Friday, 06 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hussnain Nisar
  4. Jab Quaid Ne Kaha Main Akela Hoon

Jab Quaid Ne Kaha Main Akela Hoon

جب قائد نے کہا میں اکیلا ہوں

کبھی کبھی تاریخ کے بڑے موڑ شور سے نہیں بلکہ سرگوشیوں سے جنم لیتے ہیں۔ وہ لمحے جب ہجوم موجود ہوتا ہے مگر قائد خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ "مراد! میں اکیلا ہوں" بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔ یہ شکوہ نہیں تھا، یہ کمزوری کا اعتراف نہیں تھا، بلکہ یہ اُس بوجھ کی نشاندہی تھی جو ایک خواب دیکھنے والا اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہے۔

قیادت کا سب سے کڑا امتحان یہی ہوتا ہے کہ جب آپ کے گرد ہزاروں لوگ ہوں، نعروں کی گونج ہو، کیمرے چمک رہے ہوں، مگر فیصلے کی گھڑی میں آپ کو اپنے رب کے سوا کوئی سہارا محسوس نہ ہو۔ تنہائی دراصل اس مقام کا نام ہے جہاں انسان کو اپنی نیت، اپنے ارادے اور اپنے مقصد سے سچا ہونا پڑتا ہے۔ شاید اسی کیفیت میں یہ جملہ ادا ہوا ہوگا۔

مراد سعید جیسے نوجوان کے لیے یہ الفاظ کسی حکم نامے سے کم نہ تھے۔ جب ایک رہنما اپنے ساتھی سے کہتا ہے کہ "میں اکیلا ہوں" تو وہ دراصل یہ نہیں کہہ رہا ہوتا کہ میرے پاس لوگ نہیں، بلکہ وہ یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میرے خواب کی قیمت بہت زیادہ ہے اور اس قیمت کی ادائیگی میں ساتھ دینے والے کم ہیں۔ یہ جملہ وفاداری کا امتحان بھی تھا اور کردار کی کسوٹی بھی۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑے خواب ہمیشہ تنہائی میں پلتے ہیں۔ جب کوئی شخص روایت کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، جب وہ طاقتور نظام کو للکارتا ہے، جب وہ فرسودہ ڈھانچوں کو بدلنے کی بات کرتا ہے تو سب سے پہلے اُس کے قریب کے لوگ ہی پیچھے ہٹتے ہیں۔ ایسے میں جو چند لوگ ساتھ کھڑے رہ جائیں، وہی اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔

"میں اکیلا ہوں" دراصل ایک آئینہ ہے۔ یہ جملہ ہر اُس شخص کے دل پر دستک دیتا ہے جو خود کو کسی مشن کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہ پوچھتا ہے: کیا تم صرف ہجوم کا حصہ ہو یا مقصد کا؟ کیا تم صرف کامیابی کے دنوں کے ساتھی ہو یا آزمائش کی راتوں کے بھی؟ یہ الفاظ انسان کو اپنی نیت کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔

قیادت کی تنہائی کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اقتدار، مقبولیت اور شہرت سب کچھ آسان بنا دیتی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جتنا بڑا منصب، اتنی بڑی آزمائش۔ جتنا اونچا مقام، اتنی گہری تنہائی۔ ایک لیڈر کو اکثر وہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو وقتی طور پر غیر مقبول ہوں مگر مستقبل کے لیے ضروری ہوں۔ ان لمحوں میں تعریف نہیں ملتی، صرف تنقید ملتی ہے۔

یہ جملہ نوجوانوں کے لیے بھی پیغام رکھتا ہے۔ اگر آپ سچ کے راستے پر ہیں تو ایک وقت آئے گا جب آپ کو لگے گا کہ آپ اکیلے رہ گئے ہیں۔ دوست ساتھ چھوڑ جائیں گے، لوگ مذاق اڑائیں گے، آپ کے ارادوں پر شک کیا جائے گا۔ مگر یہی وہ گھڑی ہوتی ہے جب اصل کردار تراشا جاتا ہے۔ سونا آگ میں تپ کر ہی خالص بنتا ہے۔

مراد سعید کی کتاب میں بیان کیا گیا یہ لمحہ دراصل اعتماد کی علامت بھی ہے۔ جب ایک قائد اپنے ساتھی سے اپنی تنہائی کا ذکر کرتا ہے تو وہ اسے اپنے دل کے قریب ترین سمجھتا ہے۔ یہ ایک امانت تھی، ایک پیغام تھا کہ اب تمہیں بھی اس بوجھ کو اٹھانا ہے۔ اب تم محض کارکن نہیں، مشن کے امین ہو۔

ہماری سیاست میں وفاداریاں اکثر مفادات کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ جب اقتدار ہو تو لوگ قریب آتے ہیں، جب مشکلات آئیں تو فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی نوجوان ڈٹ کر کھڑا رہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتا، وہ استقامت کی علامت بن جاتا ہے۔

"میں اکیلا ہوں" کہنے والا دراصل اکیلا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ اُس کا یقین، اُس کی دعا اور اُس کا نظریہ ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کتنا تنہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اُس کے اردگرد کھڑے لوگ کتنے سچے ہیں۔ ہجوم اور ساتھی میں فرق یہی ہے کہ ہجوم نعرے لگاتا ہے، ساتھی قربانی دیتا ہے۔

یہ جملہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ کیا ہم اپنے قائدین کو صرف توقعات کا بوجھ دیتے ہیں یا اُن کے دکھ کو بھی سمجھتے ہیں؟ کیا ہم صرف کامیابی کا جشن مناتے ہیں یا ناکامی میں بھی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں؟

شاید ہر دور میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب تاریخ اپنے کرداروں کو تنہا کھڑا کر دیتی ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کون ثابت قدم رہتا ہے۔ وہ لمحے عارضی ہوتے ہیں مگر اُن کے اثرات دائمی۔ جو لوگ ان گھڑیوں میں ساتھ دیتے ہیں، اُن کے نام تاریخ کے روشن صفحات پر لکھے جاتے ہیں۔

آخر میں، یہ جملہ صرف ایک سیاسی مکالمہ نہیں، ایک انسانی کیفیت ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی بڑے مقصد کے لیے نکلتا ہے، اسے کبھی نہ کبھی یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ وہ اکیلا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سچائی کا راستہ کبھی خالی نہیں ہوتا۔ وہاں کم لوگ ہوتے ہیں، مگر وہی اصل لوگ ہوتے ہیں۔

"مراد! میں اکیلا ہوں" دراصل ایک پکار تھی وفا کی، حوصلے کی اور عزم کی۔ یہ پکار آج بھی سنائی دیتی ہے، ہر اُس دل میں جو کسی خواب کی تکمیل کے لیے دھڑکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ آواز ہمیں سنائی دے، تو کیا ہم بھی جواب میں کہہ سکیں گے:

"آپ اکیلے نہیں ہیں، ہم ساتھ کھڑے ہیں"۔

Check Also

Mazameen e Quran, Ikeesvi Nimaz e Taraweeh

By Rizwan Ahmad Qazi