Friday, 06 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Purim, Yahoodi Riwayat Aur Aaj Ka Iran

Purim, Yahoodi Riwayat Aur Aaj Ka Iran

پوریم، یہودی روایت اور آج کا ایران

تاریخ میں کئی ایسے واقعات ہیں جن کی گونج صدیوں بعد بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان میں سے ایک حیرت انگیز واقعہ یہودی مذہبی تہوار پوریم (Purim) ہے، جو 450 سال قبل مسیح یا اس سے بھی پہلے شروع ہوا۔ اس کا ذکر عہد نامہ قدیم کی کتاب آستر (Book of Esther) میں ملتا ہے۔ اس میں بیان ہے کہ ایران کے بادشاہ خسرو پرویز نے اپنے وزیر ہامان کی چال میں آ کر یہودیوں کے قتل کا حکم دے دیا، لیکن یہ خبر مردکی ملکہ کا کزن تک پہنچی۔ مردکی نے اپنی چالاکی سے ملکہ آستر کو اس واقعے سے آگاہ کیا۔

بادشاہ، جس وقت اس خبر سے ناآشنا اور نشے کی حالت میں تھا، نے فوری غصے میں آ کر نہ صرف یہودیوں کو قتل سے بچایا بلکہ خود ہامان کو سزا دی۔ اس کے بعد یہودیوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے دشمنوں سے اپنا دفاع کریں۔ اس دن، جو آخری مہینے کی 13 ویں تاریخ تھی، ہزاروں افراد مارے گئے اور اگلے دن یہودی خوشی منانے لگے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس دن کی خوشی کو ہر سال یادگار کے طور پر منایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہودی پوریم کو ایک مذہبی اور ثقافتی تہوار کے طور پر مناتے ہیں۔

تاریخ کی یہ کہانی آج کی عالمی سیاست میں ایک حیرت انگیز مماثلت رکھتی ہے۔ قدیم دور میں بادشاہ کے دربار میں ایک نامعلوم کردار، یعنی ملکہ آستر نے فیصلہ کیا کہ دشمن کو قابو میں لایا جائے اور اپنے لوگوں کو بچایا جائے۔ اسی طرح، آج کے دور میں بھی ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں ایک نامعلوم کردار نے اہم قدم اٹھایا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنائی کو نشانہ بنایا گیا اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان پر اثر ڈالا گیا۔

یہ اقدام ایران پر جنگ مسلط کرنے کے مترادف تھا، بالکل ویسا ہی جیسے پرانے زمانے میں پوریم کے واقعے نے فارس کی سلطنت میں ہلچل پیدا کی تھی۔ دشمن کی طاقت کو چیلنج کیا گیا اور ایک چھوٹے یا نامعلوم کردار کے ذریعے بڑے سیاسی نتائج حاصل ہوئے۔ یہ معاملہ تاریخ کی گونج کی مانند ہے، جہاں ایک چھوٹا فیصلہ یا کارروائی بڑی سلطنتوں کے توازن کو بدل دیتا ہے۔

مسائل صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں ہیں۔ ایک تیسرا کردار بھی موجود ہے جو مسلمانوں کو آپس میں لڑانے، شیعہ اور سنی اختلاف کو ہوا دینے اور اس کشیدگی کو پاکستان تک پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان، اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت، امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

یہ منظرنامہ نہ صرف عالمی سیاست کی پیچیدگیوں کو دکھاتا ہے بلکہ مسلمانوں کے درمیان داخلی سازشوں کی حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے۔ بعض طاقتیں چھوٹے اختلافات کو ہوا دے کر بڑے نتائج حاصل کرتی ہیں۔ اس کے پیچھے ظاہر تو بعض رہنما ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ، مودی اور نیتن یاہو، لیکن اصل مقصد عیسائیت اور یہودیت کی وہ خفیہ مکاریاں ہیں جو صدیوں سے جاری ہیں۔

یہودیوں کے لیے ایک مشہور کہاوت ہے: "اگر سمندر کے نیچے دو مچھلیاں آپس میں لڑ رہی ہیں تو اس میں کسی یہودی کا ہاتھ ہوگا"۔ اسی طرح آج کے دور میں قطر، عرب امارات اور لبنان میں پیدا ہونے والے مسائل کی بنیاد بھی عالمی سازشوں سے جڑی ہوئی ہے، جہاں چھوٹے ممالک یا رہنما مداخلت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

پوریم صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ طاقت، سیاست اور بقا کی حکمت عملی کی مثال بھی ہے۔ تاریخی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ چھوٹے کردار بھی بڑے فیصلوں کے اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ آج بھی یہی حکمت عملی جدید عالمی سیاست میں دہرائی جا رہی ہے، جہاں یہودی حکمت اور خفیہ کارروائیاں بڑے عالمی اور علاقائی مسائل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یہ واقعہ اور آج کے حالات ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ میں کچھ کردار اور فیصلے صدیوں بعد بھی اپنے اثرات ظاہر کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ ہمیں داخلی اختلافات سے بچنا ہوگا، حکمت عملی سے کام لینا ہوگا اور اپنے ملک اور امت کے دفاع کے لیے متحد رہنا ہوگا۔

آج کے مسائل میں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو خاص طور پر پاکستان اور سعودی عرب کو اپنی پناہ میں رکھے۔ پوریم کی کہانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ کسی بھی قوم یا فرد کی حکمت اور فیصلہ سازی وقت اور حالات کے مطابق تاریخ میں اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہے۔

پوریم کی کہانی اور آج کے حالات کی مماثلت یہ واضح کرتی ہے کہ دشمن کی چالوں کا مقابلہ، داخلی اتحاد اور حکمت عملی ہر دور میں مسلمانوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔ تاریخ، مذہب اور موجودہ سیاست کا یہ امتزاج ہمیں سبق دیتا ہے کہ قوت، اتحاد اور چالاکی ہمیشہ کامیابی کی بنیاد ہے۔

Check Also

Panah Ki Dua

By Asif Masood