Friday, 06 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Panah Ki Dua

Panah Ki Dua

پناہ کی دعا

ایک قدیم حکایت ہے کہ ایک درویش شہر کے بازار سے گزر رہا تھا۔ اس کے لباس میں سادگی تھی مگر چہرے پر عجب وقار۔ ایک امیر تاجر نے اسے روک کر طنز سے پوچھا، "اے درویش! تمہارے پاس نہ دولت ہے، نہ طاقت، نہ اختیار۔ تم کس چیز پر فخر کرتے ہو؟" درویش مسکرایا اور بولا، "میں اس پر فخر کرتا ہوں کہ میں نے اپنے دل کو تین چیزوں سے بچا لیا ہے: محتاجی کی ذلت سے، ظلم کی خواہش سے اور ظلم سہنے کی کمزوری سے"۔ تاجر حیران رہ گیا۔ درویش نے آہستہ سے کہا، "جس انسان کے دل میں اللہ کی پناہ ہو، وہ دنیا کے کسی دروازے کا محتاج نہیں رہتا"۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا، مگر تاجر دیر تک سوچتا رہا کہ اصل دولت شاید وہی ہے جو انسان کو اللہ کی پناہ میں لے آئے۔

انسانی تاریخ کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی آزمائش تین ہی شکلوں میں سامنے آتی ہے: محتاجی، قلت اور ذلت۔ محتاجی صرف جیب کی خالی حالت نہیں ہوتی، بلکہ روح کی کمزوری بھی ہوتی ہے۔ قلت صرف رزق کی کمی نہیں ہوتی بلکہ کردار کی تنگی بھی ہوتی ہے اور ذلت صرف معاشرتی رسوائی نہیں ہوتی بلکہ وہ لمحہ بھی ہوتا ہے جب انسان اپنی عزتِ نفس کو کسی مفاد کے بدلے گروی رکھ دیتا ہے۔ اسی لیے اہلِ دل نے ہمیشہ اس دعا کو اپنے دل کی دھڑکن بنایا: "اے اللہ! مجھے محتاجی، قلت اور ذلت سے بچا"۔ کیونکہ جب انسان محتاج ہو جاتا ہے تو وہ اپنی آزادی کھو دیتا ہے، جب قلت کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کا ظرف تنگ ہو جاتا ہے اور جب ذلت میں گر جاتا ہے تو اس کا وقار مٹ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی مومن ہمیشہ اللہ کے سامنے جھکتا ہے تاکہ اسے دنیا کے سامنے جھکنا نہ پڑے۔

لیکن اس دعا کا دوسرا حصہ اس سے بھی زیادہ گہرا اور معنی خیز ہے: "اور میں اس بات سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے"۔ یہ دراصل انسانی اخلاق کا ایک مکمل منشور ہے۔ ظلم صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ کسی کا حق دبانا بھی ظلم ہے، کسی کو بے عزت کرنا بھی ظلم ہے، کسی کو ناانصافی کا شکار بنانا بھی ظلم ہے۔ اسی طرح ظلم سہنا بھی ہمیشہ صبر نہیں ہوتا، بعض اوقات یہ کمزوری بھی بن جاتا ہے۔ ایک باوقار معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں نہ کوئی ظالم ہو اور نہ کوئی مظلوم۔ جہاں طاقت انصاف کی خدمت کرے اور اختیار ذمہ داری میں ڈھل جائے۔ بدقسمتی سے ہماری دنیا میں اکثر طاقتور ظلم کو اپنا حق سمجھ بیٹھتے ہیں اور کمزور ظلم سہنے کو اپنی تقدیر۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ دعا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا وقار انصاف ہے۔

اگر ہم اپنی اجتماعی زندگی پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہماری بہت سی مشکلات کا تعلق انہی تین آزمائشوں سے ہے۔ معاشرے میں معاشی تنگی انسانوں کو محتاج بنا دیتی ہے، ناانصافی انہیں ذلیل کر دیتی ہے اور طاقت کا غلط استعمال ظلم کو جنم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوموں کی حقیقی ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں یا معاشی اعداد و شمار سے نہیں ہوتی بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب معاشرے میں انصاف زندہ ہو، عزتِ نفس محفوظ ہو اور انسانوں کو جینے کا باوقار حق حاصل ہو۔ ایک باوقار قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے کمزوروں کو سہارا دے اور اپنے طاقتوروں کو قانون کا پابند بنائے۔ یہی وہ توازن ہے جو معاشرے کو مضبوط بناتا ہے۔ جب قومیں اس توازن کو کھو دیتی ہیں تو ان کی دولت بھی انہیں بچا نہیں سکتی اور ان کی طاقت بھی انہیں عزت نہیں دے سکتی۔

