Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Dorahe Par Khara Pakistan

Dorahe Par Khara Pakistan

دوراہے پر کھڑا پاکستان

قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب راستے بدلتے نہیں، تقدیریں بدلتی ہیں۔ آج پاکستان بھی ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر سمت ایک نئی کہانی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ایک راستہ استحکام، سنجیدگی اور قومی یکجہتی کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا انتشار، بے یقینی اور داخلی کمزوری کی طرف۔ سوال صرف یہ نہیں کہ حالات خراب ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم ان حالات سے کیا سیکھ رہے ہیں۔

ملک کا سیاسی منظرنامہ شدید تقسیم کا شکار ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے، مگر جب یہی اختلاف ذاتی دشمنی میں بدل جائے تو جمہوری عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو مٹانے کی سیاست کر رہی ہیں۔ پارلیمنٹ میں مکالمے کی روایت کمزور پڑ چکی ہے اور قانون سازی اکثر وقتی اکثریت کے زور پر کی جاتی ہے۔ جب سیاسی استحکام نہ ہو تو ریاستی پالیسیوں میں تسلسل ممکن نہیں رہتا اور یہی عدم تسلسل معیشت سمیت ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔

معاشی صورتحال عام شہری کیلئے سب سے بڑا امتحان بن چکی ہے۔ مہنگائی نے متوسط طبقے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ بجلی اور گیس کے بل، پٹرول کی قیمتیں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی لاگت نے گھریلو بجٹ کو بوجھل بنا دیا ہے۔ تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں عوام کی بے چینی فطری ہے۔ آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں سے معاہدے وقتی سہارا تو فراہم کر سکتے ہیں، مگر مستقل معاشی استحکام کیلئے اندرونی اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری اور برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ معیشت کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے اسے قومی ایجنڈا بنایا جانا چاہیے۔

اداروں کے درمیان تناؤ بھی اس دوراہے کی ایک علامت ہے۔ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات کی بحث آئینی حدود میں رہ کر ہونی چاہیے، مگر جب یہ کشمکش سیاسی رنگ اختیار کر لے تو نظام کا توازن متاثر ہوتا ہے۔ ریاست کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب ادارے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کریں۔ آئین کی بالادستی ہی وہ بنیاد ہے جس پر قومی استحکام کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔

داخلی سلامتی کا مسئلہ بھی ہماری توجہ کا متقاضی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے باوجود اگر خطرات برقرار ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنی حکمت عملی میں تسلسل اور ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔ مذاکرات ہوں یا کارروائی، فیصلہ واضح اور قومی سطح پر متفقہ ہونا چاہیے۔ سلامتی کے معاملات کو سیاسی مفادات سے بالاتر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سماجی سطح پر سب سے بڑا سوال نوجوان نسل کا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر یہی طبقہ سب سے زیادہ بے یقینی کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا نے شعور میں اضافہ کیا ہے، لیکن تقسیم کو بھی گہرا کیا ہے۔ نوجوان تبدیلی چاہتے ہیں، مگر انہیں راستہ واضح نظر نہیں آتا۔ اگر ان کی توانائی کو تعلیم، روزگار اور مثبت سیاسی شرکت کی طرف موڑا جائے تو یہی نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔ بصورت دیگر مایوسی معاشرتی بے چینی کو جنم دے سکتی ہے۔

یہ تمام چیلنجز ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ پاکستان واقعی ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ مگر ہر دوراہا صرف خطرہ نہیں ہوتا، وہ موقع بھی ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں مشکل وقت میں ہی اپنی سمت درست کرتی ہیں۔ شرط یہ ہے کہ قیادت ذاتی مفادات سے بلند ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دے اور عوام جذبات کے بجائے شعور سے فیصلے کریں۔

یہ وقت الزام تراشی، پوائنٹ اسکورنگ اور وقتی سیاسی فائدے کا نہیں۔ یہ وقت سنجیدہ مکالمے، قومی اتفاقِ رائے اور پالیسی کے تسلسل کا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں۔ کیا ہم اختلاف کو دشمنی میں بدلتے رہیں گے یا اسے جمہوری مکالمے کی بنیاد بنائیں گے؟ کیا ہم معیشت کو سیاسی ہتھیار بنائیں گے یا اسے قومی بقا کا مسئلہ سمجھیں گے؟

دوراہے پر کھڑے اس پاکستان کو درست سمت دکھانے کی ذمہ داری صرف حکمرانوں کی نہیں، عوام کی بھی ہے۔ اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا، اداروں کو مضبوط کیا اور قومی مفاد کو مقدم رکھا تو یہی لمحہ نئی تاریخ کی بنیاد بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ دوراہا ہمیں مزید انتشار کی طرف لے جا سکتا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔

Check Also

Dont Worry Every Thing Will Be Ok

By Syed Mehdi Bukhari