Sunday, 18 January 2026
  1.  Home
  2. Javed Chaudhry
  3. Choti Chot Nekiyan Aur Bare Bare Mojze

Choti Chot Nekiyan Aur Bare Bare Mojze

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور ہڈیوں کے گودے کے کینسر میں مبتلا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی زندگی صرف بون میرو ٹرانسپلانٹ سے ہی بچ سکتی تھی۔ بھائی بون میرو دینے پر آمادہ ہوگیا مگر علاج کے اخراجات ایک دیوار بن گئے۔ سی ایم ایچ راولپنڈی میں ہونے والے اس حساس آپریشن پر تقریباً پچیس لاکھ روپے درکار تھے۔ اہل خیر نے بڑی حد تک تعاون کیامگر آپریشن سے صرف دو دن پہلے چھ لاکھ روپے کی کمی رہ گئی اگر یہ رقم نہ ملتی تو آپریشن مؤخر ہو جاتااور یہ تاخیر طلحہ کی جان لے سکتی تھی۔ یہاں "چھوٹی چھوٹی نیکیاں" فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔ آغوش الخدمت یو ایس اے نے ایک دن کے اندر مطلوبہ رقم ہسپتال کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جس کے بعد طلحہ زندگی کی طرف لوٹ آیا، تعلیم دوبارہ شروع کی اور ایک گھر اجڑنے سے بچ گیا۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ وقت پر کی گئی نیکی معجزہ ہوتی ہے۔

یمن کے شہر زرانک کا مزدور علی ہجمانی اپنے بیٹے عبداللہ کو ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ عبداللہ صنعاء کے میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھا کہ خانہ جنگی شروع ہوگئی اور اس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ علی کا روزگار ختم ہوگیا مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے بیوی کے زیورات اور جمع پونجی بیچ کر عبداللہ کو پاکستان میں فیصل آباد میڈیکل کالج بھیج دیا۔ کالج نے اسے فیس میں رعایت دے دی لیکن اس کے باوجود اخراجات ناقابل برداشت تھے اور عبداللہ تعلیم چھوڑنے کے قریب پہنچ گیا۔

"چھوٹی چھوٹی نیکیاں" کے ذریعے چند دنوں میں اتنی رقم جمع ہوگئی کہ عبداللہ اپنی ڈگری مکمل کر سکتا تھا۔ آج یہ ڈاکٹر ہے اور یمن واپس جا کر اپنے جنگ زدہ ہم وطنوں کی خدمت کر رہا ہے۔ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے تعلیم کی حفاظت قوموں کے مستقبل کی حفاظت ہوتی ہے۔ لاہور کے ایک ہوٹل میں گیس لیکج کو نظر انداز کیا گیا اور ایک خوف ناک دھماکے نے امجد علی کی زندگی بدل دی۔ اس کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی، نوکری ختم ہوگئی اور تین بچوں کا سہارا چھن گیا۔ امجد جسمانی معذوری سے زیادہ معاشی بے بسی سے ٹوٹ رہا تھا۔ "چھوٹی چھوٹی نیکیاں" نے امجد کو ایک ریڑھی، پچاس ہزار روپے اور خود اعتمادی دی۔ پہلے ہی دن اس نے دو ہزار روپے کمائے جب کہ اس کے بچے بچا ہوا پھل شوق سے کھاتے رہے۔

امجد دوبارہ جینے لگا۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ روزگار دینا خیرات نہیں عزت بحال کرنا ہے۔ کنگن پور کی حلیمہ بی بی ایک بیوہ ماں ہے، یہ دو گھروں میں کام کرکے اپنی بیٹی فاطمہ کو پڑھاتی رہی۔ شادی طے ہوئی مگر بارات کے استقبال کے لیے وسائل نہیں تھے۔ "چھوٹی چھوٹی نیکیاں" نے انتظامات کی ذمہ داری سنبھالی اور ایک ماں اپنی بیٹی کو عزت کے ساتھ رخصت کر سکی۔ اسی طرح ایک رکشہ ڈرائیور علی اکبر سودی قرض کے بوجھ تلے دب کر بیٹی کے گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کی آخری کوشش کر رہا تھا۔ چھوٹی چھوٹی نیکیاں آئیں اور اس کی بیٹی کا گھر بچ گیا، اب سوال یہ ہے یہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں کیا؟ یہ آغوش الخدمت یو ایس اے کا ایک چھوٹا لیکن اثر میں بڑا پراجیکٹ ہے، ہمارے بزرگ شکور عالم اس پراجیکٹ کے روح رواں ہیں اور یہ ساری کہانیاں اس چھوٹے سے پراجیکٹ کے بڑے بڑے نتائج ہیں۔

یہ تمام کہانیاں اس بات کا ثبوت ہیں آغوش الخدمت یو ایس اے صرف امدادی ادارہ نہیں بلکہ انسانی وقار کا محافظ ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں مایوسی کو حقیقت اور امید کو خواب سمجھ لیا گیا ہے۔ روزانہ اخبارات، سوشل میڈیا اور گفتگو میں یہ تاثر غالب رہتا ہے کہ حالات ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ نظام ناکام ہو چکا ہے اور عام آدمی کے لیے جینے کی گنجائش کم سے کم ہوتی جا رہی ہے مگر اس عمومی بیانیے کے برعکس اگر ہم ذرا گہرائی سے دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں وسائل کی کمی نہیں بس وسائل کا درست، بروقت اور باعزت استعمال مسئلہ ہے۔ اکثر اوقات چند ہزار یا چند لاکھ روپے کی مدد کسی خاندان کو بکھرنے سے بچا لیتی ہے، کسی بیمار کو زندگی واپس دلا دیتی ہے اور کسی نوجوان کے خواب کو قابل عمل بنا دیتی۔ اسی احساس سے جنم لینے والا آغوش الخدمت یو ایس اے کے پروگرام کا منصوبہ ہے "چھوٹی چھوٹی نیکیاں"۔

