Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Footpath Par Sajda

Footpath Par Sajda

فٹ پاتھ پر سجدہ

کہتے ہیں ایک درویش سے کسی نے پوچھا، تم نے اللہ کو کہاں پایا؟ اس نے جواب دیا: "جہاں میں رُک گیا، وہیں وہ مل گیا"۔ پوچھنے والے نے حیرت سے کہا، کیا وہ مسجد میں تھا؟ درویش مسکرایا، بولا: "مسجد میں بھی تھا، بازار میں بھی تھا، سفر میں بھی تھا، مگر مجھے وہ اس لمحے ملا جب میں نے اپنے قدم روک کر اپنے ماتھے کو زمین سے ملا دیا"۔ عبادت کی ساری حکمت شاید اسی توقف میں پوشیدہ ہے۔ زندگی دوڑتی رہتی ہے، سانسیں بھاگتی رہتی ہیں، خواہشیں آگے کو دھکیلتی رہتی ہیں، مگر انسان اُس وقت انسان بنتا ہے جب وہ دوڑ کے بیچ میں رک کر اپنی پیشانی کو خاک کے سپرد کر دیتا ہے۔ یہی رُکنا اصل حرکت ہے، یہی جھکنا اصل بلندی ہے۔

چند روز پہلے میرے ایک دوست نے، جو خلیج کے ایک ملک میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہے، ایک آنکھوں دیکھا منظر بیان کیا۔ رمضان المبارک کی ایک سہہ پہر وہ سڑک کنارے سفر کر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک مقامی عرب پر پڑی۔ وہ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے اپنے موبائل فون پر تلاوت کرتا جا رہا تھا، لب ہل رہے تھے، قدم رواں تھے۔ اچانک وہ رُکا، جیسے کسی اندرونی آواز نے اسے تھام لیا ہو۔ شاید سجدۂ تلاوت کی آیت آئی تھی۔ اس نے موبائل جیب میں ڈالا اور وہیں فٹ پاتھ پر سجدے میں گر گیا۔ نہ اطراف کا ہجوم اس کے لیے رکاوٹ بنا، نہ گزرتی گاڑیوں کی آوازیں اس کی یکسوئی کو توڑ سکیں۔ لمحہ بھر بعد وہ اٹھا، موبائل نکالا، تلاوت پھر جاری ہوئی اور قدم پھر چل پڑے۔ منظر مختصر تھا، مگر معنی وسیع۔ اس فٹ پاتھ پر بچھا ہوا وہ سجدہ محض ایک فقہی تقاضا پورا کرنے کا عمل نہ تھا، وہ ایک اعلان تھا کہ بندگی کے لیے مخصوص جگہ کی نہیں، مخصوص دل کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک اور دوست نے بھی کچھ عرصہ پہلے یہی مشاہدہ بیان کیا تھا کہ یہاں جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو لوگ رک جاتے ہیں۔ دکانیں کھلی ہوں یا سودے ادھورے، گفتگو جاری ہو یا سفر عروج پر، اذان کی آواز آتے ہی جیسے وقت کی رفتار بدل جاتی ہے۔ وہ مسجد کی طرف بڑھتے ہیں، فرض ادا کرتے ہیں اور پھر واپس اپنے کام کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ نہ عبادت کو بوجھ بناتے ہیں، نہ دنیا کو معبود۔ عبادت مختصر رکھتے ہیں مگر باقاعدہ رکھتے ہیں۔ دو رکعت کو دو سو رکعت بنانے کی نمائش نہیں کرتے، مگر دو رکعت کو ترک بھی نہیں کرتے۔ اللہ سے رابطہ قائم رکھتے ہیں، مگر اسے دکھاوے کا موضوع نہیں بناتے۔ شاید راز یہی ہے کہ وہ زندگی کو دو حصوں میں تقسیم نہیں کرتے: ایک حصہ دنیا کا اور ایک حصہ دین کا۔ ان کے لیے زندگی ایک ہی ہے اور اس زندگی میں اللہ کو بھولنے کا وقفہ نہیں آتا۔ وہ رکتے ہیں، جھکتے ہیں اور پھر چل پڑتے ہیں، مگر اس سجدے کے بعد ان کا چلنا پہلے جیسا نہیں رہتا۔

