Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Gymkhana Bahawalpur Ke Intikhabat

Gymkhana Bahawalpur Ke Intikhabat

جمخانہ بہاولپور کے انتخابات

جم خانہ دراصل ایک عمارت نہیں بلکہ ایک تصور ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں شہر کی اشرافیہ کی تھکن اتارنے کا انتظام کیا جاتا ہے پورے دن کی مصروفیت کے بعد چند خوشگوار لمحے میسر آتے ہیں۔ جہاں گفتگو شور نہیں بنتی اور وقت ذرا آہستہ چلنے لگتا ہے۔ تاریخ میں جم خانہ تفریح، صحت، میل جول اور تہذیبی شائستگی کی علامت رہا ہے۔ یہ ایسا سماجی ادارہ ہے جو مصروف زندگی میں توازن پیدا کرنے کے لیے وجود میں آیا۔ شہر کی مرکزی جگہ پر واقع بہاولپور جم خانہ کی ایک طویل تاریخ ہے جسے ریاست بہاولپور کےعظیم نوابین نے بہاول کلب کے نام سے قائم کیا تھا اور مقصد صرف مخصوصاور ایلیٹ طبقہ کو مختلف آوٹ ڈور اور ان ڈور کھیلوں کی تفریح فراہم کرنا تھا۔ اسی لیے بہاول کلب سے بیڈ منٹن کے عالمی سطح کے کھلاڑی پیدا ہوئے۔

میرے بینک کے ساتھی حسن الرحمان لودھی تو بیڈمنٹن کے عالمی ایمپائر بھی رہے۔ مگر بدلتے وقت اور جدید تصورات کے ساتھ ساتھ یہ بہاول کلب سے بہاولپور جم خانہ بن گیا اور وقت اور جدید ضروریات کی باعث ہی جم خانے کا تصور اور کردار بھی بدلتا گیا۔ کھیل کے میدان آہستہ آہستہ گفتگو کے کمروں میں بدل گئے اور صحت مند سرگرمیوں کی جگہ اثر و رسوخ کا نشان بن گئی۔ بہر حال کسی بھی شہر کا جم خانہ وہاں کی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے اور شناخت بھی سمجھا جاتا ہے۔ آج بہاولپور جم خانہ صرف آرام گاہ یا صحت گاہ ی نہیں رہا بلکہ یہ علاقائی شناخت کی علامت بھی بن گیا۔ ایک ایسا مہنگا دائرہ جس میں داخلہ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا لیکن اس کی خواہش اور خواب ضرور دیکھا جاتا ہے۔

پچھلے کئی ماہ سے بہاولپور جم خانہ کے انتخابات کا شور برپا رہا ہے بھاگ دوڑ اور جوڑ توڑ کی ایک ریس سی لگی رہی۔ کہتے ہیں کہ جب سیاست میں کچھ کرنے کے مواقع نہ ہوں تو سیاستدان اپنا رخ اور اپنی مصرو فیت انجمن تاجران، چیمبر آف کامرس، پریس کلب اور جم خانہ جیسے اداروں کی سیاست میں موڑ دیتے ہیں۔ یہی اس الیکشن کے دوران دیکھا گیا کہ اس الیکشن کو تقریباََ تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے اپنی اپنی مقبولیت اور اپنا اپنا اثر رسوخ دکھانے کو موقع سمجھا اور جم خانے کے الیکشن کی گہما گہمی کسی بھی بڑے الیکشن سے کم محسوس نہ ہوتی تھی۔ یہ الیکشن بڑی تلخیوں، مکالموں اور باہمی تکرارپر گذشتہ روز اختتام پذیر ہوا اور جیتنے والے وکٹری کا نشان بناتے جشن مناتے دکھائی دیتے ہیں۔

عوامی سیاسی رہنما اشرافیہ کا حصہ بنے اور اسے اپنی اپنی سیاسی شخصیت اور سیاسی سوچ کی کامیابی سمجھتے ہیں۔ چوہدری وحید ارشد کی کامیابی یقیناََ ایک اچھی روایت ثابت ہوگی ان کی جیت میں ان کی سیاسی وابستگی کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت، ذاتی تعلق اور ملنساری کا بھی بڑا دخل دکھائی دیتا ہے۔ بہر حال ان سمیت تمام جیتنے والوں کو بہت بہت مبارک ہو کہ ان کی شخصیت اور سوچ کو پسند کیا گیا ہے اور امید ہے کہ کامیاب عہدیداران اس جم خانہ کی بہتری کے لیے اپنے وعدوں کو ضرور پورا کریں گے۔ آج ہر جیتنے والی سیاسی جماعت اسے اپنی کامیابی اور مقبولیت سمجھتی ہے۔ جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے یہ الیکشن ایک بہت ہی مخصوص طبقہ کے ووٹوں پر لڑا گیا ہے جہاں صرف سیاسی وابستگی کو ہی نہیں بلکہ ذاتی سوچ اور شخصیت کو بھی معیار بنایا گیا ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ اسے سیاست سے الگ رکھ کر ہی سوچا جاتا۔

