Saturday, 05 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Iqbal Wattoo
  4. Qasbati Eid Ke Rang

Qasbati Eid Ke Rang

قصباتی عید کے رنگ

عید کے دنوں میں کوئی دوسو بندوں کو گلے مل چکا ہوں اور یہی قصباتی عید کی اصل خوبی ہے۔ میں عید ہمیشہ اپنے قصبے کندیاں میں مناتا ہوں جہاں مسجد میں عید کا خطبہ ختم ہوتے ہی آپ کے دائیں ہاتھ بیٹھا بندہ اٹھ کر آپ کو جپھی ڈال لیتا ہے اور اس کے بعد گلے ملنے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے جو اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک آپ یہ آواز نہیں لگاتے کہ "کوئی رِہ تو نہیں گیا"۔

جپھی ڈالنے کے اس خودکار عمل کے دوران دائرے میں گھومتے گھماتے بعض اوقات کچھ لوگ جلدی میں دوسری دفعہ بھی آکر گلے مل رہے ہوتے ہیں۔ مسجد سے نکل کر گھر آنے کے دوران راستے میں بھی جو بندہ نظر آجائے ادھر ہی گلی میں جپھی ڈال لیتا ہے اور یوں گھر آنے تک آپ کا عید کا استری شدہ جوڑا استعمال شدہ لگ رہا ہوتا ہے۔ کوئی ایسا شخص جو آپ کو کسی وجہ سےعید نہ مل سکا ہو وہ عید کے تین دنوں میں آپ کو کہیں بھی مل جائے جپھی ڈال دے گا۔

عید پر اپنے اسکول کے پرانے ٹیچرز اور کلاس فیلوز سے ملنا ایک دل خوش کر دینے والا عمل ہوتا ہے۔ قصبے کے لوگ بھی پردیسیوں کی گاڑیوں کو دیکھ کر ان کی غربت امارت کا حساب کتاب لگا رہے ہوتے ہیں نیز یہ کہ اس دفعہ کون عید کرنے نہیں پہنچ سکا۔

ایک دستور یہ ہے کہ خاندان کے لوگ عید والے دن خاندان کی سب سے بزرگ شخصیت کو عید مبارک کہنے اس کے گھر جاتے ہیں اور یوں امی جان کی موجودگی سے ہمارے گھر میں سارا دن چہل پہل رہتی ہے اور مرد وزن کے کئی وفود ان سے ملنے ہمارے گھر تشریف لاتے ہیں۔

میری کوشش ہوتی ہے کہ گھر آنے والے ہر بچے کی ایک تصویر ضرور لوں۔ اس سے عیدی کا حساب کتاب پوچھوں اور اپنے فیورٹ بچوں کو کاغذ کے جہاز بنا کر دیتا ہوں جنہیں اڑا اڑا کر وہ خوش ہوتے ہیں۔ کئی کو پھول پینٹ کرکے دیتا ہوں یا ڈرائنگ اسکیچ کرکے دیتا ہوں کہ اس میں کلر کرو۔

قصبے کے گلی کوچوں میں میک شفٹ دکانیں کھلی ہوتی ہیں جن پر بچوں کو للچانے والی ہر مضر صحت آئٹم بک رہی ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ سے پکوڑوں، سموسوں اور جلیبیوں والی دکانوں کی بجائے فاسٹ فوڈ والوں کے پاس رش بڑھنے لگا ہے تاہم کولڈ ڈرنک اور آئس کریم والوں کی ابھی تک ویسے ہی چاندی ہوتی ہے۔

عید کی شام سے خاندان میں پردیسیوں کے لئے دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ دوست احباب بھی انوائٹ کررہے ہوتے ہیں مگر اتنے کم وقت میں اتنے زیادہ کھانے کھانا ممکن نہیں ہوتا لہذا اکثر جگہوں سے معذرت کرنا پڑتی ہے۔

عید کی اسپیشل سوغات مکھڈی حلوہ ہے جو ہر گھر میں بنتا ہے اور جس گھر میں بھی جائیں فوراََ چائے کے ساتھ سرو ہو جاتا ہے۔ عید پر چشمہ بیراج کی سیر ایک فرض عمل سمجھا جاتا ہے۔ ہر بندہ جھیل پر پہنچا ہوتا ہے۔

عید کے تیسرے دن پردیسیوں کی واپسی شروع ہو جاتی ہے۔ قصبے کی گلیوں میں لاہور اور اسلام آباد جانے والی گاڑیاں گزرنے لگتی ہیں۔ اڈے پر رش بڑھ جاتا ہے۔ پردیسی اداس نظروں سے مکینوں کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلاتے ہوئے شہروں کی طرف روانہ ہوتے ہیں جہاں دفتروں میں فائلوں کے انبار اور فضا میں گاڑیوں سے نکلنے والی زہریلی گیسیں ان کی منتظر ہوتی ہیں۔

Check Also

Apni Zanjeeren Hamen Khud Torna Hongi

By Nusrat Javed