Iran, Navishta e Deewar Aur Islahat Mein Takheer Ki Qeemat (1)
ایران، نوشتہ دیوار اور اصلاحات میں تاخیر کی قیمت (1)
ایران کی سڑکوں پر سنائی دینے والے نعروں میں حالیہ برسوں کے دوران جو تبدیلی آئی ہے وہ محض الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ اجتماعی شعور میں آنے والی ایک گہری دراڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماضی میں احتجاجی آوازیں زیادہ تر مہنگائی، بے روزگاری، سماجی و مذھبی پابندیوں اور بدانتظامی تک محدود رہتی تھیں مگر اب نعرے براہِ راست اقتدار کے نظریاتی مرکز کو مخاطب کر رہے ہیں۔ "مرگ بر خامنہ ای" اور "مرگ بر ولایتِ فقیہ" جیسے نعرے اس بات کا اظہار ہیں کہ عوامی غصہ اب صرف پالیسیوں یا افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ نظامِ حکمرانی کے بنیادی فلسفے پر سوال اٹھا رہا ہے۔
ولایتِ فقیہ ایران کے سیاسی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس نظریے کے تحت ریاستی اقتدار کی حتمی کنجی ایک ایسے منصب کے ہاتھ میں ہے جو عوامی ووٹ سے نہیں بلکہ مذہبی و ادارہ جاتی انتخاب کے ذریعے طے ھوتا ہے۔ اس نظام نے چار دہائیوں تک داخلی استحکام، خارجی مزاحمت اور نظریاتی وحدت کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا مگر وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی ساخت بدلتی چلی گئی۔ آبادی کا بڑا حصہ اب شہری، نوجوان، تعلیم یافتہ اور ڈیجیٹل دنیا سے جڑا ھوا ہے۔ ان کی ترجیحات، سوالات اور توقعات وہ نہیں رہیں جو انقلاب کے فوراً بعد کی نسلوں کی تھیں۔
حالیہ نعروں کی معنویت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایران جیسے نظام میں رہبرِ اعلیٰ کے خلاف عوامی سطح پر براہِ راست نعرہ لگانا غیر معمولی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ محض خوف کی دیوار میں شگاف نہیں بلکہ اس تقدس کے گرد کھنچی لکیر کا مٹنا ہے جس پر ریاستی بیانیہ کھڑا تھا۔ جب کوئی معاشرہ اپنے طاقتور ترین ادارے اور نظریے کو کھلم کھلا میدان میں آ کر چیلنج کرنے لگے تو اس کا مطلب یہ نہیں ھوتا کہ تبدیلی فوراً آ جائے گی، یہ ضرور ھوتا ہے کہ ذہنی نقشہ بدل چکا ہے۔
یہاں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران شدید معاشی دباؤ میں ہے۔ بین الاقوامی پابندیاں، کرنسی کی گراوٹ، بے روزگاری اور طبقاتی تفاوت نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل ترین بنا دیا ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کہ معاشی تکالیف تبھی نظامی بغاوت میں ڈھلتی ہیں جب انہیں اخلاقی یا نظریاتی ناانصافی کا رنگ مل جائے۔ خواتین کے حقوق، طرزِ زندگی پر قدغنیں، اظہارِ رائے کی پابندیاں اور ریاستی سختی، یہ سب عوامل مل کر اس غصے کو ایک بڑے سوال میں بدل دیتے ہیں کہ کیا موجودہ نظام عوام کی بدلتی ہوئی خواہشات و رجحانات کا جواب دے سکتا ہے؟
ریاستی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس نوعیت کے نعروں کو محض بیرونی سازش یا محدود گروہوں کی شرارت قرار دینا ایک مانوس حکمتِ عملی ہے۔ اس بیانیے میں وزن بھی ہے کیونکہ ایران واقعی ایک پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی ماحول میں گھرا ھوا ہے مگر ہر احتجاج کو صرف خارجی ہاتھ سے جوڑ دینا داخلی مکالمے کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ نظام اگر خود کو دیرپا سمجھتا ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ معاشرتی تبدیلیاں نعروں کے ذریعے خود کو ظاہر کرتی ھیں اور نعروں کو محض طاقت سے خاموش کر دینا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایرانی معاشرہ یکساں نہیں۔ دیہی علاقوں، مختلف مذہبی طبقات اور ریاستی اداروں سے وابستہ حلقوں میں اب بھی نظام کے لیے حمایت موجود ہے، اسی لیے کسی فوری انقلابی نتیجے کی پیش گوئی قبل از وقت ہوگی۔ تاہم جو چیز واضح ہے وہ یہ کہ اصلاحات کی گنجائش پر عوامی اعتماد کمزور پڑ چکا ہے۔ جب احتجاج اصلاح سے انکار اور نظام کی تبدیلی کے سوال میں بدل جائے تو پھر ریاست اور معاشرہ دونوں ایک نازک موڑ پر آ کھڑے ھوتے ھیں۔