آج ہماری علاقائی سیاست ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عوامی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں مگر سیاسی سرگرمیوں کا رخ بسا اوقات ان میدانوں کی طرف مڑ جاتا ہے جہاں ہجوم کم اور شور زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے میں بہاولپور جم خانہ کے انتخابات کو غیر معمولی اہمیت دینا بھی اسی رجحان کی ایک مثال ہے۔ بہاولپور جم خانہ کے حالیہ انتخابات میں نامور سیاستدانوں کی شرکت نے یقیناََ اس سرگرمی کو اہم خبروں کا حصہ بنادیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس سیاسی دلچسپی کا فائدہ عام آدمی کو کہاں پہنچتا ہے؟

جم خانہ ایک معزز سماجی ادارہ ضرور ہے مگر اس کے انتخابات نہ مہنگائی کم کرتے ہیں اور نہ روزگار کے مواقع بڑھاتے ہیں اور نہ ہی عوام کے روزمرہ مسائل میں کوئی آسانی پیدا کرتے ہیں۔ عام شہری کی ترجیحات سادہ اور واضح ہیں کہ اسے سستی روٹی، بہتر علاج، معیاری تعلیم اور باعزت روزگار چاہیے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ سیاست کا محور و مرکز کلبوں اور محدود حلقوں تک سمٹ رہا ہے تو اس کے دل میں یہ احساس گہرا ہوجاتا ہے کہ شاید اب اس کی زندگی کے مسائل سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب بہاولپور جم خانہ اور اس کےیہ کامیاب عہدیدار اس شہر کی ترقی اور فلاح کے لیے کیا خدمات انجام دیتے ہیں؟

یہ شہر آج عجیب سی خاموشی اوڑھے ہوئے ہے۔ گلیوں میں مہنگائی کی دھول ہے، دروازوں پر بےیقینی کی دستک اور آنکھوں میں ٹریفک قوانین کا خوف تو پیرا فورس کے سوالوں کی لمبی قطار مگر شہر کے ایک کونے میں سبزگھانس تراشی جارہی ہے، سبز لان ہموار ہیں اور قہقہوں کی گونج میں ووٹ ڈالے اور گنے گئے ہیں شاید اسے ہی جم خانہ کہتے ہیں۔ جم خانہ الیکشن کو مقبولیت کا پیمانہ سمجھنا سیاست کے دائرے کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ اصل مقبولیت گلیوں، محلوں، دیہاتوں اور شہروں کے مسائل حل کرنے سے ہی ناپی جاسکتی ہے۔ جہاں لوگ روزمرہ کی جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں اور وہ سیاسی قیادت سے محض وعدے نہیں سہارے چاہتے ہیں۔ اگر سیاست کو واقعی عوامی بنانا ہے تو ان اداروں تک محدود رہنے کی بجائے دوبارہ عام عوام کے درمیان آنا ہوگا۔

اداروں اور کلبوں کی فضا خوشگوار ہو سکتی ہے مگر قوموں کا مستقبل لان اور ہال میں نہیں ہوتا بلکہ عوام کے دکھ درد کو سمجھنے اور بانٹنے سے سنورتا ہے۔ سیاستدان جتنی جلدی اس حقیقت کو تسلیم کرلیں اتنا ہی اچھا ہے جو یقیناََ ہماری سیاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ کم کر سکتا ہے۔ جم خانے کا حقیقی کردار تب ہی بحال ہوتا ہے جب وہ اپنے شہر سے جڑ جائے خود کو جم خانہ یا کلب نہیں بلکہ خدمت کا حصہ سمجھے اور تفریق کی بجاےتعلق کا استعارہ بنے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

یقینا یہ فیصلہ جم خانہ کی نئی اور پرعزم قیادت نے کرنا ہے کہ تمام تر وابستگیوں سے بالا تر ہوکر اس شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے کیا اور کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں؟ یاد رہے کہ جم خانے گلیوں کے مسائل حل نہیں کرسکتے مگر جم خانہ کیونکہ مکالمے کی جگہ ہے اس لیے گلیوں کی آواز ایوانوں اور ارباب اختیار تک پہنچا سکتا ہے اور کبھی کبھی مسئلے کا حل یہی ہوتا ہے کہ آواز درست جگہ تک پہنچ جائے۔ جم خانہ ایک اچھی علامت بن سکتا ہے اگر وہ بند دروازئے کی بجائے کھڑکی بن جائے اور وہاں سے فیصلے نہیں خدمت کی ہوا آئے۔

Check Also

Trump Ko Nobel Award Dena Kyun Zaroori Hai?

By Muhammad Riaz