"چھوٹی چھوٹی نیکیاں" دراصل آغوش الخدمت یو ایس اے اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے وسیع تر خدمت خلق کے وژن کا ایک حصہ ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان برسوں سے ملک بھر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے میدان میں صف اول میں نظر آتی ہے۔ سیلاب ہوں، زلزلے ہوں یا کوئی اور آفات الخدمت فوری ریسکیو، راشن، عارضی رہائش اور بحالی کے مراحل میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ صحت کے شعبے میں الخدمت کے اسپتال، موبائل ہیلتھ یونٹس، فری میڈیکل کیمپس اور مہنگے علاج میں معاونت ہزاروں زندگیاں بچا رہی ہے۔ تعلیم کے میدان میں اسکول، وظائف، یتیم بچوں کی کفالت اور جدید آئی ٹی پروگرامز نوجوان نسل کو بااختیار بنا رہے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے الخدمت کے واٹر فلٹریشن پلانٹس اور کنویں دیہی علاقوں میں زندگی کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں۔ آرفن کیئر پروگرام کے تحت ہزاروں یتیم بچوں کی تعلیم، خوراک، صحت اور تربیت کی ذمہ داری الخدمت نے سنبھال رکھی ہے۔ اسلامک مائیکرو فنانس کے ذریعے سود سے پاک چھوٹے قرضے دے کر لوگوں کو خود کفیل بنایا جا رہا ہے۔

بنو قابل جیسے پروگرام نوجوانوں کو جدید ہنر سکھا کر روزگار کے قابل بنا رہے ہیں۔ کمیونٹی سروسز، کفالت بیوگان، سردیوں میں کمبل، گرمیوں میں راشن الخدمت کا دائرہ خدمت ہمہ جہت ہے۔ "چھوٹی چھوٹی نیکیوں" کے اس پورے وژن کے پیچھے آغوش الخدمت یو ایس اے کے شکور عالم صاحب ہیں جو اسی برس سے زائد عمر کے باوجود انسانیت کی خدمت میں متحرک ہیں۔ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی ان کا دل پاکستان اور اس کے پسے ہوئے طبقے کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ان کی خاموش، مسلسل اور بے لوث جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل خدمت شور نہیں تسلسل مانگتی ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کی قیادت میں یہ تمام پروگرام شفافیت، نظم و ضبط اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کی رہنمائی نے الخدمت کو ایک قابل اعتماد قومی ادارہ بنایا ہے۔

"چھوٹی چھوٹی نیکیاں" کے اعداد و شمار اس اعتماد کی گواہی دیتے ہیں کہ 232 خاندانوں کو مالی امداد، 128 خاندانوں کو طبی سہولت، 67 شادیوں میں تعاون، 12825 راشن پیکجز، 9 رکشے، 7 گھروں کی تعمیر، 73 سلائی مشینیں، 10 طلباء کو لیپ ٹاپس۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں مگر ان کا مجموعہ بڑی زندگیاں بناتا ہے۔

اسلام نے نیکی کو کبھی اس کے حجم سے نہیں ناپا۔ قرآن و سنت ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ نیکی نیت سے جنم لیتی ہے اور اثر سے پہچانی جاتی ہے۔ کسی کی بھوک مٹا دینا، کسی کے علاج کا دروازہ کھول دینا، کسی طالب علم کو تعلیم کے سفر میں تھام لینا یہ سب وہ نیکیاں ہیں جو بظاہر چھوٹی ہوتی ہیں مگر نتائج کے اعتبار سے زندگیاں بدل دیتی ہیں۔ "چھوٹی چھوٹی نیکیاں" اسی اسلامی فلسفے کا عملی اور منظم اظہار ہے۔ اس پروگرام کے تحت سامنے آنے والی کہانیاں کسی افسانہ نگار کی تخلیق نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی زندہ سچائیاں ہیں لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر اپنی زکوٰۃ، صدقہ اور فطرہ آغوش الخدمت یو ایس اے اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کو عطیہ کریں۔ آپ کی یہ عنایت بے شمار گھروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

آپ اپنے عطیات ملک سے باہر aghosh.us (Choti Choti Nekiyan) کے ذریعے یا پاکستان میں Mezan Bank کے اکاونٹ کے ذریعے کر سکتے ہیں پروگرام چھوٹی چھوٹی نیکیاں کے بارے میں۔ مزید تفصیلات کے لیے موبائل نمبر +17323255160 پر شکور عالم صاحب سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ یقین کیجیے، چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر ہی بڑے معجزے تخلیق کرتی ہیں۔

بہ شُکریہ: جاوید چوہدری ڈاٹ کام

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.

Check Also

Iran-America Kasheedgi, Maslak Ya Ummat?

By Muhammad Riaz