Sardi Phir Jeet Gai, Taleem Phir Haar Gai
سردی پھر جیت گئی، تعلیم پھر ہار گئی

یہ جملہ شاید کسی نوٹیفکیشن کا حصہ نہ ہو، مگر حقیقت کی ترجمانی ضرور کرتا ہے۔ ایک بار پھر سکول بند ہیں، بستے الماریوں میں قید ہیں اور بچے گھروں میں "چھٹیوں" کے نام پر ایک ایسی آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جس کی قیمت انہیں آنے والے برسوں میں چکانا پڑے گی۔
سردی واقعی سخت ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ خشک موسم، بارشوں کی کمی، بڑھتی ہوئی بیماریاں اور پنجاب کے کئی علاقوں میں دھند کا وہ عالم کہ صبح کے وقت سامنے کھڑا شخص بھی نظر نہ آئے۔ ایسے میں حکومت کا یہ کہنا کہ بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے سکول بند کیے گئے، بظاہر ایک ہمدردانہ فیصلہ لگتا ہے اور ہونا بھی چاہیے، بچوں کی صحت اہم ہے۔ لیکن سوال نیت پر نہیں، طریقۂ کار پر ہے۔
ہر سال یہی منظر ہوتا ہے۔ دسمبر آتے ہی تعلیمی ادارے ایک غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ کبھی افواہ، کبھی "ذرائع"، کبھی سوشل میڈیا پوسٹ اور پھر اچانک ایک نوٹیفکیشن۔ سکول بند۔ یوں لگتا ہے جیسے جنوری ہر سال ہمیں اچانک آ لیتی ہے، جیسے سردی کوئی غیر متوقع قدرتی آفت ہو جس کے لیے پیشگی منصوبہ بندی ممکن ہی نہ ہو۔
حقیقت مگر یہ ہے کہ جنوری ہمیشہ جنوری ہی ہوتی ہے۔ اس کی سردی، اس کی دھند، اس کی شدت، سب کچھ پہلے سے معلوم ہوتا ہے۔ پھر بھی ہم ہر سال اسی موڑ پر آ کر وہی فیصلہ کرتے ہیں جو سب سے آسان ہوتا ہے: چھٹیاں۔
جن سکولوں میں ہفتہ اور اتوار کی چھٹی ہوتی ہے، وہاں بیس دسمبر آخری تعلیمی دن ثابت ہوا۔ اس کے بعد دی جانے والی چھٹیاں اب انیس جنوری تک پھیل چکی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کم از کم پینتیس سے چالیس دن سکول بند۔ یہ صرف چھٹیاں نہیں، یہ تعلیمی خلا ہے اور یہ خلا خاموشی سے پورا نظام نگل جاتا ہے۔
ایک تعلیمی سال میں کم از کم ایک سو اسی دن پڑھائی کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ لیکن کیا ہمیں یاد ہے کہ آخری بار یہ دن کب پورے ہوئے تھے؟ شاید کورونا سے پہلے بھی نہیں۔ کبھی وبا، کبھی سیاست، کبھی موسم، کبھی حالات۔ ہم نے معمول بنا لیا ہے کہ آدھے سال میں پورے سال کا نصاب پڑھا دیا جائے اور پھر اسی رفتار سے امتحانات بھی لے لیے جائیں۔ نتیجہ؟ رٹے ہوئے بچے، الجھے ہوئے ذہن اور تعلیم سے بیزار نسل۔
ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے تعلیم کو ایک ادارے کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ سکول کھلا تو تعلیم ہے، سکول بند تو تعلیم بھی بند۔ گھروں میں مطالعے کا ماحول نہ ہونے کے برابر ہے۔ بچے خود سے پڑھنے کے عادی نہیں، والدین خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں اور نتیجتاً سکول بند ہوتے ہی اکیڈمیز، ٹیوشنز اور تمام تعلیمی سرگرمیاں بھی بند ہو جاتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ چھٹیوں میں بچے کتابوں کے بجائے بازاروں، موبائل اسکرینز اور شادی ہالز میں نظر آتے ہیں۔ مائیں بچوں کو لے کر مہکوں میں گھوم رہی ہیں اور والدین بھی سہولت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ "چھٹی ہے نا"، یہ جملہ اب تعلیم کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی چھٹیاں ہی واحد حل تھیں؟ کیا کوئی درمیانی راستہ ممکن نہیں تھا؟ کیا سکول کے اوقات کار تبدیل نہیں کیے جا سکتے تھے؟ کیا صبح سات یا آٹھ بجے کے بجائے گیارہ بجے سے چار بجے تک سکول لگانا ناممکن تھا؟ کیا آن لائن تعلیم کو جزوی طور پر جاری نہیں رکھا جا سکتا تھا؟ کیا صرف بورڈ کی کلاسز کے لیے ونٹر کیمپس نہیں لگائے جا سکتے تھے؟
دھند کا زور زیادہ تر صبح کے اوقات میں ہوتا ہے۔ دن چڑھتے ہی موسم نسبتاً بہتر ہو جاتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک شدید سردی میں بھی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ وہاں تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے، مجبوری نہیں سمجھا جاتا۔
ہم نے کورونا کے دنوں میں دیکھا کہ جب دباؤ آیا تو آن لائن نظام کھڑا ہوگیا۔ اب وہی نظام کیوں اچانک ناقابلِ عمل ہوگیا؟ کیا مسئلہ وسائل کا ہے یا ارادے کا؟
یہ سب سوال نئے نہیں ہیں، مگر ہر سال ان پر گرد ڈال دی جاتی ہے۔ اس دوران اگر کسی تنظیم نے مسلسل آواز اٹھائی ہے تو وہ نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیم ایپسما ہے۔ ایپسما کی کوششیں اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں، مگر ان کی باتوں میں وزن ہوتا ہے۔
ایپسما کے صدر اور معروف تعلیم دوست شخصیت ابرار احمد خان نے بالکل درست نشاندہی کی کہ تعلیمی سیشن کے اہم ترین مرحلے میں چھٹیاں دینا تعلیم کے ساتھ زیادتی ہے۔ ان کا سوال بھی بالکل برمحل ہے کہ اگر اسلام آباد میں سکول کھلے ہیں تو پنجاب میں مکمل بندش کیوں؟ کیا وہاں موسم مختلف ہے؟ یا وہاں تعلیمی فیصلے کسی اور معیار پر کیے جاتے ہیں؟
اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو ترجیحات کی فہرست میں نیچے دھکیل دیا ہے۔ حکومت کی توجہ اس وقت اس بحث پر مرکوز ہے کہ تیرہ سو فی دن کمانے والا دو ہزار میں کیسے گزارا کرے۔ یہ مسئلہ اپنی جگہ سنگین ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر تعلیم ہی کمزور ہو جائے گی تو آنے والی نسل کمائے گی کیسے؟
تعلیم کوئی اضافی سہولت نہیں، یہ قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو اگر ایک بار ضائع ہو جائے تو دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ سردی چند ہفتوں میں گزر جائے گی، دھند چھٹ جائے گی، مگر جو تعلیمی نقصان ہو رہا ہے، وہ برسوں تک پورا نہیں ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم فیصلے وقتی مقبولیت کے بجائے طویل المدت نتائج کو سامنے رکھ کر کریں۔ بچوں کی صحت بھی ضروری ہے، مگر ان کا مستقبل اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ اگر ہم نے ہر مشکل کا حل صرف "چھٹی" میں تلاش کیا تو پھر ہمیں آنے والی نسلوں سے کسی شکوے کا حق نہیں ہوگا۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں:
تعلیم بند کرنا سب سے آسان فیصلہ ہے، مگر سب سے مہنگی غلطی بھی۔

