Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Behr e Takhleeq Ka Geniati o Roohani Safar

Behr e Takhleeq Ka Geniati o Roohani Safar

بحرِ تخلیق کا جینیاتی و روحانی سفر

انسانی وجود کی ابتدا اور صنفِ نازک کی تخلیق کا موضوع ہمیشہ سے ایک معمہ رہا ہے۔ میرا یہ مقالہ اس بنیادی نظریے کو پیش کرتا ہے کہ حواؑ کی تخلیق باری تعالیٰ کے نظامِ تخلیق میں بنیادی طور پر پہلے سے موجود تھی، کیونکہ کائنات کی ہر شے جوڑوں (Pairs) کی صورت میں بنائی گئی ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حواؑ کی تخلیق آدمؑ کی جنت میں اداسی دور کرنے کے لیے کی گئی، لیکن میں اس تحقیق کے ذریعے یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی ہنگامی فیصلہ نہیں تھا۔ آدمؑ کی تخلیق سے پہلے ہی ان کا جوڑا ان کے جینیاتی وجود یعنی نفسِ واحدہ (Genetic Entity) کے اندر علیحدہ کرکے وضع (Design) کر دیا گیا تھا۔ یہ ایک عظیم جینیاتی انجینئرنگ (Genetic Engineering) تھی جہاں بائبل کی "پسلی" اور قرآن کا "نفسِ واحدہ" ایک ہی سچائی کے دو رخ بن کر سامنے آتے ہیں۔ میرا یہ مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ انسانیت کی بنیاد اس "وحدت" پر ہے جہاں ایک ہی جان کو دو رخوں، سیدھا (Right) اور الٹا (Left) میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کا "زوج" بنایا گیا۔

اول: الہامی مآخذ اور پسلی کے ذکر کی ابتدا

تحقیق کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انسانی تخلیق میں "پسلی" کا ذکر سب سے پہلے کہاں سے آیا؟ یہ ذکر قدیم الہامی کتب (Divine Books) میں ملتا ہے:

1۔ بائبلی بیانیہ: کتابِ پیدائش (Genesis)

بائبل کی پہلی کتاب، "کتابِ پیدائش" کے دوسرے باب میں یہ واقعہ تفصیل سے درج ہے کہ آدم پر گہری نیند (Deep Sleep) طاری کی گئی اور ان کی پسلیوں میں سے ایک نکالی گئی۔ یہ مادی دنیا میں ایک جراحی عمل (Surgical Process) کی تمثیل (Allegory) تھی جس کے ذریعے وہ جینیاتی مادہ نکالا گیا جسے دنیا نے "پسلی" کے نام سے موسوم کیا۔

دوم: قرآنِ مجید کا فیضان، زوج اور جینیاتی وحدت

قرآنِ مجید کا فیضان یہ ہے کہ اس نے اس حقیقت کو کس طرح "نفسِ واحدہ" اور "زوج" کے تصور میں پرو دیا۔ قرآنِ کریم سورہ النساء کی پہلی آیت میں فرماتا ہے کہ تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا (زوج) بنایا۔

میرا یہ نکتہ نظر ہے کہ قرآن مرد اور عورت کو محض دو الگ افراد نہیں کہتا، بلکہ ان کے لیے "زوج" کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ جوڑا (Pair) ہمیشہ ایک ہی قسم کی چیز اور ایک ہی نفس سے نکلا ہوا ہوتا ہے۔ یہ دراصل ایک ہی "نفس" کے دو کونے (Corners) ہیں، ایک سیدھا (Right) اور دوسرا الٹا (Left)۔ جیسے ایک ہی سانچے (Mold) سے جوتے کے دو پیر بنائے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح حواؑ کو آدمؑ کے ہی نفسِ واحدہ سے نکالا گیا تاکہ وہ ان کا مکمل جوڑا بن سکیں۔ یہ "زوج" کا تصور اس جینیاتی وحدت کا نام ہے جہاں ایک ہی ڈی این اے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تاکہ انسانیت کی بنیاد ایک ہی جڑ پر رہے۔

سوم: لسانیات کے پراسرار کواڑ، لفظ "پسلی" کی عالمی تاریخ

قدیم زبانیں اس سچائی کی گواہی دیتی ہیں کہ "پسلی" محض ایک ہڈی نہیں تھی:

