Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Syed Kashif Raza

Syed Kashif Raza

سید کاشف رضا

اپریل مئی کے سخت گرم دن تھے اور زیر تعمیر عمارت کے وسیع و عریض تہہ خانے میں بنا دفتر۔ ایک نئے اخبار کے لیے بھرتیاں جاری تھیں۔ ابھی کام شروع نہیں ہوا تھا۔ دوگنا تنخواہوں پر بڑے اخبارات سے آئے بزرگ اور کرئیر کا آغاز کرتے پرعزم لونڈے الگ الگ ٹولیاں بناکر صاف ستھرے یا گندے لطیفے سناکر وقت گزارتے تھے۔

تب ایک پچیس چھبیس سال کا دبلا پتلا نوجوان دونوں ٹولیوں سے الگ ایک کرسی پر بیٹھ کر کتاب پڑھتا رہتا تھا۔ یہ کام مجھے بھی پسند تھا لیکن انچولی پنے کی وجہ سے مجلس بازی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ میں نے اس نوجوان کو اپنی ٹولی میں شامل کرنے کے لیے چال چلی۔ ایک دن ایک کتاب لے کر آیا اور اسے تحفے میں دی۔ یوں بات چیت کا آغاز ہوا جو رفتہ رفتہ دوستی میں ڈھل گئی۔

لیکن اس بوڑھی روح نے نوجوانوں کو زیادہ گھاس نہیں ڈالی۔ اخبار کا کام شروع ہوا تو بڈھوں ٹھڈوں ہی میں گھس بیٹھا۔ بزرگ صحافی کہاں کسی کو مانتے ہیں۔ اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا لیکن دانشور کا خطاب دے کر مضحکہ بھی اڑایا۔

اس نوجوان کا نام سید کاشف رضا تھا اور یہ قیوم آباد میں روزنامہ ایکسپریس کے ظہور سے پہلے کے ایام تھے۔

کاشف اس سے پہلے روزنامہ پبلک میں کام کرچکا تھا اور اتفاق سے وہ بھی ایک عمارت کے تہہ خانے میں قائم تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ شاعری کرتا ہے۔ میری فرمائش پر اس نے ایک غزل سنائی جس پر میں نے بہت داد دی۔ اس کا ایک شعر آج بھی مجھے کچا پکا یاد ہے۔

نہ جانے کون یہاں قتل ہونے والا ہے
صبح سے شہر میں خوف و ہراس کافی ہے

ان دنوں شہر کے حالات خراب تھے اور ذاتی زندگی کا بھی بے رحم دور تھا۔ اس مشکل وقت میں ایکسپریس کا مثبت ماحول اور کاشف جیسے دوستوں کا ساتھ غنیمت تھا۔ وہیں فہیم صدیقی، ندیم رضا، زاہد مظہر، عارف عزیز پنہور، نعیم کھوکھر، عمران احمد، ریحان ہاشمی اور دوسرے نوجوان بھی ہمارے دوست بنے جو بعد میں اخبارات اور نیوز چینلوں میں بڑے عہدوں پر پہنچے۔

بعض صحافیوں کا مقصد عہدے حاصل کرنا ہوتا ہے لیکن کاشف کو زیادہ دلچسپی ادب کے مطالعے میں تھی۔ یہ بھی ایک مقصد ہے جو دنیادار لوگوں کو سمجھ نہیں آتا۔ کاشف سال کا ہدف مقرر کرتا تھا، شاید اب بھی کرتا ہو، کہ اس سال پچاس یا ستر کتابیں پڑھنی ہیں۔ دسمبر میں اس پر وحشت طاری ہوجاتی کہ ہدف پانے میں ناکامی نہ ہوجائے۔

