Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Modernization Aur Secularization

Modernization Aur Secularization

ماڈرنائزیشن اور سیکولرائزیشن

انسانی معاشرے میں ماڈرنائزیشن اور سیکولرائزیشن دونوں ہی جدیدیت کے مظاہر ہیں۔ ماڈرنائزیشن/ جدیدکاری انسانی عمل کی ہیئت کو تبدیل کر دینے سے عبارت ہے اور اس میں معاشی جہت زیادہ غالب ہے جبکہ سیکولرائزیشن انسانی عمل کی غایت کو تبدیل کرنے کا نام ہے اور اس میں سیاسی جہت غالب ہے۔ ماڈرنائزیشن انسان کے انفرادی، سماجی اور معاشی عمل کی ہیئت کو تبدیل کر دیتی ہے اور یہ تبدیلی ایک نئی زمانیت اور مکانیت کو قائم کرتی ہے۔ یعنی اس پروسث میں انسانی عمل کے زمان و مکاں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ انسانی عمل چونکہ لازماً ایک زمانیت اور مکانیت رکھتا ہے جو فطری ہوتے ہیں اور بروزِ عمل میں ایک منصے (ground/stage) کا کام کرتے ہیں۔

ماڈرنائزیشن انھیں ایک نئے طور پر بدل دیتی ہے اور انسانی عمل میں زماں کی کھپت تیزتر ہو جاتی ہے اور مکاں نئے ابعاد میں پیدا ہوتا ہے۔ ماڈرنائزیشن کے پروسث میں ٹکنالوجی انسانی عمل سے آمیز ہو جاتی ہے جو زمان و مکاں کو ٹکنالوجیائی بنا دیتی ہے۔ ٹکنالوجیائی انسانی عمل زمان کی کھپت (consumption) اور مکاں کی پیداوار (production) سے عبارت ہے اور دونوں فطری نہیں رہتے۔ ماڈرنائزیشن میں سب سے زیادہ اہم جدید معاشی پیداواری عمل ہے۔ انسانی عمل کی ہیئت میں تبدیلی سے اس میں سے نامیاتی پن کم یا غائب ہو جاتا ہے اور میکانکیت غالب آ جاتی ہے اور اس کے مطالعات موجود ہیں اور وہاں اس موضوع کو دیکھ لینا مفید ہو سکتا ہے۔

ماقبل جدیدیت میں بھی انسانی عمل لازمی نفسی انسلاکات رکھتا تھا، کیونکہ عمل انسانی اور نفس انسانی میں تلازمات اولاً موجود ہیں۔ ماڈرنائزیشن میں ان انسلاکات کی نوعیت فطری سے میکانکی کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ جس طرح مجاہدات کے نفسی انتاجات ارادی اور شعوری ہوتے ہیں، اسی طرح جدید ٹکنالوجیائی ہیئتِ عمل کے نفسی ارتسامات غیرشعوری اور جبری ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ماڈرنائزیشن میں انسانی عمل کی ہیئت میں تبدیلی کا لازمی نتیجہ اس کا سیکولر ہونا نہیں ہے۔

انسانی عمل میں ارادہ، غایت، احساسات، حرکت اور قوت داخل ہوتے ہیں۔ لیکن ٹکنالوجی صرف قوت اور حرکت کا اظہار ہے اور یہ ایک blind force کے طور پر کام کرتی ہے۔ انسانی عمل اور ٹکنالوجی کی آمیزگی سے ایک نئی ہیئت جنم لیتی ہے جس میں انسان عمل ٹکنالوجی کی شرائط پر ڈھل جاتا ہے اور انسانی عمل کے روحانی، نفسی اور نامیاتی پہلو زائل ہو جاتے ہیں۔ انسان کا اپنے عمل ہی سے تعلق بدل جاتا ہے۔ فطری طور پر انسان کا عمل ایک مکلف کا عمل اور اس کی ذات کا اظہار ہوتا ہے۔ ٹکنالوجی انسانی عمل کو ہتھیانے کے بعد اس کی نئی تشکیل کرکے خود انسان پر مسلط کر دیتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے کہ ایک بھوت انسان پر مسلط ہو جائے۔ بھوت کی طرح، ٹکنالوجیائی عمل انسان کی ایک نئی انفسی تقویم کر دیتا ہے۔

ماڈرنائزیشن سے ٹکنالوجی غیرمنفک ہے اور یہ عمل پورے معاشرے اور جدید ریاست میں واقع ہوتا ہے اور اس کے اثرات کا نقطۂ ماسکہ نفس انسانی ہے جبکہ سیکولرائزیشن کا ٹکنالوجی سے کوئی تعلق نہیں اور اس کا نقطۂ ماسکہ انسانی شعور اور اس کے معتقدات ہیں۔ ٹکنالوجی value neutral ہے اور یہ امر اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتا ہے جب تک آلہ (tool) اور ٹکنالوجی میں فرق کو اچھی طرح نہ سمجھ لیا جائے۔

