Friday, 04 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Theft

Theft

تھیفٹ

رایا کی شادی جلدی میں ہوئی تھی۔ اس کے باپ نے اسے گلی میں محلے کے نوجوان کے ساتھ پینگیں بڑھاتے دیکھ لیا تھا۔ وہ نوجوان رفیق کیوبا سے اسی طرح عسکری تربیت لے کر آیا تھا، جیسے آپ کے محلے کا کوئی نہ کوئی لونڈا کہیں نہ کہیں سے لے کر آیا ہوگا۔ چنانچہ رایا کے والدین نے جلدی میں اس کی شادی ایک ٹھیکے دار سے کردی، جس کی یہ دوسری شادی تھی۔

یہ عبدالرزاق گرناہ (قورنہ؟) کے نئے ناول تھیفٹ یا چوری کا آغاز ہے۔ 2021 میں نوبیل انعام حاصل کرنے کے بعد یہ گرناہ کا پہلا ناول ہے جو گزشتہ ہفتے شائع ہوا ہے۔ اس کی سیٹنگ زنجبار اور تنزانیہ ہیں اور اگر آپ گرناہ کی زندگی کے بارے میں جانتے ہیں تو اس کی وجہ سمجھ سکتے ہیں۔ 1964 میں افریقی انقلابیوں نے جب اومانی عربوں کی حکومت کو چلتا کیا تو گرناہ اس وقت ٹین ایجر تھے۔ انھیں اپنے خاندان کے ساتھ وہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔ اس ناول میں بھی آپ کو ٹین ایجر کریم اور بدر ملیں گے جو انھیں کیفیات سے گزرتے ہیں، جن سے گرناہ کو گزرنا پڑا۔

ناول نگار، خاص طور پر بڑے ناول نگار اپنی کہانیوں میں کافی فلسفہ شامل کرتے ہیں۔ کافی پیج اور موڑ ڈالتے ہیں۔ اس سے کہانی سست پڑجاتی ہے۔ میں نے گرناہ کی کہانیاں پڑھی ہیں، دوسرے ناول نہیں پڑھے۔ ممکن ہے کہ وہ ویسے ہی ہوں۔ لیکن یہ ناول ویسا نہیں۔ کہانی پہلے صفحے سے شروع ہوجاتی ہے اور اس کی رفتار تیز رہتی ہے۔ ٹین ایجر جوان ہوتے ہیں اور کہانی جست لگاکر عشروں آگے پہنچ جاتی ہے۔ آپ کو کچھ کچھ اپنی کہانی لگے گی۔ بس فرق یہ ہے کہ ہندوستان پاکستان پندرہ سترہ سال پہلے آزاد ہوگئے تھے۔ ورنہ ایشائی اقوام ہوں یا افریقی ممالک، ماضی، حال، مستقبل سب ایک جیسا نظر آتا ہے۔ مغربی قارئین کو جو کردار مختلف یا انوکھے نظر آتے ہیں، ہم ان سے مانوس ہیں۔

ہجرت کا اپنا دکھ ہوتا ہے۔ نئے دیس میں مطمئن اور خوش رہنے والے بھی ہجرت کی کسک ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ میں بھی ایسے لوگوں میں ہوں۔ گرناہ جیسے ادیب اس کا اظہار اپنے ناولوں میں کرتے ہیں۔ انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، اس زمین کو چھوڑنے کے بعد اسے یاد کرتا ہے، اس کی کہانیاں لکھتا ہے۔ اس ناول میں گرناہ نے وہی کام کیا ہے۔ اس میں کالونیاں بنانے والی سفید فام اقوام کی مذمت بھی ہے۔

ناول کے کردار فوزیہ اور خدیجہ گفتگو کرتے ہیں کہ یورپی سیاح یہاں آتے ہیں تو اپنا گند اور اپنا پیسہ ساتھ لاتے ہیں اور ہمارے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔ وہ اپنی خوشی کے لیے ہماری زندگیاں تباہ کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم ان کے پیسے اور ان کے غلیظ طریقوں کے سامنے مزاحمت نہیں کرسکتے۔

یہاں ایک سفید فام خاتون جیرالڈین کا ذکر ہورہا ہے جو ایک این جی او کی جانب سے فلاحی کام کے لیے وہاں موجود ہے۔ بیٹی کہتی ہے، جیرالڈین سیاح نہیں ہے۔ وہ رضاکار ہے۔ ماں کہتی ہے، کیا فرق پڑتا ہے۔

ناول کا عنوان تھیفٹ معنی خیز ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ کہانی میں کریم پر پیسے چرانے کا الزام لگتا ہے۔ لیکن اس کے دوسرے معانی بھی اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ زنجبار کے لوگوں سے ان کی شناخت چھین لی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں سے ان کا وطن چھین لیا جاتا ہے۔ غریبوں سے اچھی زندگی کے مواقع چھین لیے جاتے ہیں۔ ایک کردار رایا کے والدین اس کی آزادی چھین کر شادی کردیتے ہیں۔ دوسرے کردار کریم سے اس کے رشتے، اس کی وراثت چھین لی جاتی ہے۔

ایسی چوریاں، ایسے ڈاکے ہمارے ہاں بھی دن رات پڑتے ہیں۔ ہمیں بھی ایک گرناہ کی ضرورت ہے جو ان چوریوں کا احوال لکھے اور کوئی بڑا انعام جیت کر دنیا کو ان کی کہانی سنائے۔

Check Also

Fitrat Ki Shayari

By Sohaib Rumi