Do Neem Mulk e Khudadad (4)
دو نیم ملکِ خداداد (4)

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا۔۔
مگر بد قسمتی سے ہم لوگ یہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ اب تک ہم مشرقی پاکستانیوں کو اندازہ ہو چلا تھا کہ بہت کچھ بھیانک ہونے والا ہے۔ اسکول کالج تو بند ہی تھے، پاپا بھی دکان اور ریسٹورنٹ جانے سے قاصر تھے کہ سیکنڈ کیپیٹل پر عوامی لیگ کے کارکنوں کا ناکہ تھا اور وہ بہت تنگ کرتے تھے، سوال جواب، تلاشی اور کبھی کبھی زد و کوب بھی۔ سمجھیے محمد پور اور میر پور والے اپنی بقا کے لیے محصور تھے۔
ان تاریک دنوں میں امید کی کرن بن کر دس مارچ کو صدر یحییٰ خان ڈھاکہ پہنچے اور ان کے پیچھے پیچھے اکیس مارچ کو ذوالفقار علی بھٹو بھی ڈھاکہ آ گئے۔ مشرقی پاکستانیوں کے دلوں میں امید کی شمع بھڑک اٹھی اور ہر آدمی دعا گو تھا کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔
ڈھاکہ میں 20 مارچ سے جشن بہاراں کا ہفتہ شروع ہوتا تھا اور اس سال بنگالی طلبہ کا جوش و خروش دیدنی تھا کہ ان کے حساب سے بس دو چار ہاتھ ہی رہ گئے تھے لب بام کے لئے۔ سنیچر کے دن صبح سے ہی رونق اور چہل پہل تھی۔ بنگالی لڑکیاں لال باڈر کی زرد یا سفید ساڑھیاں پہنے بالوں میں چمپا اور کرشنا چوڑا کے پھول سجائے نزرل اور ٹیگور کو گاتے ہوئے یونیورسٹی کی طرف رواں دواں تھیں۔ سڑکوں پر رنگوں کا سیلاب امنڈ آیا تھا اور فضا میں جوش کی حدت تھی۔
امید و یاس کے انہی دنوں میں 23 مارچ یعنی یوم پاکستان آ گیا۔ یہ وہ دن تھا جب پورا ڈھاکہ سبز پوش ہو جاتا اور ہر عمارت اور گلی کوچہ سبز ہلالی پرچموں سے سج جاتی تھی۔ اس سال عوامی لیگ کی طرف سے خصوصی حکم جاری کیا گیا تھا کہ سرکاری و نجی عمارتوں پر بنگلہ دیش کا پرچم یا پھر سیاہ پھریرا لہرایا جائے، پاکستان کا پرچم کہیں نظر نہیں آنا چاہیے۔ جس گھر پر بھی پاکستانی پرچم لہرایا جائے گا وہ گھر نشان زدہ کر دیا جائے گا اور وہاں کے مکینوں کو باغی سمجھا جائے گا۔
سنہ 71 کے 23 مارچ کو عوامی لیگ نے "یوم مزاحمت" کے طور پر منایا تھا۔ اُسی صبح شیخ مجیب الرحمن کے گھر پر آزاد بنگلہ دیش کا پرچم لہرایا گیا اور شیخ مجیب نے پرچم کو سلامی دی تھی۔
جتنے اردو بولنے والے یا عرف عام میں بہاری تھے دل شکستہ سے انجانے خوف کا بوجھ سینوں پر دھرے اپنی اپنی پناہ گاہوں میں دبکے ہوئے تھے۔ کھلے عام "جوئے بنگلہ" کا نعرہ سنائی دیتا تھا اور "پاکستان زندہ باد" کہنا قابل گردن زدنی جرم قرار پایا تھا۔ ہر شخص اپنے طور پر حفاظتی انتظامات میں مصروف تھا۔ راشن اسٹور کر لیا گیا تھا۔ گھر میں اگر اسلحہ تھا تو اس کی صفائی کرکے اس کی جانچ کی جا چکی تھی۔ ہم لوگوں نے بھی چھت پر اینٹیں اور پتھر جمع کر لیے تھے اور پاپا اپنی شکاری بندوق صاف کرکے کارتوس کا ڈبہ نکال چکے تھے۔ شہر میں افواہوں کا بازار گرم تھا اور ہر شخص کان سے ریڈیو چپکائے BBC سنتا نظر آتا کہ ریڈیو پاکستان اپنی credibility کھو چکا تھا۔ رات رات بھر کتے روتے تھے اور شفق کی سرخی گویا خون رنگی تھی۔