یہ دعا دراصل انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اصل طاقت اللہ کی پناہ میں ہے۔ جب انسان اللہ سے یہ دعا مانگتا ہے تو وہ دراصل اپنے دل کو غرور سے پاک اور اپنی روح کو خوف سے آزاد کر رہا ہوتا ہے۔ وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ اسے نہ کسی پر ظلم کرنا ہے اور نہ کسی کے ظلم کے آگے جھکنا ہے۔ یہ دعا انسان کے اندر ایک ایسا وقار پیدا کرتی ہے جو اسے خودداری بھی سکھاتا ہے اور انصاف بھی۔ یہی وہ اخلاقی بنیاد ہے جس پر ایک مہذب معاشرہ کھڑا ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں، اداروں اور ریاستی نظام میں اس دعا کے مفہوم کو زندہ کر دیں تو شاید ہماری بہت سی مشکلات خود بخود کم ہو جائیں۔ کیونکہ جس معاشرے میں انصاف زندہ ہو اور عزت محفوظ ہو، وہاں نہ محتاجی انسان کو توڑتی ہے اور نہ طاقت انسان کو ظالم بناتی ہے۔

انسانی زندگی کی اصل کامیابی شاید یہی ہے کہ انسان اپنے رب کے سامنے عاجزی سے جھکے مگر دنیا کے سامنے وقار سے کھڑا رہے۔ یہی اس دعا کا پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو نہ اپنی عزت کو بیچنا چاہیے اور نہ دوسروں کی عزت کو پامال کرنا چاہیے۔ یہی وہ توازن ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے اور معاشرے کو مہذب۔

اور شاید اسی احساس کو چند مصرعوں میں یوں کہا جا سکتا ہے:

ہمیں نہ تاج چاہیے نہ تخت کی دولت
بس اتنا دے کہ رہے دل میں روشنی کی امان

نہ ہم کسی پہ کریں ظلم اپنی طاقت سے
نہ ظلم سہنے کی آئے کبھی دلوں میں تھکان

خدا کی پناہ میں رہ کر یہ آرزو رکھیں
کہ سر جھکے تو فقط اُس کے آستانے پر

آج جب میرا پیارا وطن مختلف سمتوں سے آزمائشوں اور خطرات کی زد میں کھڑا ہے، جب سرحدوں کے پار بھی بے یقینی کے بادل ہیں اور اندرونی چیلنج بھی قوم کے حوصلوں کو آزماتے ہیں، تو دل بے اختیار اسی دعا کی طرف لوٹتا ہے کہ اے اللہ! تو ہمیں اپنی پناہ میں رکھ۔ اے ربِ کریم! مجھے، میری قوم کو اور میری بہادر افواج کو اپنی خصوصی قوت، حمیت اور استقامت عطا فرما تاکہ ہم تیری توفیق اور مدد سے ہر خطرے کا سامنا عزت، حکمت اور حوصلے کے ساتھ کر سکیں اور جو بھی دشمن اس سرزمین کے امن اور وقار کی طرف میلی نظر اٹھائے، وہ اپنے ارادوں میں ناکام و مغلوب ہو جائے۔

لیکن اے پروردگار! ہمیں فتح کے نشے میں تکبر کی لعنت سے بھی محفوظ رکھ، کیونکہ تکبر قوموں کو اندھا کر دیتا ہے۔ ہمیں عاجزی، وقار اور شکر کا وہ شعور عطا فرما جو کامیابی کو بھی بندگی میں بدل دے اور ہمیں ہمیشہ اپنی رحمت، اپنی حفاظت اور اپنی پناہ کے حصار میں رکھ۔

Check Also

Mazameen e Quran, Ikeesvi Nimaz e Taraweeh

By Rizwan Ahmad Qazi