کاشف نے وہیں ایک نظم سنائی جس کا ایک ٹکڑا مجھے یاد رہ گیا۔

میں اپنے پاوں سرخ کرنا چاہتا ہوں
گھوم گھوم کے

اور تمھارے
چوم چوم کے

کاشف نے محبوبہ کے پاوں سرخ کیے یا نہیں، میں نہیں جانتا۔ لیکن اس کے پیر میں کافی عرصہ بھنور رہا۔ وہ کسی جگہ ٹکتا نہیں تھا۔ ایکسپریس سے نکل کر جنگ گیا، پھر ڈان، پھر انڈس نیوز، پھر جیو، پھر آج۔ ممکن ہے ایک دو اور چھلانگیں بھی لگائی ہوں۔ آخر جیو میں واپسی ہوئی اور اب ادھر ہی ٹک کر بیٹھا ہے۔

جن دنوں کاشف انڈس نیوز میں کام کررہا تھا، میں ایکسپریس سے جنگ آچکا تھا۔ اس نے مجھے فون کیا کہ اخبارات کا ڈبا گول ہونے والا ہے اور مستقبل نیوز چینلوں کا ہے۔ یہاں انڈس نیوز میں اسپورٹس ڈیسک پر آسامی ہے۔ اس وقت تک جیو نیوز لانچ نہیں ہوا تھا۔ میں ایک ہفتے تک دن میں انڈس نیوز اور شام کو حسب معمول جنگ میں کام کرتا رہا۔ لیکن بات نہ بنی۔ انڈس نیوز کے مدار المہام ان دنوں مجاہد بریلوی تھے۔ ساری دنیا ان کی دوست اور معترف ہوگی لیکن انھوں نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ لوگ جنگ چھوڑتے ہیں تو دوگنا تنخواہ پر جاتے ہیں، بریلوی صاحب نے جنگ سے کم تنخواہ کی پیشکش کی۔ کاشف کی سفارش بھی نہیں مانی۔

بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ کاشف مصنوعی نہیں حقیقی شاعرانہ مزاج رکھتا ہے۔ یعنی جلدی خفا ہوجاتا ہے۔ میری خوفناک حد تک مذاق کرنے کی عادت ہے اور وہ برسوں سے جانتا ہے۔ پھر بھی ایک دن کسی بات پر ایسا ناراض ہوا کہ بات کرنا چھوڑ دیا۔ فیس بک پر بلاک کردیا۔ مجھے اسے منانے میں کافی وقت لگا۔

کاشف کا پہلا مجموعہ کلام چھپا تو اس نے تحفہ دیا لیکن اس کے پہلے صفحے پر انور شعور کا شعر لکھا۔

دوست کہتا ہوں تمھیں، شاعر نہیں کہتا شعور
دوستی اپنی جگہ ہے، شاعری اپنی جگہ

یہ اس کی صاف گوئی تھی کہ مجھے دوست کہا لیکن صحافتی یا ادبی صلاحیتوں سے عاری قرار دیا۔ مجھے اس نکتے پر اس سے کوئی اختلاف نہیں۔

میں نے سو لفظوں کی کہانی لکھنا شروع کی تو کاشف نے اس سلسلے کی تعریف کی۔ میں نے پہلی کتاب نمک پارے چھاپنے کا ارادہ کیا تو فرمائش کرکے اس سے دیباچہ لکھوایا جس میں اس نے سو لفظوں کی کہانی کو فکشن کی ٹو ٹوئنٹی اور مجھے فکشن کا شاہد آفریدی قرار دیا۔ پتا نہیں یہ تعریف تھی یا تنقید۔

میں نے بھائی آصف فرخی اور ایک دو اور افراد سے بھی فرمائشی تحریریں لکھوائیں لیکن آخر میں فیصلہ کیا کہ کتاب میں کچھ شامل نہیں کروں گا۔ کاشف کی تحریر بھی نہیں چھپی۔ وہ اس پر بھی خفا ہوا ہوگا۔

جیونیوز کے دبئی سے کراچی آنے کے بعد کچھ وقت ہم الگ الگ بلیٹن ٹیموں میں رہے۔ پھر مجھے پرائم ٹائم یعنی رات نو بجے کا بلیٹن دیا گیا تو کاشف رضا میری ٹیم میں آگیا۔ ہم نے کئی سال جیونیوز کی تاریخ کے بہترین بلیٹن کیے۔ یہ میں ہوا میں بات نہیں کررہا، ریٹنگ کے حساب سے بتارہا ہوں۔ بے شک اس کامیابی میں دوسرے ٹیم ممبر اور رپورٹر بھی شامل تھے۔ کاشف اور کامران مبشر کے اسکرپٹس اور پیکجز نے خوب دھوم مچائی۔