سومیری (Sumerian): قدیم سومیری لفظ "TI" کے دو معنی ہیں: "پسلی" اور "زندگی دینا"۔

عبرانی (Hebrew): لفظ "Tsela" کا مطلب "پہلو" یا "متوازی حصہ" (Parallel Part) ہے، جو ڈی این اے کے دو متوازی دھاگوں (Strands) کی عکاسی ہے۔

عربی (Arabic): لفظ "ضلع" اس ستون (Pillar) کو کہتے ہیں جس پر ڈھانچہ سہارا لے۔

چہارم: حیاتیاتی لیبارٹری، پسلی، بون میرو اور اسٹیم سیلز

میڈیکل سائنس یہ ثابت کرتی ہے کہ پسلی کا انتخاب کوئی اتفاق نہیں تھا۔ پسلیوں کے اندر موجود ہڈیوں کا گودا (Red Bone Marrow) اسٹیم سیلز (Stem Cells) کی فیکٹری ہے۔ یہ وہ ماسٹر سیلز ہیں جو کسی بھی قسم کے خلیے (Cell) میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قدرت نے بائیں پہلو کی پسلی کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ یہ دل کے قریب ہونے کی وجہ سے بہترین خون اور آکسیجن کی حامل ہوتی ہے، جو جینیاتی مواد (Genetic Material) کی صحت کے لیے موزوں ترین مقام ہے۔

پنجم: ڈی این اے کا بایاں دھاگہ اور جینیاتی ارتقاء

ڈی این اے کے دو دھاگوں میں سے بایاں دھاگہ (Template Strand) ہی وہ اصلی سانچہ ہے جس سے زندگی کا نقشہ تیار ہوتا ہے۔ آدمؑ کے ڈی این اے کے اسی بائیں دھاگے کو بنیاد بنا کر حواؑ کو ایک مکمل نمونے (Complete Version) کے طور پر وضع کیا گیا۔ انہیں مائٹوکونڈریل ڈی این اے (Mitochondrial DNA) جیسی خصوصیات دی گئیں جو صرف ماں سے نسلوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ اسی لیے آج کی جینیاتی ریسرچ بھی "Mitochondrial Eve" کے نظریے کے تحت ایک ہی واحد ماں کو تسلیم کرتی ہے۔

ششم: عالمِ مثال، تمثیلوں کی اصل دنیا اور شعور کا درخت

عالمِ مثال (The Realm of Archetypes) وہ لطیف جہان ہے جہاں حقائق اپنی مادی شکل میں آنے سے پہلے ایک "مثال" اختیار کرتے ہیں۔

جنت کا درخت: وہاں جو درخت تھا وہ محض لکڑی نہیں بلکہ شعور (Consciousness) یا شہوت و خواہش (Desire) کی ایک مثالی صورت تھی۔

پسلی کی تمثیل: بالکل اسی طرح، عالمِ مثال میں آدمؑ سے جوڑا نکالنے کے لیے "پسلی" کی جو تصویر دکھائی گئی، وہ دراصل اس پورے جینیاتی عمل (DNA Extraction) کی تمثیل تھی۔ وہاں جب آدمؑ تخلیق کے مراحل میں تھے، تبھی ان کے جینیاتی پہلو سے حواؑ کی مثال نکال لی گئی تھی۔ مادی دنیا میں وہ ڈی این اے بنے، لیکن عالمِ مثال میں وہ "پسلی" کے استعارے (Metaphor) میں ظاہر ہوئے کیونکہ پسلی دل کی محافظ اور لچکدار ہوتی ہے۔

حاصلِ کلام (Conclusion)

میرا یہ مطالعہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ قرآن کا "نفسِ واحدہ"، بائبل کی "پسلی" اور جدید سائنس کا "DNA" دراصل ایک ہی حقیقت کے مختلف نام ہیں۔ حواؑ کی تخلیق کائنات کی سب سے عظیم جینیاتی انجینئرنگ تھی جس نے ثابت کیا کہ انسانیت کی بنیاد جینیاتی اور روحانی وحدت پر ہے، جہاں مرد اور عورت ایک ہی جوہر کے دو رخ (سیدھا اور الٹا) ہیں جو ازل سے ایک دوسرے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔

Check Also

Mausam e Sarma Aur Garm Garm Kamre

By Syed Mehdi Bukhari