Ilm, Raftar Aur Asar: Kamyabi Ki Asal Musallas
علم، رفتار اور اثر: کامیابی کی اصل مثلث

بعض اوقات ایسی تحریریں بھی سامنے آجاتی ہیں جو ہوتی تو شاید کہانیاں ہیں مگر حقیقت سے بہت زیادہ قریب ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک تحریر نظر سے گزری تو بڑی اچھی لگی کہ ایک بحری جہاز کا انجن اچانک جواب دے گیا۔ جہاز کے مالک نے ایک کے بعد ایک کئی ماہرین اور کاریگروں کی خدمات حاصل کیں، مگر کوئی بھی یہ معلوم نہ کر سکا کہ خرابی کہاں ہے اور اسے کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ آخر کار اسے ایک ایسے بوڑھے شخص کا سراغ ملا جو اپنی جوانی سے ہی جہازوں کی مرمت کا کام کرتا چلا آ رہا تھا۔
وہ بوڑھا شخص جب پہنچا تو اس کے کاندھے پر اوزاروں کا ایک بڑا تھیلا تھا۔ وہ بغیر وقت ضائع کیے اپنے کام میں جٹ گیا اور انجن کا اوپر سے نیچے تک نہایت باریک بینی سے معائنہ کیا۔ جہاز کے مالکان وہیں کھڑے اسے بڑی امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ تفصیلی معائنے کے بعد بوڑھے نے اپنے تھیلے سے ایک چھوٹا سا ہتھوڑا نکالا اور انجن کے ایک مخصوص حصے پر آہستگی سےایک مخصوص ضرب لگائی۔ پلک جھپکتے ہی انجن گرج اٹھا اور اسے نئی زندگی مل گئی۔ بوڑھے نے اپنا ہتھوڑا واپس تھیلے میں رکھا، انجن اب پوری طرح ٹھیک ہو چکا تھا اور لمحوں میں یہ کام مکمل کرکے وہ واپس چلا گیا۔
ایک ہفتے بعد جب جہاز کے مالکان کو دس ہزار ڈالر کا بل موصول ہوا تو وہ ہکا بکا رہ گئے۔ انہوں نے حیرت سے کہا، "اس نے تو کوئی بڑا کام کیا ہی نہیں، پھر اتنا زیادہ بل کس بات کا؟" انہوں نے بوڑھے کو ایک رقعہ لکھا: "براہِ کرم تفصیل لکھ کر بھیجیں کہ کن اشیاء یا کام کا یہ بل ہے؟ جواب میں مالکان کو اس بل کی تفصیلات جو اس بوڑھے نے بھیجی وہ کچھ یوں تھیں۔ ہتھوڑا مارنے کی فیس تو صرف دو ڈالر ہی تھی لیکن یہ جاننے کی فیس کہ ہتھوڑا کہاں اور کیسے مارنا ہے اس کی فیس نو ہزار نوسو اٹھانوے ڈالر تھی۔ کیونکہ تجربے کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔
محنت کرنا بلاشبہ اہم ہے، لیکن فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ محنت کس سمت میں اور کس جگہ کی جا رہی ہے۔ اس لیے اپنی محنت کا رخ درست سمت میں رکھیں۔ مشکلات ضرور آئیں گی لیکن یہی تجربہ آپ کو کندن بنائے گا۔ یاد رکھیے، لوہا بھٹی کی تپش سہہ کر ہی مضبوط بنتا ہے اور ایسے ہی تجربے اور علم ہی ایک ماہر کو اناڑی سے ممتاز کردیتا ہے۔ پختگی وقت مانگتی ہے اور وقت صرف ان کا ساتھ دیتا ہے جو اپنے کام میں مستقل مزاج ہوتے ہیں۔
علم دئے سمت تو محنت کو ثمر ملتا ہے
پرعزم بازو سے تقدیر سنور جاتی ہے
کہتے ہیں کہ تشخیص یا کسی نقص کاجان لینا ہی اصل حکمت ہوتی ہےپھر علاج یا نقص دور کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ نسخہ کی نہیں دراصل اس نگاہ کی قیمت ہوتی ہے جو مرض جان سکے۔ تشخیص ذہنی محنت ہوتی ہے جس کے پیچھے علم کے ساتھ ساتھ طویل تجربے کا نچوڑ بھی درکار ہوتا ہے۔ صحیح تشخیص یا وجہ جان لینا علاج کو مختصر اور موثر بنا دیتی ہے۔ جیسے غربت کا علاج سبسڈی نہیں درست معاشی تشخیص ہے اور ایسے ہی تعلیمی زوال کا علاج عمارتیں یا سڑکیں نہیں نصاب اور تربیت ہوتی ہے۔
