Mausam e Sarma Aur Garm Garm Kamre
موسمِ سرما اور گرم گرم کمرے

وطن عزیز میں موسم سرما عروج پر ہے۔ بیشک ان کھلی دہشت سے کپکپاتے مہینوں میں ہیٹر اور گیزر ہی بقائے انسانی حیات ہے۔ مسمی چھیل کر انجانے میں یونہی منہ میں ڈالی تو دانت سن ہو گئے۔ پھر باقی ماندہ مسمی کو ہیٹر کے آگے رکھا، ان کی ٹھار ٹوٹی تو گرما گرم کھائی۔ اختلافات اپنی جگہ لیکن یہ ماننا پڑے گا جب سے وزیر ماحولیات زرتاج گل رخصت ہوئی ہیں ہمارے موسم شدید ہو چکے ہیں۔
اس موسم میں دھند جہاں سڑکوں پر حادثات کا باعث بنتی ہے وہیں فیسبک پر بھی اتنی شدید پڑ جاتی ہے کہ اکثر مرد حضرات دھند میں رستہ بھول کر خواتین کی پوسٹس پر چلے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز ایک کام کے سلسلے میں شاہ عالمی مارکیٹ جانا ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ہول سیل کا کاروبار کرنے والے وہ شیخ صاحبان جو پہلے گاہک کو روکھے سوکھے انداز میں ملا کرتے تھے ان سب نے اپنی لوہے کی کرسی کے نیچے چولہا لگوا لیا ہے اور ہر آنے والے کو بیٹھے بیٹھے مگر انتہائی گرمجوشی سے مل رہے ہیں۔
سردیوں میں نہانا بھی ایک مشن ہوتا ہے۔ گھنٹہ پہلے ذہن کو ریڈی کرنا پڑتا ہے پھر آہستہ آہستہ ہمت جٹانا پڑتی ہے اور جب وہ سرد لمحہ آ جاتا ہے کہ پانی آپ کے سر پر سے گزر جانا چاہتا ہے اس لمحے ایسی کپکپی طاری ہوتی ہے جیسے رعشہ کا مریض کانپے ہے۔ نہانے کے بعد اور کپڑے زیب تن کرنے کے بیچ کے چند لمحات گلیشئر پر گزارے گھنٹوں کی طرح لگتے ہیں۔ گرم پانی سے نہانے کے بعد، کپڑے پہن کر جیکٹ بند کرکے، ہیٹر کے آگے بیٹھ کر بھی آدھ گھنٹہ تو انسان کا وجود یوں رہتا ہے جیسے خلا میں معلق ہو اور دانت بجتے رہتے ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ زندگی لوٹنے لگتی ہے۔ یہ سُسری سردی لگنے کا سب سے ٹھنڈا مقام واش روم ہوتا ہے۔ آپ چاہے سیاچن پر کھڑے ہوں، وہاں اتنی سردی نہیں لگے گی جتنی سیاچن کی لیٹرین میں لگے گی۔ کامن سینس کی بات ہے کہ اس انتہائی اہم مقام پر پہنچ کر انسان کے اکثر سینسرز ننگے ہو جاتے ہیں۔ بنی نوع انسان آج تک کمرے ہی گرم آتی ہے جبکہ گرم کرنے کا جائز مقام تو واش روم ہے۔
میرا ایک جیپ ڈرائیور عباس جس کے ساتھ میں نے گلگت بلتستان کے کئی سفر کیے وہ شمال کی وادی استور سے تعلق رکھتا ہے۔ پہلی بار پنجاب آیا۔ راولپنڈی پیر ودھائی اڈے پر گاڑی نے اتارا تو اسے آواز سنائی دی "گرم گرم کمرے، صرف دو ہزار روپے"۔۔ سردیوں کے دن تھے۔ اس نے بندے سے بات کی اور رات گزارنے اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ بندہ اسے لے کر گندی سی سیڑھیاں چڑھ کر گندے سے کمرے میں لے گیا۔ ابھی وہ کمرے میں بیٹھا ہی تھا کہ ایک ادھیڑ عمر خاتون کمرے میں آئی اور اس نے اندر سے کنڈی لگا لی۔ ڈرائیور نے گھبرا کے کہا کہ مس یہ آپ کا کمرے نہیں ہے۔ مس بولی " اے زیادہ ٹیں ٹیں نہ کر! اتنا تو سائیں معصوم اور کیا کرنے آیا ہے یہاں" گرم گرم کمرے" میں؟
بہر حال وہ تو جیسے تیسے کرکے بھاگ نکلا مگر اب جب بھی مری و گلیات سے گزرتے وہ ایسی آوازیں سنتا ہے تو ڈر جاتا ہے اور میں جب بیگم کی آواز سنتا ہوں "پانی گرم آ رہا ہے نہا لیں" تو میں بھی ڈر جاتا ہوں۔
سرما عروج پر آتے ہی ہمارے ہاں گیس غائب ہو جاتی ہے۔ گیس کی عدم دستیابی نے اتنا تنگ نہیں کیا جتنا بیگم نے گیس نہ آنے کے سبب کیا۔ رات آٹھ کے بعد چائے بنانے کا کہو تو گیس نہیں، نہانا چاہو تو گیزر ٹھنڈا ٹھار۔ آخر تنگ آ کر میں الیکٹرک چولہا اور الیکٹرک گیزر لے آیا اور اب مجھے بجلی کا بل تنگ کرنے لگا ہے۔ جن کے گھر گیس آ رہی ہے وہ مجھے انفالو کر دیں۔ بس کوئی بحث نہیں۔