23 مارچ کے دن پورے ڈھاکہ میں گورنر ہاوس اور کینٹ کے علاوہ فقط محمد پور اور میر پور ہی وہ جگہیں تھیں جہاں بیشتر مکانات پر اُن مخدوش حالات میں بھی پاکستانی پرچم لہرا رہے تھے کہ اب میر پور اور محمد پور ہی ڈھاکہ میں "منی پاکستان" تھے۔
اُس دن ڈھاکہ یعنی شہرِ جمال کی بیشتر چھتیں سونی تھیں۔
***
پچیس مارچ کا دن بظاہر عام سا دن تھا۔ وہ جمعرات کا دن تھا اور فضا میں موجود بے چینی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔ رات نو بجے معمول کے مطابق کھانا کھایا گیا۔ کام سمیٹنے کے بعد نوکر اپنے کواٹر میں جا چکے تھے۔ ہم تینوں بہنیں بھی اپنے کمرے میں تھیں۔ جانے کس وقت اچانک دھماکے کی آواز پر میری آنکھیں کھلی تو آپا اور زرین کا بستر خالی تھا۔ بھاگ کر کمرے سے باہر آئے اور امی کے کمرے میں گئے تو دیکھا کہ امی، آپا اور زرین بستر پر خاموشی سے بیٹھی ہوئی ہیں۔ پاپا نظر نہیں آئے، پوچھنے پر آپا نے اشارے سے بتایا۔ جلدی سے باہر جا کر دیکھا تو پاپا دیوار کی آڑ میں کمبل لپیٹے، بندوق لیے بیٹھے ہیں۔ ہمیں دیکھا اور اشارے سے اندر جانے کہا۔ ساری رات گولا بارود اور گولیوں کی آوازیں آتی رہیں اور ہر طرف آگ کے نارنجی شعلے آسمانوں سے باتیں کر رہے تھے اور دور سے لوگوں کی چیخ و پکار کی آوازیں ہوا کے دوش پر سوار کانوں میں خراش اور دل میں درد کی ٹیسیں اٹھاتی تھیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ ہم سب ساری رات جاگتے رہے۔ نورو بھی سرونٹ کوارٹر سے آ گیا تھا۔ امی نے اسے چائے بنانے کہا اور امی پاپا نے چائے پی۔ فجر کے قریب پاپا اندر کمرے میں آ گئے۔
صبح پتہ چلا کہ یہ آرمی آپریشن تھا اور فوج نے شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا ہے۔ ہم لوگوں نے کھل کر اطمینان کی سانس لی پر اب میرے چاروں نوکروں کے چہرے دہشت سے پیلے پڑ گئے تھے۔ ہم لوگ بھی کتنے بھولے تھے، ہم بیوقوف اس خوش گمانی میں مبتلا تھے کہ پاکستان بچ گیا ہے، یہ سمجھے ہی نہیں کہ ہمارے نکلنے کی راہیں مزید مسدود ہو چکی ہیں۔
آپریشن سرچ لائٹ کی تفصیلات کچھ یوں تھیں کہ رات کو تقریباً ساڑھے گیارہ بجے پہلا دھماکہ سنائی دیا تھا۔ یہ باغیوں کے خلاف پاک فوج کا ایکشن تھا جو "آپریشن سرچ لائٹ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس رات شیخ مجیب الرحمٰن کو پاکستانی کمانڈوز جس کی قیادت میں کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل زیڈ اے خان اور کمپنی کمانڈر میجر بلال کر رہے تھے، شیخ مجیب کو اس کے گھر سے گرفتار کرلیا تھا۔
