Kahani Ka Sach
کہانی کا "سچ"

"زندگی ایک اسٹیج ہے اور ہم سب کردار ہیں"۔ یہ جملہ صدیوں پہلے شیکسپئیر نے کہا تھا مگر یہ ہر عہد میں نیا لگتا ہے۔ اگر انسان ذرا ٹھہر کر اپنی زندگی پر نظر ڈالے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی ناول کے اندر سانس لے رہا ہے جہاں خوشی بھی ہے، دکھ بھی، ملاپ بھی ہے، جدائی بھی، جشن سی گہماگہمی بھی ہے اور موت کی خاموشی بھی۔
ہر صبح ایک نیا باب کھلتا ہے اور ہر شام کہانی نیا موڑ لے لیتی ہے۔ کچھ لوگ ان موڑوں کو لفظوں میں قید کر لیتے ہیں، کتابوں اور سوانح کی صورت امر ہو جاتے ہیں اور اکثریت؟ وہ روزگار، آسودگی یا محرومی کی دوڑ میں اس طرح گم ہو جاتی ہے کہ اپنی ہی کہانی کو پڑھنے کی فرصت نہیں پاتی۔ حالانکہ زندگی سب پر یکساں کہانی بن کر گزرتی ہے۔ ہر شخص اپنا کردار ادا کرکے اسٹیج سے اتر جاتا ہے۔ پردہ گر جاتا ہے۔ تماشائی بکھر جاتے ہیں۔ ایک لکھاری اور قاری میں یہی فرق ہوتا ہے۔ لکھنے والا اپنی بات کہنے کا ہنر جانتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ زندگی نامی اس کہانی کا "سچ" کیا ہے؟
پروپیگنڈا وار کے اس عہد میں سچ ایک نایاب جنس ہو چکا ہے۔ ہر شخص کا اپنا بیانیہ ہے، اپنی دلیل، اپنی حقیقت۔ کوئی اسے مذہب کے آئینے میں دیکھتا ہے، کوئی سیاست کے زاویے سے، کوئی ذاتی مفاد کے چشمے سے۔ یوں سچ سو پردوں میں چھپ جاتا ہے۔ لیکن اسے تلاش کرنے کے لیے کسی غیر معمولی مشقت کی ضرورت نہیں بس ذہن کی جالابند کھڑکی کھولنے کی ضرورت ہے مگر یہی کام سب سے دشوار ہے۔
گوتم بدھا کا قول ہے "اس پر یقین نہ کرو جو کہے کہ میں نے سچ پا لیا، اس پر یقین کرو جو کہے کہ میں سچ کی تلاش میں ہوں"۔ یہ جملہ کیا کمال معنیٰ اور گہرائی سمیٹے ہوئے ہے۔ جو سچ ہم آج تھامے بیٹھے ہیں ممکن ہے کل وہی ہمارے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل جائے۔ پیراڈائم بدلتا ہے تو حقیقت کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے۔ کل کا ہیرو آج کا ولن ہو سکتا ہے اور آج کا نظریہ کل کی غلطی۔ سچ ہمیشہ ننگا اور صاف دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اکثر تاویلوں، مفروضوں اور ایمان کے پردوں میں لپٹا ہوتا ہے۔
میں نے جانا تو یہ جانا کہ ماسوائے ایمان کے شاید کوئی مطلق سچ نہیں۔ ایمان بھی دراصل ایک پیراڈائم ہے۔ ایک زاویۂ نظر۔ جس پر انسان دل سے یقین لے آئے وہی اس کا سچ بن جاتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے سچ کو حرفِ آخر سمجھ کر دوسروں کے گریبان تک پہنچ جاتے ہیں۔ مذہب کے نام پر، سیاست کے نام پر، قومیت کے نام پر۔ اگر کل کو ہمارا زاویہ بدل جائے تو کیا ہم اپنے ماضی کے رویّے پر نادم ہوں گے؟ یہ سوال ہم میں سے کم ہی لوگ خود سے پوچھتے ہیں۔
گوتم نے پت جھڑ کے موسم میں مٹھی بھر پتے اٹھا کر اپنے شاگرد آنند سے پوچھا "کیا سارے پتے میری مٹھی میں آ گئے ہیں؟" آنند نے عرض کی "آقا، جنگل میں ان گنت پتے ہیں، یہ تو چند ہیں"۔ بدھ نے کہا "سچائیاں بھی ایسی ہی ہیں۔ جتنی میری گرفت میں آئیں، میں نے بیان کر دیں، مگر سچائیاں تو اَن گنت ہیں"۔
شاید زندگی کی اصل دانائی اسی اعتراف میں ہے کہ ہم سب کے پاس اپنا اپنا مٹھی بھر سچ ہے، کل کائنات کا نہیں۔ زندگی واقعی ایک فکشن ہے۔ ڈرامائی، جذباتی، حیران کن اور سچ؟ سچ ایک عیش ہے۔ جس تک رسائی ہو جائے تو بھی مکمل نہیں اور جس کی تلاش میں نکلیں تو پوری عمر کم پڑ جاتی ہے۔ انسانوں کا ایک المیہ یہ ہے سچ کی تلاش میں پڑنے کا تکلف نہیں کرتے اور جسے ایک بار سچ مان لیں اس پر بھی قناعت نہیں کرتے۔ الٹا اسے دوسروں پر مسلط کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ سچ ہماری کہانی میں ایک نایاب شے ہے۔ ہر کردار اپنی اسکرپٹ کو اصل سمجھتا ہے۔ ہر شخص کا بیانیہ اس کے لیے حرفِ آخر ہے۔ اسی لیے سچ ایک "لگژری" بن جاتا ہے۔
مذہب ہو یا سیاست، نظریہ ہو یا سماجی رویہ۔ ہم اپنے زاویے کو میزانِ حق بنا لیتے ہیں اور باقی سب کو گمراہ ٹھہرا دیتے ہیں۔ یہیں سے مشتعل مزاجی جنم لیتی ہے۔ یہی سوچ انتہاپسندی کہلاتی ہے۔