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا آنے کے بعد مذہب سے متعلق میرے خیالات میں تبدیلی آئی۔ حالانکہ ایسا ہمیشہ سے تھا اور کاشف بھی جانتا تھا۔ ایک دن اس نے نیوزروم میں میری تعریف ان الفاظ میں کی کہ جب تم شراب نہیں پیتے، عورت بازی یا بچہ بازی نہیں کرتے، کوئی شرعی عیب نہیں ہے تو پورے مذہبی کیوں نہیں ہوجاتے۔ خیر، اسے جواب معلوم تھا۔

کاشف بعض معاملات میں بالکل سیدھا ہے۔ ایک دن اس نے کہا کہ میں کار خریدنا چاہتا ہوں۔ میں نے اسی دن جنگ کلاسیفائیڈ میں اشتہار دیکھا تھا کہ کوئی شخص امپورٹڈ جاپانی گاڑی بیچنا چاہتا تھا۔ کاشف نے وہ ایڈرس لیا اور جاکر گاڑی خرید لی۔ مجھے حیرت ہوئی۔

ایک دن میں نے کہا کہ دفتر تو اپنی گاڑی میں آتے ہوگے، مجھے بھی نئی گاڑی دکھاو۔ اس نے کہا، میں قریب ہی صدر میں رہتا ہوں۔ وہاں پارکنگ کا بڑا مسئلہ ہے۔ میں گاڑی نہیں ہٹاتا کہ وہاں کوئی اور اپنی گاڑی نہ پارک کردے۔ دفتر پیدل یا رکشے میں آجاتا ہوں۔ میں نے کئی دن اس بات پر اس کا ریکارڈ لگایا۔ ایک دن کوئی کولیگ اس کے ساتھ اس گاڑی میں کہیں گیا۔ کولیگ نے کہا، اتنی گرمی ہورہی ہے، اے سی کیوں نہیں چلاتے؟ کاشف نے کہا، اے سی کیسے چلتا ہے؟ کولیگ نے وہ بٹن دکھایا جسے دبانے سے اے سی چلتا ہے۔ واپس آکر اس نے یہ بات بتائی تو ہم خوب ہنسے۔

کاشف اچھا شاعر ہے، انعام یافتہ ناول لکھ چکا ہے، مترجم کے طور پر خود کو منوایا ہے۔ لیکن مجھے اس کی سب سے اچھی بات یہ لگی کہ وہ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلوارہا ہے۔ وہ ایک کمرے کے فلیٹ میں رہا، کم تنخواہ میں گزارہ کیا لیکن بچوں کی تعلیم پر سمجھوتا نہیں کیا۔ اس کی بڑی بیٹی ڈاکٹر بن رہی ہے۔ اس نے اپنے بچوں میں مطالعے کا شوق بھی پیدا کیا ہے۔ گھر کتابوں سے بھرا ہو تو بچوں کی ان سے دوستی ہو ہی جاتی ہے۔

میں کبھی کبھی حیران ہوتا ہوں کہ مجھ میں اور کاشف میں کافی چیزیں ایک جیسی ہیں۔ ہم دونوں پنجاب میں پیدا ہوئے، کراچی میں زیادہ وقت گزارا۔ کتابوں کا شوق ہے، صحافت ساتھ کی اور تین میڈیا اداروں میں ساتھ رہے۔ درجنوں نہیں سیکڑوں مشترکہ دوست ہیں۔ ہم دونوں کے بڑی حد تک مذہبی اور سیاسی خیالات ایک جیسے ہیں۔ فرق البتہ یہ ہے کہ میں خفا کرنے میں ید طولی رکھتا ہوں اور وہ زود رنج ہے۔ اب اسی پر سمجھوتا کرنا پڑے گا۔ اس عمر میں بری عادتیں کہاں چھوٹتی ہیں۔

Check Also

Syed Salman Gilani Muskurahaton Ke Moammar

By Farhat Abbas Shah