آنے والے دنوں میں ریاستی ردِعمل یقیناً سخت رھے گا اور وقتی طور پر احتجاج دب بھی سکتا ہے مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ دبایا گیا سوال ختم نہیں ہوتا وہ شکل بدل لیتا ہے۔ آج کے نعرے اگر سڑکوں پر کم بھی ہو جائیں یا دبا دئیے جائیں تو وہ مکالمے، تحریروں، فن، ذھنوں اور نجی گفتگوؤں میں زندہ رھتے ھیں۔ یہی وہ خاموش بہاؤ ہوتا ہے جو طویل مدت میں معاشروں کی سمت متعین کرتا ہے۔
ایران کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ احتجاج کیسے روکا جائے بلکہ یہ ہے کہ ریاست اور معاشرہ ایک نئے سماجی معاہدے پر کیسے پہنچیں؟ کیا اقتدار عوامی شرکت کے دائرے کو وسیع کرنے پر آمادہ ہوگا؟ کیا مذہبی و ریاستی بیانیہ بدلتی ہوئی نسل کے سوالات کا جواب دے پائے گا؟ یا پھر فاصلے مزید بڑھیں گے؟ ان سوالات کے جوابات فوری نہیں، مگر اتنا طے ہے کہ "مرگ بر ولایتِ فقیہ" جیسے نعرے اس بحث کو تاریخ کے حاشیے سے نکال کر صفحے پر لے آئے ھیں۔
ایران اس وقت اپنے تاریخی ترین اندرونی بحرانوں میں سے ایک سے گزر رہا ہے جہاں گزشتہ چند روز میں ملک بھر میں ایک وسیع پیمانے پر احتجاجی لہر نے جنم لیا جو نہ صرف اقتصادی مسائل بلکہ سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی عدم اطمینان کا اظہار بھی ہے۔
احتجاجات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اب یہ 31 صوبوں میں سے کم از کم 26 صوبوں کے 270 سے زائد مقامات تک پہنچ چکے ھیں اور درجنوں بڑے شہروں میں مظاہرے جاری ھیں۔ تہران، قُم، ہرسن، لورستان، لاردیگان، کوہدشت، مرودشت، ازنا اور دیگر بےشمار شہروں میں سڑکیں، بازار، کالج، یونیورسٹیاں اور سرکاری دفاتر بند ھیں، جبکہ کئی مقامات پر سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ھو رھی ھیں۔
ایران کی صورت حال اس لحاظ سے منفرد اور پیچیدہ ہے کہ اس مرتبہ احتجاجات صرف معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہے نوجوان، طلبہ، تاجروں، دکان داروں، سرکاری اور نجی ملازمین اور عام شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے سیاسی ڈھانچے پر بھی سوال اٹھانا شروع کر دیا اور تمام جگہوں پر "مرگ بر آمر" اور "زن، زندگی، آزادی" جیسے نعرے گونج رھے ھیں جو 2022 کی مہسا امینی کے سرکاری قتل سے شروع ھونے والی تحریک کو یاد دلاتے ھیں۔
یہ سب مسائل طویل عرصہ سے موجود تھے، لیکن حالیہ دنوں میں ان کی شدت نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔
تشدد، گولی اور ہلاکتوں کی اطلاعات نے صورت حال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ حکومتی اور غیر سرکاری ذرائع کے مطابق، احتجاجوں کے دوران کم از کم 40 سے زائد افراد ہلاک ھو چکے ھیں، جن میں مظاہرین اور بعض رپورٹوں کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اھلکار بھی شامل ھیں۔ جبکہ چار ھزار سے زائد لوگ گرفتار ھو چکے ھیں۔ ان واقعات میں پیلٹ اور سٹن گن، واٹر کینن، آنسو گیس، گولی چلنے اور مسلح جھڑپیں، جلاؤ گھیراؤ شامل رھے ھیں۔
