Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Jawad Hussain Rizvi
  4. Iran Par Phir Se Jang Musallat

Iran Par Phir Se Jang Musallat

ایران پر پھر سے جنگ مسلط

آخرکار کئی دنوں سے جاری ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا۔ حسب دستور امریکہ نے مذاکرات کا جھانسا دیتے ہوئے پیچھے سے ایران پر حملہ کروا دیا۔ آج صبح تہران کے مختلف مقامات پر حملے ہوئے جن میں صدر مملکت کا گھر اور دفتر بھی شامل ہے۔ تہران کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حملوں کا ہدف جوہری و دفاعی تنصیبات نہیں بلکہ براہ راست قیادت پر حملہ ہے کیونکہ شہروں علاقوں میں دفاتر اور اہم شخصیات اور مقامات کو ہدف بنایا گيا ہے۔ صدر مملکت کا گھر اور دفتر جس علاقے میں واقع ہے وہیں رہبر معظم کا دفتر اور گھر (بیت رہبری) اور ایران کی پارلیمنٹ (مجلس) بھی موجود ہے۔

تہران کے اس علاقے میں خیابان پاستور، خیابان جمہوری اسلامی اور آگے چل کر خیابان انقلاب اسلامی کے نام سے اہم سڑکیں ہیں۔ تہران یونیورسٹی بھی یہیں واقع ہے۔ میرا بچپن انہی مقامات اور گلیوں میں گزرا ہے اور آج جب اطلاعات آ رہی ہیں تو میں ان جگہوں کو بہتر locate کر پا رہا ہوں۔ اس علاقے میں حملے کا مطلب سیاسی و عسکری قیادت پر حملہ ہے۔

کچھ دیر میں صورتحال مزید واضح ہوگی، بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس حملے کی پلاننگ اسرائیل اور امریکہ کافی دنوں سے کہہ رہے تھے اور آج کا دن حملوں کے لئے کچھ روز قبل مقرّر کیا گیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ حملے چار دن جاری رہیں گے، اس کا مقصد ایران پر مزید پریشر بڑھانا ہے تاکہ امریکہ و اسرائیل کی شرائط پر مذاکرات ہو سکیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ ایران اب کس طرح جواب دیتا ہے۔ کچھ دن قبل رہبر معظم نے وارننگ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ اس بار کسی قسم کے حملے ہوئے تو ایران اس کو باقاعدہ جنگ کا اعلان تصوّر کرے گا اور جنگ کو پورے خطّے میں پھیلا دے گا۔ آج صبح اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی نیشنل سیکورٹی کونسل کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا:

"ھشدار دادہ بودیم، حالا مسیری را شروع کردید کہ پایانش دیگر در دست شما نیست"۔

یعنی ہم نے خبردار کیا تھا، اب تم نے ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جس کا انجام تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔

ایران کے پاس جوابی طور پر مختلف آپشنز میں جاندار آپشن یہی ہے کہ اس جھڑپ کو باقاعدہ جنگ میں بدل دے۔ امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی یہی ہے کہ مختصر حملے کرکے ایران کو پریشر میں لایا جائے۔ طولانی جنگ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ بہت جلد وہاں مڈ ٹرم الیکشن ہونے والے ہیں، طولانی جنگ ٹرمپ کے خلاف جائے گی کیونکہ وہ امریکہ کو جنگوں سے نکالنے کے وعدے پر برسر اقتدار آيا تھا۔ اگر مڈ ٹرم میں وہ سینیٹ میں ہار جاتا ہے تو باقیماندہ مدّت کے لئے ٹرمپ محض ایک علامتی صدر بن کر رہ جائے گا۔

ایران کے پاس اب کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ اگر کسی طرح وہ جنگ بڑھانے سے گریز کرے تو امریکہ و اسرائیل اس کے وجود کو ختم کرکے چھوڑیں گے، یہ کسی حال میں خوش نہیں ہونے والے۔ اگر جوہری صلاحیت پر سمجھوتہ کریں تو میزائیل ٹیکنالوجی پر بات کریں گے اور دفاعی طور پر نہایت کمزور کرکے ہی چھوڑیں گے۔ لہذا کیوں نہ بھرپور جنگ لڑ کر انہی کو پریشر میں لایا جائے اور ان کے عزائم کو خاک میں ملایا جائے؟

مجھے سن 2020 میں شہید ہونے والے ایرانی جرنیل کی بات یاد آئی۔ آپ کی ایک تقریر سنی جس میں وہ اشارہ کرتے ہیں کہ صیہونی ریاست نے مصر کی پوری فضائیہ ختم کر دی، مصر نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔ عراق میں صدّام حسین کے عروج کے دور میں عراقی ایٹمی پلانٹ پر حملہ کیا لیکن صدّام نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔ سوڈان پر وہ مختلف بہانوں سے حملے کرتا رہا، سوڈان نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر شہید جرنیل فرماتے ہیں کہ اسرائیل وہ آوارہ کتّا ہے جس سے آپ ڈریں گے تو وہ آپ کے پیچھے بھاگے گا، لیکن اگر آپ مقابلے کے لئے کھڑے ہو جائیں تو وہ ڈر جائے گا۔

ایران نے جوابی حملے کی باقاعدہ تنبیہ جاری کی ہے۔ البتہ ایک بات کا خیال رکھنے کی بہت ضرورت ہے، خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈّوں کو نشانہ فی الحال نہ بنائے کیونکہ ان سے خلیجی ممالک ناراض ہو سکتے ہیں جو اب تک غیر جانبدار ہیں اور اخلاقی طور پر ایران کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ البتہ اگر حملوں میں کوئی امریکی اڈہ ملوّث ہے تو پھر اس پر حملہ کرنے سے ذرا بھی نہ ہچکچائے کیونکہ ایران وارننگ دے چکا ہے کہ جس ملک میں واقع اڈّے سے ایران پر حملہ ہو ایران لازمی جوابی حملہ کرے گا۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق خلیجی ممالک میں سے کسی اڈّے اور بحری بیڑے سے ایران پر حملہ کیا گيا ہے۔ صورتحال واضح ہوگی تو ایران اسی حساب سے جواب دے گا۔

امریکہ یہ بھی کوشش کرے گا کہ حملوں کی آڑ میں ایران میں موجود حکومت مخالف عناصر کو پھر سے شہہ دے تاکہ اندرونی طور پر بھی حالات دگرگوں ہو اور سسٹم collapse کر جائے۔

Check Also

Qanoon Ki Khamoshi Aur Riyasti Ghaflat

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi