Saza Aap Ke Bache Ko To Nahi Mil Rahi?
سزا آپ کے بچے کو تو نہیں مل رہی؟

ہفتہ کے روز کیسز زرا جلد نمٹانا ہوتے ہیں تو بھاگم بھاگ لگی ہوتی ہے۔ لفٹ میں سوار ہوا تو دیگر افراد کے علاوہ آٹھ نو سال کا ایک کیوٹ سا بچہ بھی اپنی ماں کے ساتھ موجود تھا۔ میں نے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس نے میرا بازو کھینج کر اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ میں اسکی بات سننے کیلئے جھکا تو اس نے میرے کان میں سرگوشی کی "وکیل انکل میں اپنے بابا اور ماما دونوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ پلیز میری مدد کریں"۔ بچے کی بات سن کر میرے دل میں ایک ہوک سی اٹھی۔ اسکی ماں نے بچے کو کھینچ کر فوراً اپنے پاس کر لیا کیونکہ غالب امکان ہے کہ اس نے بھی بچے کی آواز سن لی تھی۔
عدالت اور عدالت سے باہر اس طرح کے مناظر روزمرہ کا معمول ہیں۔ اب ہم لوگ تو گویا عادی ہو چکے ہیں مگر ہمارے اندر بھی عام انسان کا دل دھڑکتا ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس حقیقت ہے کہ میاں بیوی کی علیحدگی بظاہر دو بالغ انسانوں کا ذاتی فیصلہ ہوتی ہے مگر اس فیصلے کی قیمت سب سے پہلے اور سب سے زیادہ بچے ادا کرتے ہیں۔ وہ بچے جن سے نہ پوچھا جاتا ہے، نہ سمجھا جاتا ہے، نہ ہی ان کے خوف کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ ان کے لیے طلاق ایک لفظ نہیں، ایک زلزلہ ہوتا ہے جو ان کے پورے اندرونی وجود کو ہلا دیتا ہے۔
میں نے عدالتوں میں بارہا دیکھا ہے کہ بچے ماں اور باپ کے درمیان غیر اعلانیہ جنگ کا میدان بن جاتے ہیں۔ ماں باپ ایک دوسرے کو ہرانا چاہتے ہیں مگر ہتھیار بچے ہوتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے: "بچہ میرے بغیر خوش نہیں رہ سکتا"، کوئی کہتا ہے: "باپ کا حق ہے"۔ کوئی نہیں کہتا کہ بچے کا بھی کوئی حق ہے۔۔ مثلاً سکون، تحفظ اور غیر مشروط محبت کا حق۔
ایک ہی بچہ دو گھروں میں بٹ جاتا ہے۔ کئی بار مشاہدہ کیا ہے ایک گھر میں اس کا اسکول بیگ ہوتا ہے جبکہ دوسرے میں اس کے کپڑے اور کھلونے (عموماً جب ایسے میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو جن کے والدین ایک ہی محلے میں رہتے ہوں)۔ ایک جگہ اس کی سالگرہ منائی جاتی ہے جبکہ دوسری جگہ اس کی یاد۔ آہستہ آہستہ وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ وہ کس کا زیادہ ہے، کس کا کم۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کی وفاداری کس طرف ہونی چاہیے۔۔ ماں کی طرف یا باپ کی طرف۔
ماں کے گھر میں باپ کی کمی ایک خاموش خلا پیدا کرتی ہے۔ وہ خلا جسے ماں چاہ کر بھی نہیں بھر سکتی۔ باپ کے گھر میں ماں کی غیر موجودگی بھی ایک انجانی اداسی چھوڑ جاتی ہے۔۔ وہ لمس، وہ دعا، وہ بے ساختہ فکر جو صرف ماں ہی دے سکتی ہے۔ یہ خلا شور نہیں مچاتا مگر بچے کے اندر آہستہ آہستہ بڑھتا رہتا ہے اور ایک دن اس کی شخصیت میں دراڑ بن جاتا ہے۔
عدالتوں میں نان نفقہ کے اعداد و شمار پر بحث ہوتی ہے مگر بچے کی نفسیات فائل کے کسی حصے میں کبھی بھی جگہ نہیں پاتی۔ ہم وکیل بچے کی ویلفیئر کے دلائل دیتے ہیں مگر کسی دلیل میں یہ نہیں بولا یا لکھا جاتا کہ بچہ رات کو کس خیال کے ساتھ سوئے گا اور صبح کس ڈر کے ساتھ جاگے گا۔
میں نے ایک بچی کو دیکھا جو ہر پیشی پر اپنی ماں سے ایک ہی سوال پوچھتی تھی: "امی، آج ہم ابو کے ساتھ گھر چلیں گے؟"
اور ہر بار ماں خاموش ہو جاتی تھی۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ علیحدگی درست تھی یا غلط۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا علیحدگی کے بعد بھی اچھے والدین بنا جا سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ رشتہ ٹوٹ جائے مگر ذمہ داری نہ ٹوٹے؟
ہاں، یہ ممکن ہے۔۔ اگر والدین یہ سمجھ لیں کہ ان کی لڑائی ختم ہو سکتی ہے مگر بچے کا بچپن نہیں لوٹ سکتا۔ اگر وہ بچوں کو انتقام، الزام تراشی اور نفرت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دیں۔ اگر ماں باپ یہ طے کر لیں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں، بچے کے حق میں کھڑے ہوں گے۔ قابلِ عمل حل مشکل نہیں، نیت مانگتے ہیں۔ بچے کے سامنے ایک دوسرے کو برا کہنے سے پرہیز، فیصلوں میں بچے کی عمر اور نفسیات کو مرکزی حیثیت دینا، باقاعدہ اور باعزت رابطہ، تاکہ بچہ دونوں والدین سے جڑا رہے اور سب سے بڑھ کر یہ اعتراف کہ طلاق کے بعد بھی ماں باپ کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی، صرف اس کی شکل بدلتی ہے۔
تحریر سمیٹتے ہوئے میں صرف ایک سوال چھوڑنا چاہتا ہوں: جب آپ اپنے سابق شریکِ حیات کو سزا دینا چاہتے ہیں تو ذرا پلٹ کر دیکھیں۔۔ کہیں یہ سزا آپ کے بچے کو تو نہیں مل رہی؟