ایران کے بازاروں میں پہلی بار بڑے پیمانے پر بندشیں اور ہڑتالیں دیکھنے میں آئیں کیونکہ تاجروں نے قیمتوں اور کاروباری ماحول میں عدم استحکام کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھا ھوا ہے۔
ایرانی حکومت نے احتجاج کے آغاز میں گفتگو اور بات چیت کی پیشکش کی مگر ساتھ ہی سیکیورٹی فورسز کے ذریعے کریک ڈاؤن بھی سخت کیا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام کے جائز احتجاج اور "شرپسند" عناصر میں فرق کرتے ہوئے سخت بیانات دئیے اور فورسز کو مظاہرین کو "ان کی جگہ" دکھانے کی ہدایت بھی کر دی۔
اس صورت حال نے ایران کے اندر ایک اندرونی کشمکش کو جنم دیا ہے۔ حکومت نے احتجاج کی وجوھات کو جزوی طور پر قبول کیا مثلاً معاشی مشکلات اور تاجروں کی شکایات، لیکن ساتھ ھی احتجاج کو بیرونی دشمنوں اور میڈیا پر چلنے والی سازشوں کا نتیجہ قرار دیا۔ یہی حکومتی موقف ہے جس کے تحت مظاہرین کو "دشمن کے ایجنٹ" قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے بیانات عالمی سطح پر کشیدگی کو بڑھا رھے ھیں کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران پہلے ھی مغربی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مختلف محاذوں پر تنازعات میں ملوث ہے۔ ان بین الاقوامی سیاسی حوالوں نے احتجاجات کے اندرونی تناظر کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے، خاص طور پر جب حکومتی بیانیہ احتجاجات کو نرم جنگ، بیرونی سازش، یا "ملکی سرحدوں کے اندرونی غدارانہ عمل کے طور پر پیش کرتا ہے۔
حالیہ کشیدگی میں سماجی میڈیا اور ڈیجیٹل مواصلات کا کردار بھی نمایاں رھا ہے۔ ویڈیوز اور تصاویر جو ایران کے مختلف شہروں سے شیئر ھو رھی ھیں، ان میں مظاہرین پر گولی بازی، سیکیورٹی فورسز کے ساتھ براہِ راست جھڑپیں، جلاؤ گھیراؤ، نعرے بازی اور عوامی نعرے شامل ھیں جس سے عالمی سطح پر ایک زندہ احتجاجی موومنٹ کا احساس پیدا ھوا ہے۔ البتہ معلومات کی مکمل تصدیق کرنا مشکلات کا باعث ہے کیونکہ ایران میں انٹرنیٹ کنٹرول، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں بڑھ رھے ھیں جس سے آزاد رپورٹنگ پر اثر پڑ رھا ہے۔ بندہ بمشکل ایران میں موجود اپنے دوست احباب سے رابطہ کر پا رھا ہے جو خود اپنے گھروں اور کمروں میں بند اور مکمل طور پر ایران کے حالات سے بے خبر بیٹھے ھیں۔ ان سے فقط یہی معلومات مل رھی ھیں کہ شدید ھنگامی صورتحال ہے۔ انہیں بھی اگر کہیں سے معلومات ملتی ھیں تو ان کے محلوں میں موجود دکانداروں سے کہ جن سے وہ روزمرہ کی اشیائے خوردونوش وغیرہ خریدنے جاتے ھیں۔ مذید یہ کہ وہ معلومات دینے اور اب تو بندہ کا فون اٹھانے سے بھی کتراتے ھیں کہ کہیں جاسوسی کے الزام میں دھر نہ لئے جائیں۔
اس احتجاجی لہر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے مختلف طبقاتی، نسلی اور عمرانی گروھوں کو جوڑ دیا ہے۔ نہ صرف شہروں کے نوجوان بلکہ دیہی اور مضافاتی علاقوں کے لوگ بھی اپنے مسائل لے کر سڑکوں پر نکل آئے ھیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ احتجاج ایران کے حالیہ شدہد ترین معاشی بحران اور سیاسی بے چینی کے عکاس ھیں۔ 2022 کے بعد یہ سب سے بڑی احتجاجی لہر ہے جس نے ملک کے ہر شعبے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
جہاں تک رجیم چینج یا نظام کی تبدیلی کا سوال ہے، حقیقتاً یہ بہت پیچیدہ ہے۔ موجود احتجاج میں ایک بڑی تعداد نے حکمران ڈھانچے پر سوال اٹھائے ھیں لیکن ایران ایک مضبوط سیکیورٹی ریاست ہے جس کے پاس انقلابی گارڈ کور (IRGC)، بسیج ملیشیا اور دیگر فورسز شامل ھیں جو مظاہروں کو سختی سے کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ھیں۔ اس لحاظ سے فوری طور پر ایک مکمل رجیم چینج آج یا کل ہونے کا امکان بہت کم ہے کیونکہ حکومتی ڈھانچہ اپنی حکمرانی اور طاقت کے بہت مضبوط نیٹ ورکس کے ساتھ منظم ہے۔ خاص طور پر جب سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای خود اپنے اثر و رسوخ کو نمایاں طور پر ظاہر کرتے ھیں۔