معاشرتی نقص دور کرنا بہت ضروری ہے مگر نقص کی اصل وجہ جاننا اس سے بھی زیادہ ضروری اور اہم ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر صرف نقص دور نہ کیا جائے تو وہ دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے لیکن اگر اس کی وجہ سمجھ لی جائے تو مسئلہ جڑ سے ختم ہو سکتا ہے۔ ایک مشہور یونانی مفکرنے کہا تھا کہ کسی بھی چیز کو سمجھنے کے لیے اس کی علت یا وجہ جاننا ضروری ہوتا ہے۔ عمارت بنانے والا مزدور معمولی معاوضہ لیتا ہے لیکن اس کا سپروائزر یا انجینیر اس کی نسبت بہت بڑا معاوضہ لیتا ہے کیونکہ وہ اس عمارت کی تعمیر کو مکمل طور پر سمجھتا ہے جبکہ مزدور صرف وہ کرتا ہے جس کا اسے حکم دیا جاتا ہے۔ اسے صرف کام کرنا ہوتا ہے کام کا انجام سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
آج ہم سماجی و معاشرتی نقص دور تو کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پیچھے چھپی وجوہات جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ اگر معاشرے میں جرائم بڑھیں اور ہم صرف سزائیں بڑھاتے اور سخت کرتے جائیں مگر غربت، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور ناانصافی جیسی وجوہ نہ دیکھیں تو جرم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ مگر ان سب میں ایک مخصوص توازن بھی درکار ہوتا ہے۔ یعنی فوری نقصان کو روکنا، اصل وجہ تلاش کرنا اور مستقل حل نافذ کرنا۔ اگر درخت کے پتے زرد ہوں اور ہم صرف پتے کاٹ دیں مگر مٹی کی خرابی پر غور نہ کریں تو صرف کسی زرعی دوائی سے اس درخت کی حفاظت ممکن نہیں ہو سکتی۔ ہم نے سوچنا یہ ہے کہ "ہم پتے کاٹ رہے ہیں یا جڑ اور زمین بھی سنوار رہے ہیں؟
علم، طاقت اور محنت۔۔ یہ تینوں الگ الگ ہوں تو ادھورے ہیں اور یکجا ہوجائیں تو مثبت نتیجہ بن جاتے ہیں۔ علم ہو مگر محنت نہ ہو تو وہ کتابوں میں قید رہ جاتا ہے خیال جنم تو لیتے ہیں مگر حقیقت نہیں بن پاتے۔ محنت ہو مگر علم نہ ہو تو توانائی ضائع ہو جاتی ہے۔ انسان دوڑتا تو بہت ہے مگر سمت درست نہیں ہوتی اور اگر طاقت ہو مگر علم اور محنت نہ ہوں تو وہ تباہی بھی لا سکتی ہے۔
تاریخ میں بہت سی مثالیں ایسی بھی ہیں جہاں طاقت نے رہنمائی کے بغیر بہت نقصان پہنچایا ہے۔ جبکہ جب یہ تینوں ہم آہنگ ہو جائیں تو فرد بھی مضبوط ہوتا ہے اور معاشرہ بھی طاقتور ہو جاتا ہے ورنہ ہم یا تو خواب دیکھتے رہتے ہیں یا پھر بےسمت دوڑتے رہتے ہیں یا پھر طاقت کے نشے میں راستہ کھو دیتے ہیں۔ علم سمت دیتا ہے، محنت رفتار دیتی ہے جبکہ طاقت تحفظ، اثر اور کچھ کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یاد رہے کہ جب یہ تینوں جمع ہوں تو معاشرئے بدلتے اور سنوارتے ہیں۔ قومیں اٹھتی ہیں اور فرد اپنی تقدیر سنوارتا ہے۔
فلسفہ عمل کے حوالے سے علامہ اقبالؒ نے بھی اسی ہم آ ہنگی کی طرف اشارہ کیاتھا کہ "علم اگر عشق (جذبہ وعمل) سے خالی ہو تو محض حساب رہ جاتا ہے اور جذبہ اگر علم سے خالی ہو تو اندھی تیزی اور تقلید بن جاتا ہے۔ آج سوال یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس کیا کمی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ جو کچھ موجود ہے کیا وہ یکجا ہے؟ کامیابی کی اصل مثلث یہی ہے کہ سمت (علم) رفتار(محنت)اور اثر (طاقت) سب اکھٹی حرکت کریں۔ جی ہاں! جب یہ یکجا ہوں تو "حکمت "بنتی ہے اور حکمت ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

