Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Samia Suluhu Hassan

Samia Suluhu Hassan

سیمیا سولوہو حسن

27 جنوری 1960، ایک استاد کے گھر ایک شاندار بیٹی نے دنیا میں قدم رکھا جوکہ بعد میں، سات کروڑ سے زائد آبادی والے افریقہ کے پانچویں بڑے ملک، متحدہ جمہوریہ تنزانیہ کی صدارت پر فائز ہوئیں یہ وہ ملک ہے جہاں زیادہ تر لوگ عیسائیت مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور تقریباً سوا دو کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ لیکن اس ملک کی قیادت مسلم خاتون سیمیا سولوھو حسن کر رہی ہیں، جو 2021 سے صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ ایک فعال مسلمان ہیں اور صدر بننے کے موقع پر حلف برداری میں ہیڈ اسکارف پہن کر اسلامی شناخت کا عملی اظہار کیا۔

سیمیا سولوھو حسن اپنی ذاتی زندگی میں نماز، روزہ اور اسلامی اخلاقی اصولوں کی پابند ہیں۔ میڈیا رپورٹس اور انٹرویوز کے مطابق وہ دعائیہ اور روحانی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتی ہیں، خاص طور پر ملک کی قیادت اور اہم فیصلوں کے وقت۔ وہ تنزانیہ کی پہلی خاتون صدر ہونے کے علاوہ، مکمل طور پر تنزانیہ میں پیدا ہونے والی پہلی صدر بھی ہیں۔

یہ ان کے ملکی اور مقامی شناخت کو مزید مضبوط بناتا ہے اور عوامی تعلق میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔

صدر جان ماگوفولی کا انتقال 2021 میں دل کی پیچیدگیوں (Heart complications) کے باعث ہوا تھا، تنزانیہ کے آئینی آرٹیکل 37(5) کے مطابق نائب صدر سیمیا سولوھو حسن نے صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا، وہ 2021 سے 2025 تک پہلی مدت میں صدر رہیں، پھر انہوں نے اکتوبر 2025 کے باقاعدہ الیکشن میں حصہ لیا اور دوبارہ منتخب ہوئیں اور وہ اب 2030 تک اس عہدے پر براجمان رہیں گیں۔۔

ان میں اور ھمارے پاکستان کے سابقہ صدر مملکت میں ایک چیز مشترکہ تھی حالانکہ "دو مختلف براعظم، دو مختلف کہانیاں، مگر ایک شاندار اتفاق: صدر پاکستان غلام اسحاق خان اور صدر تنزانیہ سیمیا سولوھو حسن، دونوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز محض ایک کلرک کے طور پر کیا اور پھر ملک کے سب سے بڑے اور اھم عہدے پر پہنچے"۔

افریقہ میں کوئی مسلمان خاتون کبھی اتنے بڑے عہدے پر فائز نہیں رہیں۔ ان کی صدارت نہ صرف تاریخی بلکہ امید افزا لمحہ ہے۔

آجکل چینی وزیر خارجہ وانگ یی (Wang Yi) نے تنزانیہ کا سرکاری دورہ کیا ہے۔ 9 جنوری 2026 سے 10 جنوری 2026 تک دو روزہ دورہ ڈوڈوما/دار السلام میں ہوا، جہاں انہوں نے صدر سیمیا سولوھو حسن سے ملاقات کی۔ اس دورے میں وانگ یی نے چین کے صدر شی جن پنگ کے پیغام/سلام بھی صدر سیمیا حسن کے سامنے پیش کیے۔

دار السلام، تنزانیہ کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز ہے، دار السلام کو 1860 کی دہائی میں عرب تاجروں نے قائم کیا۔ نام عربی میں "دار السلام" امن کا گھر رکھا گیا۔

1890 میں جرمن ایسٹ افریقہ (German East Africa) نے دار السلام پر قبضہ کیا۔ جرمنوں نے شہر کو جدید بندرگاہ اور انتظامی مرکز میں تبدیل کیا۔ اس دور میں سڑکیں، ریلوے اور بندرگاہیں بنیں، جس سے شہر تیزی سے ترقی کرنے لگا۔

آج بھی تجارت اور امن کے جادو سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں کی مسلمانوں کی ابادی تقریباً 35 لاکھ کے لگ بھگ ہے جو اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں میں چھائی ہوئی ہے۔ شہر کی بندرگاہ افریقہ کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔

سیمیا حسن کی قیادت میں تنزانیہ نے معاشی، تجارتی اور بین الاقوامی تعلقات میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ مسلمان کاروباری، جو دار السلام اور ساحلی علاقوں میں سرگرم ہیں، تجارت، زرعی پیداوار اور سروس سیکٹر میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ کا دورہ اس بات کی تصدیق ہے کہ تنزانیہ اب عالمی تجارتی اور سیاسی منظرنامے پر ایک مضبوط اور فعال کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔

سیمیا حسن کی قیادت نہ صرف تنزانیہ بلکہ مسلم دنیا اور افریقہ میں خواتین کے لیے ایک مثال ہے۔ ان کی صدارت نے یہ ثابت کیا کہ مذہب یا جنس کسی بھی شخص کی قیادت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایک مسلم خاتون کس طرح ایک ملک کی سیاسی اور اقتصادی تقدیر بدل رہی ہے اور کس طرح عالمی تعلقات اور ملکی ترقی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

سیمیا سولوھو حسن کی صدارت میں تنزانیہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جو تاریخی، اقتصادی اور سیاسی اہمیت کے حامل ہے۔ ان کی حکومت نے میڈیا اور سیاسی مکالمے پر سے پابندیاں ہٹانے کی کوششیں کی ہیں، جس سے تنزانیہ میں سیاسی ماحول کچھ کھلا محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے انفراسٹرکچر کے منصوبوں، خاص طور پر ریلوے اور سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دی ہے۔

زراعت، سیاحت اور صنعت جیسے شعبوں میں ترقی کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور اساتذہ کی تربیت پر توجہ مرکوز کی ہے۔

ان کے دورِ صدارت میں تنزانیہ کے عالمی تعلقات اور داخلی ترقی کا عمل مزید مضبوط ہو رہا ہے اور چین کے تنزانیہ عالمی سطح پر مستحکم، فعال اور ترقی پذیر ملک کے طور پر اپنی شناخت قائم کر رہا ہے۔

Check Also

Gymkhana Bahawalpur Ke Intikhabat

By Javed Ayaz Khan