K2 Ki Tarah Hosla Unka Buland Tha
کے ٹو کی طرح حوصلہ ان کا بلند تھا

میرے بچپن کے دوست، راجہ حسین خان مقپون المعروف راجہ کے ٹو مرحوم سے بچھڑے ہوئے چودہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں اور جب بھی صحافت کی بات ہوتی ہے تو راجہ کے ٹو کا ذکر کیے بغیر گفتگو ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ ان کی صحافتی خدمات اتنی وسیع اور قابلِ قدر ہیں کہ اگر انہیں قلمبند کرنے بیٹھیں تو ایک مکمل رجسٹر بھی کم پڑ جائے۔
گزشتہ دنوں اسکردو کے یادگار چوک پر ایک کام کے سلسلے میں گیا ہوا تھا کہ اسی دوران میرے مہربان دوست جناب غلام علی صاحب، جو اس وقت ضلع روندو کے ڈپٹی کمشنر ہیں، کی کال آئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ روندو جا رہے ہیں، اگر آپ ساتھ چلنا چاہیں تو تیار رہیں۔ کچھ ہی دیر بعد وہ پہنچ گئے اور ہم ان کی گاڑی میں ضلع روندو کے علاقے ڈمبوداس روانہ ہوئے۔
وہاں پہنچ کر ہم نے اپنے دیرینہ دوست راجہ کے ٹو کے مزار پر حاضری دی۔ ان کے مرقد پر ہاتھ رکھ کر ان کی مغفرت کے لیے دعا کی۔ ایک دوست کے طور پر ان کی قبر پر حاضری دینے کے بعد جو دلی سکون محسوس ہوا، وہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
راجہ کے ٹو سے میری شناسائی بچپن سے تھی۔ جب انہوں نے اخبار کی اشاعت کا آغاز کیا تو مجھے بھی ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ گلگت بلتستان کی ایک معروف سیاسی و سماجی شخصیت نے ان کے اخبار کی پہلی اشاعت کے لیے بیس ہزار روپے کی خطیر رقم فراہم کی، جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ اسی مدد سے انہوں نے روزنامہ کے ٹو کی بنیاد رکھی۔
اخبار کے ڈیکلریشن کے حصول میں بھی کئی اہم شخصیات نے کردار ادا کیا۔ گلگت بلتستان کے مایہ ناز سیاستدان اور مفکر ودانشور حاجی فدا محمد ناشاد نے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر حاجی ثنا واللہ صاحب سے خصوصی کوشش کرکے انہیں ڈیکلریشن دلوایا۔ بعد ازاں جب راجہ صاحب کو ایک مقدمے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں حراست میں لیا گیا تو اس وقت کے ناردرن ایریاز کے فورس کمانڈر جنرل صفدر سے مذاکرات کیے گئے۔ ناشاد صاحب کی کاوشوں سے ضمانت کا معاملہ طے پایا اور یوں راجہ کے ٹو کو رہائی ملی۔ یہ واقعہ خود ناشاد صاحب نے مجھے سنایا تھا، جو ان کی جدوجہد اور تعلقات کی مضبوطی کا واضح ثبوت ہے۔
اسی مناسبت سے ناشاد صاحب نے راجہ کے ٹو کے حوالے سے یہ خوبصورت قطعہ بھی ارسال کیا، جو اس مضمون کی زینت ہے:
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں
موت ہی زندگی کی منزل ہے
اس سے بچنے کا راستہ ہی نہیں
اپنی رچناؤں میں وہ زندہ ہے
وہ تو سنسار سے گیا ہی نہیں
حقیر: فدا محمد ناشاد، اسکردو
بعد میں انہوں نے اپنے اخبار میں ایک ادارے کی کوتاہی کی نشاندہی کی، جو متعلقہ سربراہ کو ناگوار گزری۔ نتیجتاً اخبار کا این او سی منسوخ کر دیا گیا۔ مگر راجہ کے ٹو کا حوصلہ پست نہ ہوا۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور دوبارہ این او سی حاصل کرنے کی جدوجہد کی۔ آخرکار ضلع گانچھے خپلو سے، ایک سیاسی شخصیت کی سفارش پر، وہ دوبارہ کامیاب ہوئے۔ اس سلسلے میں میرے سسر جناب بابو نثار حسین (اس وقت ایڈمن آفیسر ضلع گانچھے) نے بھی ان کی بھرپور مدد کی۔
راجہ کے ٹو ایک حقیقت پسند، بہادر اور نڈر صحافی تھے۔ وہ ہمیشہ سچ لکھتے تھے اور سچ لکھنے میں کبھی خوف محسوس نہیں کرتے تھے۔ سچ لکھنے کی پاداش میں انہیں جیل بھی جانا پڑا، مگر انہوں نے اپنے مشن سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔
26 جنوری 2012 کو لاہور سے واپسی کے دوران شیخوپورہ کے قریب ایک المناک ٹریفک حادثے میں وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ ان کی جدائی کا دکھ آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرے عزیز دوست راجہ حسین خان مقپون المعروف راجہ کے ٹو کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
آخر میں اپنے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا:
ہر دل عزیز شخص تھا، سب کو پسند تھا
کے ٹو کی طرح حوصلہ ان کا بلند تھا
جھکتا نہیں تھا وہ کسی ظالم کے سامنے
نہ ہی کسی امیر کا احسان مند تھا

