Thursday, 03 April 2025
  1.  Home
  2. Hameed Ullah Bhatti
  3. Asghar Khan Se Imran Khan Tak

Asghar Khan Se Imran Khan Tak

اصغر خان سے عمران خان تک

اصغرخان ایک دیانتدار اور باصول شخصیت کے باوجود سیاسی میدان میں ناکام رہے حالانکہ اگر لچک، برداشت اور میانہ روی سے کام لیتے تو آج تاریخ ضروریادرکھتی اور اُن کا تذکرہ زیادہ نہیں تو نوابزادہ نصراللہ خان کی طرح ضرورہورہا ہوتاعلاوہ ازیں تحریکِ استقلال بھی ہے کہ نہیں ہے جیسے انجام سے دوچار نہ ہوتی۔

ائر مارشل جیسے منصب سے سبکدوشی کے بعد اصغرخان نے مصروفیت کے لیے سیاسی میدان کا انتخاب کیامگر سیاسی تربیت کی کمی کبھی پوری نہ ہو سکی البتہ بے داغ اور اُجلی شخصیت کی بدولت احترام ملا اور اُن کی جماعت دیکھتے ہی دیکھتے قومی اُفق پر نمایاں ہوتی گئی وہ عسکری پس منظر کے باوجود جنرل ضیاالحق کے سخت ناقد رہے 1985میں چاہے غیر جماعتی انتخاب ہوئے مگر فوجی حکومت کو اِس طرف لانے میں وہ ہمعصر جماعتوں کے سربراہوں سے زیادہ فعال رہے لیکن اُن کاایک غیر سیاسی فیصلہ سیاسی منظرسے غیاب کا سنگِ میل قرار پایا۔

ہوا یوں کہ جنرل ضیاالحق نے ملک میں عام انتخابات غیر سیاسی بنیادوں پر کرانے کا اعلان کیااِس فیصلے کی روسے کوئی امیدوار جماعتی انتخابی نشانات کے ساتھ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا تھا جس پر صغرخان نے انتخابی عمل کابائیکاٹ کرنے کے ساتھ نہ صرف بھرپورمخالفت کا اعلان کر دیا بلکہ کہہ دیا کہ اگر میری جماعت کے کسی رُکن نے حصہ لیا تو وہ جماعت میں نہیں رہ سکے گا رفقانے بڑی کوشش کی کہ اصغرخان بے لچک رویہ ترک کردیں لیکن کسی کی نہ سنی گئی مگر انتخاب ہوں اور سیاسی لوگ حصہ نہ لیں ایسا ممکن ہی نہیں اپنی جماعت کے سربراہ کے دوٹوک اعلان کے باوجود تحریکِ استقلال کے کئی لوگ انتخابی میدان میں اُترے اورکامیابی سے ہمکنارہوئے اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اصغرخان رویے اور اعلان پر نظر ثانی کرتے لیکن ایسا کرنے کی بجائے اپنے تمام منتخب ساتھیوں کو جماعت سے ہی نکال دیا یہ ایسا جھٹکا تھا جس کے بعد اصغرخان کی سیاست نہ صرف ناکامیوں کے بوجھ تلے دبنے لگی بلکہ جماعت بھی محدودہوتی چلی گئی۔

عمران خان کو حاصل مقبولیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا توشہ خانہ، 190ملین پونڈ کیس ہویا پھر عدت کے دوران نکاح کی پاداش میں ملنے والی سزائیں، اُن کاہر فدائی بانی چئیرمین کواب بھی دیانتداراور بے گناہ تصورکرتاہے اب جس طرح آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی قابلِ زکر تعداد ایوانوں میں ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ جماعت کی پالیسیاں باہمی مشاورت سے بنائی جاتیں لیکن ایسا نہیں ہورہابلکہ پوری جماعت کی رائے پر عمران خان کے ایک حکم کوفوقیت حاصل ہوتی ہے وہ جسے چاہتے ہیں بطور عہدایدار نامزد کرتے اورجسے چاہتے ہیں نکال باہر کرتے ہیں ایسے رویے کو جمہوری نہیں کہہ سکتے ویسے بھی کارکنوں کو سڑکوں پر لانے اور مصائب کی بھٹی میں جھونکنے سے اتنا فائدہ نہیں ہو سکتا جتنا ایوانوں کے اندر احتجاج موثر ثابت ہو سکتا ہے مگر باربار احتجاج کے اعلانات، عہدیداروں پر شک اور برطرفیاں ہورہی ہیں مگر کسی عہدیدار میں اتنی جرات نہیں کہ اصل حقائق سے باخبر کر سکے سبھی احکامات پر کورنش بجالانے میں عافیت سمجھتے ہیں یہ بے لچک اور غیر سیاسی رویہ اصغرخان سے بڑی حدتک مماثلت رکھتاہے۔

جب کوئی بشری خامیوں سے پاک نہیں تو عقلِ کُل ہونے کا دعویٰ کسی کو زیبا نہیں باربار غلطیاں کرنا اور پھر نقصان اُٹھانے کے باوجودسبق حاصل نہ کرناہرگزدانشمندی نہیں چلیں وقتی طورپرمان لیتے ہیں کہ پی ڈی ایم سے غیر سیاسی عناصر نے تحریکِ عدم پیش کرائی اور منظوری میں بھی کردار ادا کیا لیکن قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت کو استعفے دیکر بے توقیر کرانے میں کسی غیر سیاسی کی نہیں بلکہ بانی چیئرمین کی زہانت کارفرما تھی یہی نہیں زرادل پر ہاتھ رکھ کربتائیں کیا پنجاب اور کے پی کے میں اپنی جماعت کی حکومتیں ختم کرانے کا فیصلہ صائب تھا؟ یہ فاش غلطیاں تھیں جس کا خمیازہ نہ صرف ساری تحریکِ انصاف بلکہ بانی پی ٹی آئی خود بھی آج بُھگت رہے ہیں پھربھی اپنی غلطیاں تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور بے لچک رویے کی بدولت مزید سیاسی نقصان کی طرف گامزن ہیں۔

نو مئی کے پُرتشدداحتجاج جیسی حماقت کاکوئی جواز نہ تھا اِس حماقت کا جو بھی زمے دار ہے وہ تحریکِ انصاف کا بدترین دشمن ہے کیونکہ اِس حماقت نے پوری جماعت کو گہری کھائی میں دھکا دیااسی حماقت کے نتیجے میں ریاستی اِدارے شبہات کاشکار ہوئے اور ایسی سوچ پروان چڑھی کہ یہ جماعت ملک کو غیر مستحکم کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اِس لیے مزید چھوٹ دینا قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب ہو سکتا ہے مگر پی ٹی آئی کے رویے سے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اُسے حماقت کا ادراک ہے اور نہ صرف پشیمان ہے بلکہ مستقبل میں ایسے کسی سانحے کا حصہ بننے کااِرادہ نہیں رکھتی۔

باربار اسلام آباد پر چڑھائی کرنا مناسب نہیں اور پھر عین اُس وقت جب غیر ملکی مہمان دارالحکومت میں موجود ہوتوپھرتومزیداحتیاط کرنی چاہیے مگر بیلا روس کے صدرالیگزینڈر لوکاشنکو کی آمد پر ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ خدانخواستہ پاکستا ن خانہ جنگی کا شکار ہے اِس لیے سرمایہ کاری کرنانقصان دہ ہے۔

مزیدیہ کہ ناکام احتجاج کااعتراف کرنے کی بجائے چھبیس نومبر2024 کے حوالے سے من گھڑت اور بے بنیاد افواہیں پھیلانے کے ساتھ آئی ایم ایف کو قرض دینے سے روکنے کی سازشیں کی جارہی ہیں گزرے برس دسمبر سے عمران خان تارکینِ وطن سے ترسیلاتِ زر روکنے کی اپیلیں کررہے ہیں حالانکہ پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے یہ رقوم بہت اہمیت رکھتی ہیں زرا دل پر ہاتھ رکھ کربتائیں اگر ملک دیوالیہ ہوتا ہے تو صرف حکمران متاثر ہوں گے اور پی ٹی آئی محفوظ رہے گی؟

ظاہرہے ملک دیوالیہ ہوگا توسبھی زد میں آئیں گے۔ ترسیلاتِ زر کسی سیاسی نظریے کی حمایت یا مخالفت کا معاملہ نہیں بلکہ تارکینِ وطن کے گھروالوں کی بنیادی ضروریات کا تقاضا ہے جنھیں کسی مہم سے روکنا ممکن نہیں اسی لیے اُن کے اپنے حمایتی بھی حصہ نہیں لے رہے اور بار بار اپیلوں کے باوجود ترسیلاتِ زرمیں کمی نہیں آئی بلکہ پچیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور تین ارب ڈالر کی حد مسلسل دوسرے ماہ بھی برقرارہے اسی طرح ماضی میں سول نافرمانی کی تحریک کے اعلان پر کارکن تو ایک طرف عہدیدار بھی عمل نہ کر سکے سچ یہ ہے کہ حقائق اور ملکی مفاد کے منافی حکمتِ عملی عمران خان کی سیاست کے لیے سود مند نہیں ہو سکتی کاش وہ اصغرخان کے غیر سیاسی فیصلوں کے انجام سے کچھ سیکھ لیں۔

Check Also

Chance

By Javed Chaudhry