Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Iran Mein Jari Ehtejaj, Mumkina Asrat o Nataij

Iran Mein Jari Ehtejaj, Mumkina Asrat o Nataij

ایران میں جاری احتجاج، ممکنہ اثرات و نتائج

اس وقت پڑوسی ملک ایران میں حکومت مخالف پُرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرے ملک کے سو سے زائد شہروں میں پھیل چکے ہیں اور کئی مقامات پر سنگین واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اب تک ان مظاہروں میں تین سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً تین ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پچیس سے زائد مساجد اور اسی کے قریب بینک بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ ایران کی حکومت کے لیے ملک میں امن و امان قائم رکھنا ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے اور عوام سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

بظاہر یہ مظاہرے مہنگائی اور معاشی مسائل کے خلاف ہیں، لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کا بھی کردار کارفرما ہوسکتا ہے۔ اگر یہ محض داخلی احتجاج ہوتا تو نہ یہ اتنا پُرتشدد ہوتا اور نہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔ ایران میں اس نوعیت کے احتجاج کا دائرہ وسیع اور شدت بہت زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بڑی حکمت عملی کے تحت عوامی بےچینی کو ہوا دی جا رہی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ابتدائی طور پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ذریعے ایران کو دباؤ میں لانے اور پسپا کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔ ان کے دعوے میں یہ بھی شامل تھا کہ ایران کی دفاعی قوت اور نظام کو نقصان پہنچایا گیا، حتیٰ کہ بعض فوجی سربراہان کو نشانہ بھی بنایا گیا۔ تاہم ایران کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا اور انہیں وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جو وہ چاہتے تھے۔

جب براہِ راست حملوں اور طاقت کے استعمال سے ایران پر خاطر خواہ اثرات مرتب نہیں ہو سکے، تو ایک نئی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ عوامی سطح پر احتجاج کو ہوا دینا اور اسے منظم کرنا اور ملکی نظام و حکومت کے حوالے سے عوامی ردعمل کو ابھار کرکے دکھانا، تاکہ نقصان کم اور فائدہ زیادہ حاصل ہو، اسی نئی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران میں امریکا مخالف بیانیہ کمزور ہو اور وہاں ایسی حکومت قائم ہو جس پر وہ اثر و رسوخ رکھ سکیں۔

ایک طرف ایران میں پُرتشدد مظاہروں کا یہ سلسلہ جاری ہے اور پورے ملک میں پھیل چکا ہے، تو عین اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اختیار ہے کہ دنیا میں جہاں چاہیں اور جب چاہیں حملہ کر سکتے ہیں اور قبضہ کر سکتے ہیں، دنیا کی کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔ اگر کوئی چیز انہیں روک سکتی ہے تو وہ صرف ان کی اپنی اخلاقیات ہیں۔ اگر وہ خود نہ چاہیں تو حملے نہیں ہو سکتے، لیکن اگر وہ چاہیں تو انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ گویا انہوں نے بالواسطہ دنیا پر قادرِ مطلق ہونے کا دعویٰ کر دیا، اعوذ باللہ۔

حالانکہ پوری کائنات جانتی ہے کہ زمین و آسمان اور تمام جہانوں کا واحد مالک اور قادرِ مطلق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہ جب چاہے، جہاں چاہے سب کچھ نیست و نابود کر سکتے ہیں۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کے نشے میں انسانی غرور کہاں تک جا سکتا ہے اور اس کے نتائج کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ بیان آج دس جنوری کو پوری دنیا کے میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے اور عالمی سطح پر حیرت و تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے ان کے زوال کا آغاز ہو رہا ہے، کیونکہ میرا رب اپنے اختیار میں کسی کو شریک کرنا پسند نہیں کرتا اور قادرِ مطلق ہونا صرف اللہ کی شان ہے۔ ان شاء اللہ یہ وہ وقت ہے جب ٹرمپ کے زوال اور امریکی غرور کی پستی کا آغاز ہونے والا ہے۔

دنیا کے جس حصے میں بھی تیل، گیس یا کوئی قیمتی ذخائر موجود ہوں، امریکی حکومت وہاں پہنچ کر اپنا قبضہ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ یہ رویہ نہ صرف عالمی سیاست میں مداخلت کا باعث بنتا ہے بلکہ مقامی ممالک کے لیے بھی خطرات پیدا کرتا ہے۔ تاہم موجودہ امریکی حکومت اس معاملے میں حواس باختگی کی حد تک پہنچ چکی ہے اور ان کی کاروائیاں انتہائی جارحانہ اور ظالمانہ دکھائی دیتی ہیں۔ شاید ایران میں ہونے والی سازشیں بھی اسی بیانیے کا حصہ ہوں، جس میں عالمی طاقتیں اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے حصول کے لیے علاقے میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہیں۔

ایران میں جاری کشیدگی سے پاکستان کو بھی ممکنہ طور پر مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ پڑوسی ملک میں آگ لگنے پر اگر اسے بجھانے کی کوشش نہ کی جائے تو یہ پاکستان سمیت دیگر خطوں کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی پڑوسی ممالک کے ساتھ پیچیدہ تعلقات اور متنازعہ حالات کا سامنا کر رہا ہے اور اگر یہاں بھی غیر متوقع تبدیلی رونما ہو جائے تو اس کے اثرات براہِ راست ملکی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کے حکمرانوں کو اس معاملے پر کڑی نظر رکھنی ہوگی اور ایک متوازن، مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہیں نہ صرف پڑوسی ملک میں صورتِ حال کے اثرات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے بلکہ طویل مدتی حکمت عملی بھی وضع کرنی ہوگی تاکہ قومی مفادات، سرحدوں کی حفاظت اور داخلی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ خطے میں موجود کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کو نظر انداز کرنا پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے سنجیدگی اور دور اندیشی کے ساتھ کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔

Check Also

Gymkhana Bahawalpur Ke Intikhabat

By Javed Ayaz Khan