ہم اکثر ترقی اور خوشحالی کے اسباب تلاش کرتے ہوئے معیشت، پالیسی، وسائل اور منصوبہ بندی کی بحث میں الجھ جاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب اہم ہیں، مگر ایک معاشرے کی اصل طاقت اس کی روحانی ترتیب میں ہوتی ہے۔ جس قوم کے افراد دن میں پانچ مرتبہ اپنے آپ کو ایک اعلیٰ ہستی کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہوئے جھکا دیں، ان کے اندر نظم بھی پیدا ہوتا ہے اور تواضع بھی۔ سجدہ انسان کے غرور کو زمین پر رکھ دیتا ہے۔ وہ یاد دلاتا ہے کہ تم جتنے بھی بااختیار ہو، تمہارا اختیار مطلق نہیں۔ تم جتنے بھی مصروف ہو، تمہاری مصروفیت اصل مقصد نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کم وسائل کے باوجود ان معاشروں میں ایک داخلی سکون نظر آتا ہے۔ انہوں نے اللہ کو وقت دینا سیکھ لیا ہے۔ وہ عبادت کو زندگی سے الگ کرکے نہیں رکھتے، زندگی میں شامل کر لیتے ہیں۔ ان کا سجدہ لمبا نہیں ہوتا، مگر مسلسل ہوتا ہے۔ وہ رابطہ توڑتے نہیں، اسی لیے رحمت کا سلسلہ بھی منقطع نہیں ہوتا۔

فٹ پاتھ پر کیا گیا وہ سجدہ میرے لیے محض ایک واقعہ نہیں، ایک استعارہ ہے۔ یہ استعارہ ہے اُس ایمان کا جو حالات کا محتاج نہیں، اُس تعلق کا جو عمارتوں کا پابند نہیں، اُس بندگی کا جو رسمی پن سے آزاد ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو سفر کے بیچ میں، گفتگو کے دوران، تجارت کی گرمی میں یا مصروفیت کی دھند میں اچانک رک کر اپنے رب کو یاد کرتے ہیں؟ ہم اکثر مناسب وقت کے انتظار میں رہتے ہیں، مگر اللہ کے لیے مناسب وقت وہی ہے جو ابھی ہے۔ شاید ہمیں بھی اپنی زندگی کے فٹ پاتھوں پر سجدے تلاش کرنے ہوں گے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ عبادت کو غیر معمولی واقعہ نہ بنائیں، اسے معمول بنا لیں۔ جب بندہ اپنی پیشانی کو خاک پر رکھ دیتا ہے تو دراصل وہ اپنے دل کو آسمان سے جوڑ لیتا ہے اور جس دل کا رابطہ آسمان سے جڑ جائے، اس کے لیے زمین کی تنگیاں کشادہ ہو جاتی ہیں۔

یہ تحریر دراصل ایک چھوٹے سے منظر کی بڑی معنویت کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔ ایک سادہ سجدہ، ایک مختصر توقف اور ایک مستقل رابطہ، شاید خوشحالی اور سکون کا راز اسی تسلسل میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں لمبی عبادتوں سے زیادہ باقاعدہ عبادتوں کی ضرورت ہے، بڑے دعوؤں سے زیادہ خاموش جھکنے کی ضرورت ہے۔

رُکا جو لمحہ بھر کو تو راستہ بدل گیا
زمین چھو کے دیکھ لی، تو آسمان مل گیا

وہ سجدہ مختصر سہی، مگر اثر یہ کر گیا
میں خود سے دور تھا بہت، جا کے خدا سے مل گیا

نہ شورِ شہر روک سکا، نہ وقت کی دوڑ دھوپ
جہاں پہ سر جھکا دیا، وہیں سکون مل گیا

چلا تھا تنہا میں بھی ساتھ ساتھ ہجومِ آرزو
قدم جو رک گئے ذرا، تو کارواں مل گیا

عبادتوں کا راز ہے بس اتنا اے دوستو!
رابطہ نہ توڑا کبھی، تو سب صلہ مل گیا

Check Also

Dorahe Par Khara Pakistan

By Noorul Ain Muhammad