البتہ یہ بھی درست ہے کہ عوامی بے چینی اور سیاسی مطالبات میں بتدریج اور مسلسل اضافہ ھو رھا ہے اور اگر موجودہ اقتصادی بحران، بین الاقوامی پابندیوں اور بیروزگاری کے مسائل برقرار رھے تو یہ احتجاج مزید سخت، مزید منظم، یا نئے سیاسی اتحادوں کی شکل میں سامنے آ سکتے ھیں۔ میری ناقص فہم کے مطابق اگر احتجاجوں میں ایک مرکزی، متفقہ قیادت سامنے آ جائے تو یہ تحریک ایک مزید منظم سیاسی تحریک میں بدل سکتی ہے، جس کے پاس واضح منشور اور حکمت عملی ھو۔
دوسری طرف، حکومت اپنی طاقت کے استعمال، سختی اور سکیورٹی فورسز کی مدد سے احتجاجوں کو منتشر یا کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رھی ہے جیسا کہ ماضی میں بھی کئی بار دیکھا گیا ہے۔ اگر حکومتی طاقت مظاہروں پر زیادہ جارحانہ انداز میں عمل کرتی ہے تو یہ ایک خطرناک چکر میں تبدیل ہو سکتا ہے جس سے نہ صرف ایران کے داخلی استحکام کو خطرہ ھوگا بلکہ علاقائی اور عالمی کشیدگی بھی بڑھے گی۔ خاص طور پر جب خارجی طاقتیں بھی بیانات اور ممکنہ مداخلتوں کے ذریعے اپنی موجودگی کا اظہار کر رھی ھیں۔
ایران کی موجودہ صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس ملک کی طویل سیاسی تاریخ، انقلاب کے بعد کے تجربات، سکیورٹی ریاست کے ڈھانچے، معاشی پالیسیوں اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو بھی مدنظر رکھیں۔ ایران نے پچھلے چند دہائیوں میں کئی سنگین بحرانوں کا سامنا کیا ہے، بشمول بیرونی پابندیاں، علاقائی تنازعات اور اندرونی سیاسی اختلافات۔ موجود احتجاجات ان ہی مسائل کے بڑھتے ہوئے اثرات کا نتیجہ ھیں جو اب عوام اور ریاست کے روزمرہ معاملات پر براہِ راست اثر انداز ھو رھے ھیں۔
خلاصہ یہ کہ ایران ایک ایسے دورِ بحران سے گزر رہا ہے جس میں عوامی مطالبات، معاشی مشکلات، سیکیورٹی فورسز کے ردعمل اور بین الاقوامی سیاسی دباؤ سب ایک ساتھ مرکب ہو گئے ھیں۔ عوام کی بے چینی اور حکومتی سختی ایک گھمبیر تضاد کے طور پر سامنے آئی ہے جو مستقبل میں ملک کے سیاسی اور اقتصادی منظرنامے کو دوبارہ تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس بحران کا صحیح حل فوری گفتگو، فوری اصلاحات، فوری اقتصادی پالیسیوں کی بہتری اور شہری حقوق کا احترام ہے لیکن فی الوقت صورتحال بدستور کشیدہ، غیر یقینی اور ممکنہ طور پر طویل المدتی اثرات کی حامل ہے۔
ایران میں موجودہ بحران اور احتجاجی لہر کو صرف سڑکوں پر نظر آنے والے مظاہروں تک محدود سمجھنا ایک سادہ تجزیہ ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے کئی اندرونی و بیرونی قوتیں، ریاستی ادارے، سماجی محرکات، تاریخی اسباب اور ممکنہ اصلاحی مطالبات کار فرما ھیں۔ اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ کون سی فورسز، قوتیں، عوامل اور اصلاحات اس بحران کو کم یا ختم کر سکتی ھیں تو اس کا جواب یک رُخا نہیں بلکہ کثیرالجہتی ہے، کیونکہ ایران ایک نظریاتی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پیچیدہ سیکیورٹی اسٹرکچر، مضبوط مذہبی اداروں اور گہرے سماجی تضادات کا حامل ملک ہے۔
