Mazameen e Quran, Ikeesvi Nimaz e Taraweeh
مضامین قرآن، اکیسویں نمازِ تراویح

آج کی نمازِ تراویح کا آغاز چوبیسویں پارے سے ہوتا ہے جس کے کل 19 رکوع ہیں۔ اس میں سورہ الزمر کے 5، سورہ المؤمن کے 9 اور سورہ حٰم السجدہ کے 5 رکوع شامل ہیں۔ اس پارے کے ابتداء میں ظالموں کا ذکر ہوا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور حق کو جھٹلاتے ہیں اُن لوگوں کو تنبیہ کی گئی اور کو باز نہ آنے پر اُن کا ٹھکانا جہنم قرار دیا گیا۔ اس سے آج کے سوشل میڈیا کے دور میں جھوٹی خبریں دینے اور بلا سوچے سمجھے دوسروں پر جھوٹے الزام لگانے والوں کو خاص کر نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی خوشخبری دے دی کہ جو لوگ سچ کے علمبردار ہیں تو میں ہی ایسے لوگوں کا حامی و ناصر ہوں اور ہر چیز میرے ہی قبضہِ قدرت میں ہے۔
کافروں کو واضح تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے حبیبﷺ آپ ان کو کہہ دیں کہ وہ اپنا کام کرتے جاہیں اور میں اپنا کام کرتا ہوں اور عنقریب وہ جان جائیں گے۔ گزشتہ قوموں کا ذکر کرکے مشرکین کو تبنیہ کی کہ ان کا حال و انجام دیکھ لو کہ ان لوگوں نے نافرمانیاں کیں تو ہم نے ان پر کیسے کیسے عذاب نازل کیے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالی کے ہاں باطل سفارشی ڈھونڈ رکھے ہیں جبکہ اللہ تعالی کے ہاں اُن کی کوئی حثیت نہیں کیونکہ ہر قسم کی شفاعت کا اختیار اللہ تعالی کو ہی حاصل ہے اور جسے وہ چاہے۔
قیامت کے دن ظالموں کا حال بیان کیا کہ وہ اُس دن اپنا سارا مال و دولت دےکر عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے مگر اس دن اُن کو چھٹکارا نہیں ملے گا اور اُن کو ایسا عذاب دیا جائے گا کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا۔ کچھ ظالموں کا یہ حال ہوتا ہےکہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتے ہیں اور جب ان کو کوئی نعمت عطا ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اُن کو اُن کے علم کی بدولت ملی ہے جبکہ وہ تو اصل میں ان کی آزمائش ہے۔ اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق و مالک ہے اور زمین و آسمان کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں اس لئے اے ظالموں ہر قسم کے شرک سے بچو اور غیر اللہ کی عبادت نہ کرو۔ ظالموں کو ہر قسم کی تنبیہ کرنے کے بعد صور پھونکنے، قیامت برپا ہونے اور کفار کو جہنم میں داخل کرنے کا حال بیان ہواجبکہ اللہ تعالی سے ڈرنے والوں کو گروہ در گروہ جنت کی طرف چلایا جائے گااور جنت کے دروغے ان پر سلام بھیجیں گےاور اللہ کی تسبیح و تمحید بیان کریں گے۔ فرشتے ہر طرف سے عرش کو گھیرے ہوئے ہوں گے۔
سورہ المومن میں جو مضامین اللہ تعالیٰ نے بیان کئے ان میں قرآن پاک کی عظمت و شان، اللہ تعالیٰ کی مبارک صفات، سابقہ امتوں کا اپنے انبیاء سے برا سلوک اور پھر ان کا انجام، کفار سے ان کے کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی، توحیدِ باری تعالیٰ کی نشانیاں اور لوگوں کو نصیحت، قیامت کے احوال، حضرت موسیٰؑ کی فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بعثت کا واقعہ، فرعون کا بنی اسرائیل کے بچوں کا قتل کرنا، ہامان کا محل بنانا، نبی اکرم ﷺ کو صبر، استغفاراور تسبیح کی تاکید، دعا مانگنے کا حکم، آقاﷺ کی تسلی کے لیے گزشتہ انبیاء و رسولوں کا تذکرہ اور کفارِ قریش کو بطورِ عبرت گزشتہ قوموں کا احوال بیان کرنے بارے مضوعات آئے ہیں۔ جب کفار نے اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھا تو ایمان لے آئے مگر اُس وقت اُن کا ایمان اُن کے کام نہ آیااور کفار گھاٹے میں رہے۔
سورہ حٰم السجدہ میں اوصافِ قرآن بیان کرکے کفار کو توحید و ایمان کی دعوت دی اور اس پر اُن کا ردعمل کو بیان کیا۔ مشرکوں کے دو جرم زکوۃ سے انکار اور آخرت کا انکار بیان ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے آسمان و زمین کو چھ دن کے اندر پیدا کیا جو کہ اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کی بہت بڑی نشانی ہے۔ آسمان کے زیب و زینت کے لیے ستارے بنائے، دو دن میں زمین بنائی اور دو دن میں ہی اس کو خزانوں سے بھر دیا۔ کفار و مشرکین اب بھی اللہ کی توحید نہ مانو تو پھر تم پچھلی قوموں خاص کر قومِ عاد و ثمود کے حالات پڑ لو کیونکہ وہ تم سے کہیں زیادہ طاقتور تھے مگر نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا اور ان کو تباہ و برباد کر دیا۔
انکارِ قیامت اور دوبارہ زندہ کرنے پر بیان کیا کہ یہ اللہ تعالی کے لیے کوئی مشکل کام نہیں اسی طرح تم جو کام کرتے ہو ان کی گواہی تمہارے اعضاء دیں گے اور اُس دن ہر چیز کا حساب و کتاب ہوگا۔ اہلِ ایمان کو جنتوں کی بشارت سنائی اور وہاں اُن کی ہر قسم کی خواہش پوری کی جائے گی۔ بہترین انسان کی مثال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا انسان وہ ہے جو اعلیٰ کردار کا مالک ہو اور اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہو۔
قدرتِ الہیہ کی نشانیوں یعنی دن رات، سورج چاند کو بیان کیا اور یہ بتایا کہ کفار و مشرکین ان کو سجدے کرتے ہیں حالانکہ ان کو چاہیے کہ اللہ تعالی کی مخلوق کو سجدہ کرنے کی بجائے ان سب کے خالق و مالک کو سجدہ کریں مگر وہ دھوکے میں ہیں۔ قرآن کریم کے بارے میں ایک بار پھر واضح کر دیا کہ اس میں کوئی بھی ترمیم و تنسیخ نہیں کر سکتا اور کوئی باطل اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتا اور اسے ہم نے عربی میں نازل کیا جس میں ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے۔ اچھے اور برے عمل کا فائدہ و نقصان اسی بندے کو ہوگا اب چائے وہ اچھا عمل کرے یا برا اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

