Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mutruba Sheikh
  4. Maeeshat Ki Bindiya

Maeeshat Ki Bindiya

معیشت کی بندیا

پچھلے برس جب عید پر کراچی آئی تھی تب بھی کریم آباد کی مین روڈ ناپید تھی، ایک خوفناک گڑھا موجود۔ معلوم ہوا کہ فلائی اوور بن رہا ہے۔ ہیبت ناک طریقے سے ٹریفک کا آنا جانا، پیدل چلنے والوں کی خواری، دھکے کھا کر میں اور سندس واپس آ گئے۔ کیونکہ ہم کو پرانا راستہ اور دکانیں مل ہی نہیں رہیں تھیں۔ عجیب افراتفری تھی۔

کریم آباد جانا اچھا لگتا ہے سو اسی لئے گئی تھی، اس بار بھی جانے کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہی صورتحال ہے۔ یعنی ایک سال میں جو کچھ بننا تھا نہ بن سکا یا نہ جانے بنایا نہ گیا۔ جب کہ اسلام آباد میں صرف پندرہ دن لگتے ہیں چاہے ایک نئی سڑک کی تعمیر ہو، اوور ہیڈ برج ہو یا فلائی اوور ہو۔

یہ موازنہ یا حسد نہیں ہے خدا نہ خواستہ۔ کہنے کی بات صرف یہ ہے کہ ملک کا سب سے بڑا صنعتی ساحلی شہر، مڈل کلاس و محنت کش عوام پر مشتمل آبادی کے ساتھ اور ظلم یہ ہے کہ شہر سے سڑکیں ناپید ہیں، کریم آباد فلائی اوور کی آڑ میں مڈل کلاس عوام کی کمر توڑی گئی ہے۔ گل پلازہ سانحے نے کاروبار پر ضرب لگائی ہے۔ مڈل کلاس دکاندار کو نقصان ہوا ہے، لیکن ساحلی شہر دنیا میں کہیں بھی ہو، اس کی سڑک پر پہیہ چلتا رہتا ہے، مزدور بھی ٹوٹی سڑک کنارے بیٹھا رہتا ہے، یہ دنیا کی معیشت کا اصول ہے لیکن ہماری دیہاتی اسٹیبلشمنٹ اور وراثتی و وڈیرہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ بین الاقوامی سرمایہ دار کمپنیوں کو کہتی رہیں، کہ ہمارے گاوں میں سرمایہ لگا دو، ہمارے گوٹھ میں پلانٹ لگا دو، ارے بھئی بین الاقوامی کمپنیاں شہروں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، وہ بدلے میں سرمایہ چاہتی ہیں، تم خود کیوں نہیں اپنے دیہات کو اچھا بناتے ہو، دوسروں سے کیوں مانگتے ہو۔

اب ہوا یہ ہے آئی ایم ایف نے قرضہ تو دے دیا ہے اور بوٹ صاف کرکے آئی ہوئی حکومت نے معیشت کی دلہن کو بندیا لگا کر دنیا کو دکھانے کی کوشش کی ہے کہ معیشت چل رہی ہے، لیکن دنیا بے وقوف نہیں ہے، آپ ترسے ہوئے ٹھرکی ہیں، دنیا کے کاروباری لوگ ترسے ہوئے نہیں ہیں، وہ ہر کام وقت پر کرتے ہیں انہیں آپکی بندیا والی معیشت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، ان کو سرمایہ واپس چاہیئے منافع کے ساتھ اور اس کے لئے ان کو کراچی چاہیے جس پر وڈیرہ پارٹی اور سرکاری ایم کیو ایم قابض ہیں اور کراچی میں سیاسی خلا بھی بدستور موجود ہے لیکن سرمایہ بے رحم ہے۔

قرض دینے والوں نے افراد منتخب کر لئے ہیں، جلد ہی وہ منظر پر ہونگے۔۔ کراچی کو الگ صوبہ بنانے اور سندھ کی تقسیم کی بحث فضول ہے۔۔ کراچی کو سرمائے، معیشت کے چلتے پہیے اور ترقی کے لئے نئی قیادت درکار ہے اور وہ بین الاقوامی اشارے پر ہی آئے گی، کیونکہ ہم قرضے میں ڈوبے ہوئے بھکاری ہیں۔

Check Also

Maeeshat Ki Bindiya

By Mutruba Sheikh