وہی میجر بلال جب 12 دسمبر 1971 کو، کومیلا سے ڈھاکہ لوٹ رہے تھے تو بھارتی ائیر فورس نے نارائن گنج کے مقام پر ان کے کنوائے پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں میجر بلال شہید ہو گئے۔ جنرل رحیم الدین، کومیلا کے GOC بھی اسی کنوائے میں تھے اور حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔
اُس رات کے ہنگامے اور قتل و غارتگری کے بعد ڈھاکہ میں بظاہر امن ہوگیا مگر امن کہاں یہ تو ٹائم بم کی کلک کلک تھی جو سب کے اعصاب شل کر رہی تھی۔ اصل قیامت اندرون مشرقی پاکستان میں برپا تھی جہاں حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ عوامی لیگ کے کارکنوں نے ڈھاکہ اور دوسرے شہروں سے بھاگتے ہوئے، چھوٹے شہروں میں غیر بنگالیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا۔ پاکستان کی سرحد پار کرتے ہوئے، آپریشن سرچ لائٹ کا بھر پور بدلہ انہوں نے بہاریوں سے لیا اور سفاکی اور بربریت کی نئی داستان رقم کر دی۔ نہ جان کی امان تھی اور نہ ہی حرمت کا پاس۔ محب وطن بنگالی اور غیر بنگالیوں کی اکثریت بری طرح روندی اور پامال کی گئی۔
ڈھاکہ اور دیگر شہروں سے عوامی لیگ کے کارکنوں اور بنگالی جوانوں نے گاؤں اور پھر وہاں سے پاکستان کی سرحد پار کی اور ہندوستان چلے گئے۔ جہاں ان کی خوب پذیرائی کی گئی اور انہیں عسکری تربیت دی گئی۔ مکتی باہنی اور انڈر کور انڈین فورس نے مل کر مشرقی پاکستان کے چھوٹے شہروں میں قتل و غارت گری سے قیامت صغریٰ برپا کر دی تھی۔ پاکستانی فوج اپنی کم نفری اور ناقص حکمت عملی کی بنا پر بغاوت کو مکمل طور پر کچلنے میں ناکام رہی تھی۔ انجام کار اندرون مشرقی پاکستان حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور وہاں سے لٹے پٹے خانماں برباد لوگوں نے ڈھاکہ کا رخ کیا۔
ڈھاکہ کے عارضی کیمپس زخمیوں اور ستم رسیدہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ لوگ ڈھاکہ سے نکلنے کو بے تاب مگر ہوائی جہاز کی ٹکٹیں بلیک میں بھی نہ ملتی تھیں۔ ائیر پورٹ کے ننگے فرش پر لوگ ہفتوں اپنے بال بچوں کے ساتھ بے سرو سامان بے کسی کی تصویر بنے بیٹھے رہے تھے بلکہ سچ تو یہ کہ ڈھاکہ ائیر پورٹ تک پہچنا بھی جان جوکھم کا کام۔ مشرقی پاکستان کے چھوٹے شہروں میں موت رقصاں تھی اور ڈھاکہ پر بھی دہشت اور بے یقینی کا کثیف سایہ۔ روز مرہ زندگی بری طرح مفلوج تھی اور ہم سب کے اعصاب پر خوف اور انہونی کا آسیب اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔
تین دسمبر کو ہندوستان پاکستان کی جنگ چھڑ گئی جس کا ڈراپ سین سولہ دسمبر کی سہہ پہر کو رمنا ریس کورس گراؤنڈ میں سر عام ایک جم غفیر کے سامنے جنرل نیازی کے ہتھیار ڈالنے کی دل گیر رسم پر انجام پذیر ہوا۔
فوج اور حکومتی اہلکار جو مغربی پاکستان سے آئے تھے، چھاؤنی میں پناہ گزیں ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں مقیم غیر ملکی اور مشرقی پاکستان کے اعلیٰ سولین حکام مثلاً صوبے کے چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، صوبائی سیکرٹری، ڈھاکہ کے کمشنر، چند دوسرے افسران اور پوش طبقے نے ہوٹل انٹر کانٹینینٹل میں پناہ لی کہ ڈھاکہ انٹرکونٹینینٹل ہوٹل کو