ٹکنالوجی صرف سسٹم کے اندر اور سسٹم کے طور پر کام کرتی ہے اور سسٹم جن اجتماعی اقدار/افکار پر قائم ہوتا ہے وہ لازماً انسان پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ مثلاً کار سسٹم میں کام کرنے والی ٹکنالوجی ہے اور اس کا تقویٰ یا غیر تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا، ٹکنالوجی کا براہِ راست اقدار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹکنالوجی چونکہ ایک نئی زمانی اور مکانی تقویم میں کام کرتی ہے، اس لیے یہ نئی تقویم ہی نفسِ انسانی کی فطرت/نوعیت کو تبدیل کر دیتی ہے۔ نفسِ انسانی نامیاتی ہے، جذبات و احساسات کا محل ہے، انسانی رشتوں کی جڑوں کا ظرف ہے۔ سسٹم کے طور پر کام کرنے والی ٹکنالوجی نفس کے ان پہلوؤں کو میکانکی اور بہیمی بنا دیتی ہے۔ جب انسانی عمل ٹکنالوجی سے آمیز ہوتا ہے تو وہ عمل انسان کی آٹونومی کا مظہر نہیں رہتا بلکہ ٹکنالوجی کا آلہ بن کر ذات انسانی سے منفک ہو کر بعد ازاں اس پر تسلط قائم کر لیتا ہے۔

انسان پر ٹکنالوجی کے اثرات کی توسیط زمان و مکاں کی نئی تقویم سے ہوتی ہے۔ اس نئی تقویم کی ہمارے ہاں کوئی سوجھ بوجھ نہیں ہے اور نہ اردو میں اس پر کوئی مباحث موجود ہیں۔ اگر اس نئی تقویم کی درست نظری تفہیم ممکن ہو جائے تو ہی اسے ججمنٹ کے لیے شریعت کے سامنے لایا جا سکتا ہے اور اس کا امکان کم ہے۔ یہاں تو اب وائل حلاق کی رہبری میں نیا اسلام وضع کیا جا رہا ہے، یا نام نہاد علم الکلام کی آڑ میں نیا عقیدہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو جدید ریاست اور سائنس کے جو تھوڑے بہت ثمرات حاصل ہیں ان سے بھی محروم کرنے کی سرتوڑ کوشش ہو رہی ہے۔

سیکولرائزیشن اپنے مقاصد میں سیاسی طور پر زیادہ ریڈیکل ہے اور اس کا محیط کلی ہے۔ اس کا براہِ راست تعلق انسان کے ہر ٹکنالوجیائی اور غیرٹکنالوجیائی عمل کی غایت کو تبدیل کر دینے سے ہے اور یہ صرف عمل تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں انسانی احوال، جذبات، تخیلات وغیرہ سب داخل ہیں کہ وہ بھی سیکولر ہو جائیں۔ سیکولرائزیشن کا بنیادی ترین ایجنڈا انسان کو اندر باہر سے تشبیہی بنانا ہے اور تنزیہہ کا مطلق خاتمہ ہے۔ ایک سوال گزشتہ دو سو سال سے بہت زور و شور سے زیربحث ہے کہ "کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تھا؟" ہماری طرف سے اس سوال کا جواب ہمیشہ معذرت خواہانہ رہا ہے اور یہ مداہنت جدیدیت کی عدم تفہیم سے پیدا ہوئی ہے۔ جدیدیت کا جوہر (essence) طاقت ہے۔

جدیدیت اپنے ہر ہر علم میں، اپنے ہر ہر مظہر میں طاقت ہی کا طلسم (spectacle) ہے۔ سیکولرزم اور سیکولرائزیشن انسانی شعور میں طاقت کی deployment ہی کا نام ہے۔ جدیدیت سیاسی طاقت اور سرمائے کی جو قطعی نئی تشکیل کرتی ہے، اس پر ہمارے ہاں ردِ عمل تو ہے کوئی نظری اور فکری کلام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدیدیت کے پیدا کردہ مسائل کا جو حل پیش کیا جا رہا ہے وہ جدیدیت سے بھی زیادہ disastrous ہے۔ سیکولرزم اور سیکولرائزیشن طاقت اور سرمائے کی جو نئی تشکیل اجتماعی سطح پر سامنے لاتی ہے وہ آخرالامر اپنے محیط کلی کی وجہ سے فرد کے افعال و اعمال کو بتدریج مکمل طور تشبیہی اور "غیرمذہبی" بنا دیتی ہے۔

اپنے معلوم مسائل کے ساتھ ماڈرنائزیشن مذہب کے لیے قابل قبول ہے، لیکن سیکولرائزیشن مذہب کی ضد عین ہے۔

Check Also

Sardi Phir Jeet Gai, Taleem Phir Haar Gai

By Muhammad Zeashan Butt