Sunday, 06 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Qadir Khan Yousafzai
  4. Khamoshi Akhir Kab Tak?

Khamoshi Akhir Kab Tak?

خاموشی آخر کب تک؟

بلوچستان کی سرزمین صدیوں سے محبت، مہمان نوازی اور حُریت کی امین رہی ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں اس عظیم خطے کی پہچان صرف اور صرف خوف، دہشت اور تشدد بن کر رہ گئی ہے۔ یہاں پر ہونے والے اندوہناک واقعات، خاص طور پر حالیہ دنوں میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے)، لشکرِ بلوچستان اور بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) جیسی تنظیموں کے ہاتھوں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں نے اس خطے کو ایک مسلسل جنگ زدہ اور نوگو ایریا میں بدل دیا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران بلوچستان کے دل ہلا دینے والے واقعات نے ملکی منظر نامے کو بری طرح متاثر کیا۔ مارچ 2025 میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے جعفر ایکسپریس ٹرین کے اغوا کا واقعہ ایک ایسی لرزہ خیز داستان بن چکا ہے جسے بیان کرتے ہوئے قلم لرزتا ہے۔ درجنوں بے گناہوں کی جانیں گئیں اور سینکڑوں یرغمال بنے۔ ٹرین کو ایک محفوظ ذریعہ سمجھا جاتا تھا مگر شدت پسندوں نے عام لوگوں کو نشانہ بنا کر خوف کے نئے دروازے کھول دیے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، قلات مستونگ، گوادر، کوئٹہ جیسے ان گنت سانحات ہیں۔

بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے بھی سکیورٹی فورسز پر مسلسل حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ کبھی دیسی ساختہ بموں سے سکیورٹی قافلے نشانہ بنتے ہیں تو کبھی سرکاری املاک کو نشانہ بنا کر ریاست کو چیلنج کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ لیکن ان کارروائیوں کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ عام شہری، جو پہلے ہی غربت اور پسماندگی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، اب خوف کے ایسے حصار میں ہیں جہاں زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بلوچستان کے لوگ محروم ہیں یا نہیں۔

یقیناً بلوچستان کے حقوق کا مسئلہ حقیقی ہے، اس کے وسائل پر یہاں کے مقامی لوگوں کا پورا حق ہونا چاہیے اور وفاق کو بھی اس خطے کے حقیقی مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ لیکن اصل سوال ان لوگوں سے ہے جو قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ کر عام شہریوں کے خون کے درپے ہیں۔ وہ نام نہاد قوم پرست، جو عوامی حقوق کی باتیں تو کرتے ہیں مگر دہشت گردی اور شدت پسندی کے اس ناسور کی مذمت کرنے کی اخلاقی جرأت نہیں رکھتے۔

کیا وجہ ہے کہ بلوچستان میں عام بلوچ شہری ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آواز اٹھانے سے خوفزدہ ہیں؟ وہ دانشور اور سیاسی رہنما، جو اسلام آباد یا بیرونِ ملک بیٹھ کر بلوچستان کے حقوق کے علمبردار بنے پھرتے ہیں، دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں پر خاموش کیوں رہتے ہیں؟ کیا ان کے نزدیک انسانی جانوں کی کوئی وقعت نہیں؟ کیا دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانا ان کی قوم پرستی کی تعریف کے دائرے میں نہیں آتا؟

المیہ یہ بھی ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں نے مقامی سطح پر عام شہریوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ بلوچستان کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں عام آدمی کو جانے کی اجازت نہیں۔ بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) جیسی تنظیموں نے ان علاقوں کو عملی طور پر نوگو ایریا بنا رکھا ہے۔ کیا اس کا مقصد بلوچ عوام کی خوشحالی ہے یا پھر ایک اور خوفناک کھیل کا حصہ؟ اس سوال کا جواب ان نام نہاد قوم پرستوں کے پاس نہیں جو بیرونِ ملک بیٹھ کر " نام نہادآزادی" کے نام پر خون کی ہولی کو جواز فراہم کرتے ہیں۔

یہاں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بلوچ حقوق کے نام پر تشدد کا سہارا لینے والی ان تنظیموں کے پاس عوامی حمایت نہیں، یہ صرف سرداری، نواب اور جاگیرداری نظام میں بندھے لوگوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں، ان کے پاس اس نظام میں اپنے لئے حق مانگنے کا اختیار پر فیوڈل نظام کے تحت ہے، جمہوری رویئے کا کلچرہی نہیں، یہاں کے سرداری نظام کے خلاف کوئی آواز ہی بلند نہیں کرسکتا، اگر کوئی کچھ کہہ بھی دے تو اس کی خبر بھی میڈیا میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

بلوچستان کے عوام کی اکثریت امن پسند ہے۔ وہ اپنے حقوق چاہتے ہیں مگر تشدد کی راہ سے نہیں۔ وہ بات چیت، سیاسی جدوجہد اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن دہشت گردی کے اس ماحول میں ان کی آواز دب گئی ہے۔ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ اگر انہوں نے کھل کر دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی تو اس کا انجام تشدد کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس خوف کو ختم کرنا ریاست کی ذمہ داری تو ہے ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بلوچ دانشوروں، سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں پر بھی یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کھل کر دہشت گردی کی مذمت کریں۔

بلوچستان کے حالات میں خرابی کی ایک بڑی وجہ بیرونی مداخلت کے ساتھ ساتھ اندرونی انتشار بھی ہے۔ مگر اس انتشار کو روکنے کی پہلی ذمہ داری انہی لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی ہو یا بلوچستان لبریشن فرنٹ یا بلوچ ریپبلکن آرمی، ان تمام تنظیموں کو کھل کر مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔

سیاسی بنیادوں پر ہونے والی گفتگو اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کی آڑ میں دہشت گردی کو جواز فراہم کرنا قطعی قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستانی ریاست کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ محض فوجی آپریشن سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے، تاہم انہیں بھی یہ فیصلہ لینا ہوگا کہ یہ کوئی ناراض لوگ نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں دہشت گرد ہیں جو شناخت کے نام پر دوسری قومیت کے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ پورے پاکستان میں بلوچ قوم کیخلاف اجتماعی نفرت پھیلے اور ملک دشمن عناصر کے مذموم مقاصد پورے ہوں صوبے کے عوام کے حقیقی مسائل حل کیے بغیر پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ لیکن دوسری جانب بلوچ قوم پرست قیادت کو بھی دہشت گردی کے خلاف واضح موقف اپنانا ہوگا۔ جب تک قوم پرستی کی آڑ میں دہشت گرد تنظیموں کی خاموش حمایت جاری رہے گی، تب تک بلوچستان اسی خوف کے حصار میں رہے گا۔

بلوچستان کے عوام کی حقیقی آواز کو دہشت گرد تنظیموں اور نام نہاد قوم پرستوں کے چنگل سے آزاد کروایا جائے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کردار بلوچ دانشوروں اور حقیقی سیاسی قیادت کا ہے۔ وہ آگے بڑھیں، دہشت گردی کی واضح اور دو ٹوک مذمت کریں اور عوام کو یقین دلائیں کہ وہ تشدد کے خلاف ہیں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان میں مزید خون بہے گا، مزید گھر اجڑیں گے اور تاریخ ان نام نہاد قوم پرستوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو آج بھی اپنی خاموشی سے دہشت گردی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ وقت بہت کم ہے اور فیصلہ جلد کرنا ہوگا، ورنہ شاید بہت دیر ہو جائے۔

Check Also

Satoshi Nakamoto

By Zaigham Qadeer