سب سے پہلے ریاستی قوتوں کا ذکر ضروری ہے۔ IRGC اور بسیج کے علاوہ ایران کی روایتی فوج (Artesh) بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اگرچہ یہ فوج براہِ راست سیاست میں مداخلت نہیں کرتی مگر تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاستی بحران حد سے بڑھ جائے تو روایتی فوج کا رویہ فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ اگر Artesh خود کو غیر جانبدار رکھے یا سخت کریک ڈاؤن میں براہِ راست حصہ لینے سے گریز کرے تو احتجاجی تحریک کو ایک اخلاقی اور نفسیاتی تقویت مل سکتی ہے۔ تاہم اگر یہی فوج مکمل طور پر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی رھے تو بحران دب بھی سکتا ہے اگرچہ اس دباؤ کے نتائج دیرپا نہیں ھونگے۔
ایک اور اہم قوت عدلیہ ہے۔ ایرانی عدالتی نظام اگر محض گرفتاریوں، سخت سزاؤں اور ریاستی بیانیے کا آلہ کار بننے کے بجائے کچھ حد تک شفافیت، قانونی تحفظ اور عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لینے کی طرف بڑھے تو عوام کے غصے میں کمی آ سکتی ہے۔ سیاسی قیدیوں کی رہائی، احتجاج کے دوران گرفتار افراد کے ساتھ نرمی اور اظہارِ رائے کے محدود مگر حقیقی مواقع عوامی اعتماد بحال کرنے میں کردار ادا کر سکتے ھیں۔
سیاسی سطح پر حکومت اور پارلیمنٹ کا کردار بھی فیصلہ کن ہے۔ اگرچہ ایران میں اصل طاقت منتخب اداروں کے پاس نہیں، پھر بھی اقتصادی پالیسیوں، سبسڈیز، ٹیکس اصلاحات اور روزمرہ زندگی سے جڑے فیصلے یہی ادارے کرتے ھیں۔ اگر حکومت محض سیکیورٹی بیانیے پر انحصار کرنے کے بجائے مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی بحران کے حوالے سے ٹھوس اور فوری اقدامات کرے، جیسے بنیادی اشیائے خورونوش پر سبسڈی، تنخواہوں میں جزوی اضافہ، یا چھوٹے کاروباروں کے لیے سہولتیں تو احتجاجی شدت میں وقتی کمی ممکن ہے۔ مگر بین الاقوامی معاشی پابندیوں میں جکڑی ھوئی حکومت بھی کیا کر سکتی ہے جس کی آمدن کے ذرائع ھی نہ ھونے کے برابر رھنے دئیے جائیں۔ ایران نہ اپنی آٹھ کروڑ عوام کو فی کس 7 ڈالر ماھانہ اضافی دینے کا اعلان کیا ہے یعنی فی خاندان آٹھ دس ھزار ماھانہ، جسے عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ واقعتاً یہ رقم تو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی کم ہے۔
ایک نہایت اہم عنصر مذہبی ادارے اور علما بھی ھیں۔ ایران میں جمعہ کے خطبات، مذہبی مراکز اور حوزاتِ علمیہ عوامی رائے سازی میں گہرا اثر رکھتے ھیں۔ اگر مذہبی قیادت کا ایک حصہ عوامی مشکلات کو کھلے دل سے تسلیم کرے، ریاستی سختی پر سوال اٹھائے اور اصلاحات کی حمایت کرے تو یہ بحران کو نرم کر سکتا ہے۔ تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ مذہبی اشرافیہ کے اندر اختلاف نے ریاستی بیانیے کو کمزور کیا اور عوام کو حوصلہ دیا۔
سماجی سطح پر تاجر طبقہ، بازار (بازارِ تہران) اور صنعتی مزدور ایک خاموش مگر طاقتور قوت ھیں۔ ایران میں جب بھی بازار بند ھوتا ہے یا مزدور ہڑتال کرتے ھیں تو ریاست پر دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اگر یہ طبقات منظم اور مسلسل احتجاج کی طرف جائیں مگر تشدد سے گریز کریں تو حکومت کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اساتذہ، نرسز، سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تحریکیں بھی احتجاج کو ایک معاشی اور سماجی جواز فراہم کر رھی ھیں۔
ایک اور اہم معاملہ نسلی و علاقائی سوال ہے۔ کرد، بلوچ، عرب اور دیگر اقلیتی علاقوں میں معاشی محرومی اور سیاسی نظر اندازی نے ہمیشہ احتجاج کو زیادہ شدت دی ہے۔ اگر مرکز ان علاقوں کے لیے ترقیاتی پیکجز، مقامی خود مختاری یا ثقافتی حقوق میں نرمی دکھائے تو احتجاج کی جغرافیائی شدت کم ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہی علاقے کسی بھی تحریک کا سب سے زیادہ غیر متوقع اور خطرناک رخ بن سکتے ھیں۔
جاری ہے۔۔