"غیر جانبدار علاقہ" قرار دے دیا گیا تھا۔ یہاں داخلے کی شرط ہی یہ تھی کہ تحریری طور پر ریڈ کراس کو یہ یقین دلایا جائے کہ ہمارا متحارب ملکوں میں سے کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گویا یہ ہوٹل ڈوبے ہوئے ڈھاکہ کا عارضی جزیرہ تھا۔
یہاں یہ بات یقیناً دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ پندرہ دسمبر کی مہیب رات کو زخمی جنرل رحیم الدین جو کومیلا سے ڈھاکہ آتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے ہاتھوں زخمی ہو گئے تھے، وہ اور ان کے ساتھ ساتھ میجر علی قلی خان، میجر طارق محمود، ہیلی کاپٹر کے ذریعے برما اور پھر با حفاظت پاکستان پہنچ گئے۔
بلڈی سولین مرتی ہے تو مرتی رہے۔
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا
سنہ 1947 میں برطانیہ نے برصغیر کو دو ملکوں میں تقسیم کیا تھا اور چوبیس سال کے بعد صرف تیرہ روز جاری رہنے والی جنگ کے بعد اب یہاں تین ملک تھے۔
چونتیس ہزار فوجی اور سرکاری اہل کار اور عام شہری، کل ملا کر تقریباً نوے ہزار افراد ہندوستان کے مختلف شہروں میں جنگی قیدی کے طور پر کیمپوں اور جیلوں میں قید رکھے گئے۔ ان جنگی قیدیوں کو ہندوستان کی قید سے 1974 میں وطن وآپس لوٹنا نصیب ہوا۔ اسی طرح پاکستان میں پھنسے ہوئے بنگالی فوجیوں اور افسروں کو وآپس بنگلہ دیش جانے کی اجازت بھی انیس سو چوہتر میں مل گئی۔
بد قسمتی سے جو پاکستانی، نوزائیدہ بنگلہ دیش میں موجود تھے وہ مکتی باہنی، عوامی لیگ کے سپورٹرز اور عام بنگالیوں کے انتقام کا ہدف تھے اور وہ بد نصیب ایسی بربریت کا شکار ہوئے کہ ہلاکو بھی شرما جائے۔ ان حرماں نصیبوں کو ہر طرح سے لوٹا گیا۔ انہیں ان کے اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا اور ان کی املاک و کاروبار کو چھین کر انہیں بے دست و پا کر دیا گیا۔
بنگلہ دیش بننے کے بعد محب وطن بنگالی، مغربی پاکستان سے نجی کام سے آئے ہوئے لوگ اور لاکھوں بہاری تہ تیغ کر دیے گے۔ ہماری عورتوں کے ساتھ انتہائی انسانیت سوز سلوک کیا گیا۔ پاکستان کی بیٹیاں کثرت سے ہندوستان کی ہیرا منڈی میں پہنچا دی گئیں اور جنرل نیازی مزے سے جنرل اجیت سنگھ اروڑا کو فحش لطفیے سناتے ہوئے ان کی دل بستگی کا سامان کرتے رہے۔ بنگلہ دیش اب دیار غیر تھا سو وہاں غیر بنگالیوں کے لیے کہیں بھی جائے پناہ نہ تھی۔
ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
بے اماں تھے، اماں کے تھے ہی نہیں
ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر
ہم تیری داستاں کے تھے ہی نہیں
ہو تیری خاکِ آستاں پہ سلام
ہم تیرے آستاں کے تھے ہی نہیں
جاری۔۔