہے تو رپورٹر کی ڈیوٹی ہے کہ وہ اجلا س شروع ہونے سے پہلے وہاں پہنچے، ہر آنے والے کانام دفتر بتائے، اپنا منہ اور مائیک اس کی گاڑی میں گھسا کر بات کرنے کی کوشش کرے اور پھر گھنٹوں وہاں اجلاس ختم ہونے اور بریفنگ کا انتظار کرے۔ اگر اس کے کچھ سورسز ہوں تو اندر کی بات بھی باہر نکالے جبکہ پہلے یہ ڈیوٹی صرف اجلاس کے بعد کی ہوا کرتی تھی۔ بہت ساری صورتوں میں الیکٹرانک میڈیا کارپورٹر، رپورٹر نہیں رہا اسٹینو گرافر بن کر رہ گیا ہے۔

ایک دلچسپ مسئلہ اور پیدا ہو گیا ہے کہ چینلوں کی بھرمار ہے، ہر چینل میں سیاست اور جرائم کے بالخصوص کئی کئی رپورٹر ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اب بہت سارے سیاستدان یا پولیس افسران رپورٹروں کو پہچانتے تک نہیں، بھائی منطقی بات ہے، دو عشرے قبل دو چار بڑے اخبار اور اتنی ہی نیوز ایجنسیاں ہوا کرتی تھیں مگر اب اخبارات کو تو رہنے ہی دیجئے، چینل ہی اتنے ہو گئے ہیں کہ رپورٹر خود رپورٹروں کو نہیں پہچانتے، دوسرے کیا پہچانیں گے۔ بھیڑ اتنی ہو گئی ہے کہ ایک اچھی پریس کانفرنس کا خرچہ چھوٹے موٹے ولیمے جتنا ہی ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد یوٹیوبرزنے انت مچا دی ہے، ایسی ایسی بے پرکی چھوڑتے ہیں کہ جرنلزم اب کچھ فکشن ٹائپ لگنے لگی ہے کہ آپ کتنا اچھا تصور کر سکتے ہیں، آپ جو تصور کر لیتے ہیں وہ آپ کے مطابق بریکنگ نیوز ہوجاتی ہے، اندر کی بات ہوجاتی ہے۔  

الیکٹرانک میڈیا نے رپورٹنگ کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ کرنٹ افئیرز کے پروگراموں کو بھی مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ آپ اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کے پروگراموں پر تنقید کرتے ہیں مگر آپ اس اینکر اور پروڈیوسر کی مجبوریاں اور مسائل نہیں سمجھ سکتے جو کسی بڑے نیوز چینل میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہفتے میں تین سے پانچ دن اپنے سٹوڈیو میں معروف چہروں کو دعوت دیں تاکہ آپ اپنے گھروں میں ریموٹ پکڑ کر بیٹھے ہوں تو ان کی بات سننے کے لئے ٹھہر جائیں مگر ایسے مہمان تعداد میں کم ہیں اور بڑے چینلز زیادہ ہیں اور پھر اس کے بعد ایک ایک چینل پر ایک ایک روز میں تین تین اور چار چار کرنٹ افئیرز کے پروگرام ہیں سو مہمانوں کے اپنے نخرے ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ مہمان پہلے فائنل کر لئے جاتے ہیں اور ٹاپک بعد میں سوچا جاتا ہے۔

یہ کوئی عیاشی نہیں بلکہ مجبوری ہے کہ پچاس، ساٹھ میں گنتی کے دوچار پروگرام ہی ایسے ہوں گے جن میں مہمانوں کا تعین ٹاپک کے مطابق کیا جاتا ہو گا ورنہ ایک روز قبل ایک چینل کے پرائم ٹائم شو میں جب ایک خاتون سیاستدا ن نے مخالف پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کوتھپڑ مارا، اسے کتے کا بچہ کہا تو اس کا موضوع لوڈ شیڈنگ تھا اور وہ ٹرین کے حادثے کو ڈسکس کر رہے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس پروگرام کے تینوں شرکا، جن میں فردوس عاشق اعوان، عبدالقادر مندوخیل اور ازما زاہد بخاری شامل تھیں، میں سے کون پاور جنریشن کا ایکسپرٹ تھا اور ان میں سے کون ٹرین آپریشن کو سمجھتا تھا سو یہ بات طے شدہ تھی کہ پروگرام میں بونگیاں اور یوویلیاں ہی ماری جائیں گی سو وہ بونگیاں اور یوویلیاں آگے بڑھ کے گالیوں اور چپیڑوں میں بدل گئیں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔ مان لیجئے کہ ہم غیر معمولی طور پر سیاست زدہ ہوچکے، لوڈ شیڈنگ اورٹرین حادثے کے سنجیدہ مسائل کو بھی سیاست کی نظر سے دیکھا اور ڈسکس کیا جاتاہے جو کسی طور پر بھی جرنلزم تو کیا عقل اور منطق کے تقاضوں پر بھی پورا نہیں اترتا۔

ان تینوں شرکا کو ان دونوں شعبوں کے بنیادی اعداد و شمار کا بھی علم نہیں ہو گا مگرپروگرام کی مجبوری یہ تھی کہ یہ دونوں خواتین پروگراموں کی ایکسپرٹ ہیں اور تیسرا بے چارہ نووارد باپ کو کتے کی گالی پڑوا اور خود تھپڑ کھا کر چلا گیا، آہ، یہاں اینکرز کی بھی بات کر لی جائے کہ ان میں سے کتنوں نے رپورٹنگ کی ہے، کتنوں نے سب ایڈیٹنگ اور ایڈیٹری میں دماغ کھپایا ہے لیکن اگر آپ کے مالکان کے ساتھ تعلقات ا چھے ہیں اور آپ کرنٹ افئیرز یا مارننگ شوز کے نام پر بھی اچھا ڈراما کر لیتے ہیں تو آپ اینکر بن سکتے ہیں۔ کبھی کالم نگاری صحافت کی انتہا ہوتی تھی جس میں پروفیشنل جرنلزم کے ساتھ ساتھ ادب کا تڑکا بھی ہوتا تھا اور یہی بات اینکرنگ کے بارے ہونی چاہئے تھی۔

ٹی وی چینلز میں ریٹنگ کی دوڑ ہے اور ریٹنگز کا مطلب ہے کہ آپ عوام چینل کوکتنا دیکھتے ہیں۔ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اگر یہاں پاور جنریشن کے حوالے سے ماہرین یا ریلوے کو چلانے والے بیٹھے ہوتے تو آپ کبھی پروگرام نہ دیکھتے سو اس خرابی کی جڑ میں آپ بھی ہیں جو اس قسم کے کانٹینٹ کو سنتے ہیں، دیکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ جب آپ ایسے عنوانات کو ایسے مہمانوں کے ساتھ قبولیت بخشتے ہیں اور اشتہارات دینے والے سمجھتے ہیں کہ انہیں یہاں سے ہی رسپانس ملے گا سو خرابیوں اور برائیوں کی ایک زنجیر بن جاتی ہے جس کی پہلی کڑی خود عوام ہوتے ہیں، دوسری پر وہ بے چارا اینکر اور پروڈیوسر ہوتا ہے جس کی ملازمت ہی اچھی ریٹنگ ہے، اچھا پروگرام نہیں اور تیسری کڑی مجبور مالکان کی ہے جنہوں نے بہرحال کروڑوں روپوں کے ماہانہ اخراجات کو پورا کرنا ہے۔ سو جب تک آپ فردوس عاشق اعوان، قادر مندوخیل اور عظمیٰ بخاری کو پاور جنریشن اور ٹرین آپریشن کا ایکسپرٹ سمجھتے رہیں تب تک ڈسکشن کے نام پر بے معنی فضول تکرارپر مبنی شوروغل سے لے کر گالیاں اور تھپڑ آپ کو جرنلزم کے نام پر دکھائے جاتے رہیں گے۔

Check Also

Meter Down Aakhir Kab Tak?

By Asif Afan