Saturday, 25 July 2026
  1.  Home
  2. Farhat Abbas Shah
  3. Dialysis Ward Mein Mareez Nahi, Hukumat Leti Hai

Dialysis Ward Mein Mareez Nahi, Hukumat Leti Hai

ڈائیلاسز وارڈ میں مریض نہیں، حکومت لیٹی ہے

کبھی کبھی ایک ہسپتال پورے ملک کی تصویر بن جاتا ہے۔ ایک وارڈ محض علاج کی جگہ نہیں رہتا بلکہ حکومت کے ضمیر کا آئینہ بن جاتا ہے۔ لاہور کے شیخ زید ہسپتال کا ڈائیلاسز وارڈ بھی ایک ایسا ہی آئینہ ہے۔ یہاں بستر پر صرف گردوں کے مریض نہیں لیٹے، یہاں ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات لیٹی ہوئی ہیں، یہاں ہمارے منصوبے لیٹے ہوئے ہیں، یہاں ہماری سیاست لیٹی ہوئی ہے اور سب سے بڑھ کر یہاں وہ خاموش انسانیت لیٹی ہوئی ہے جسے ہر حکومت اپنے منشور میں تو یاد رکھتی ہے، مگر اپنی ترجیحات میں نہیں۔

ڈائیلاسز کی مشین ایک عجیب ایجاد ہے۔ یہ صرف خون صاف نہیں کرتی، یہ انسان کو امید کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ ایک مریض اپنی زندگی اس طرح مشین کے حوالے کرتا ہے جیسے کوئی پرندہ اپنی آخری اڑان سے پہلے آسمان پر اعتماد کرتا ہے۔ مگر جب وہی مشینیں بوڑھی ہو جائیں، ان کی دھڑکنیں کمزور پڑ جائیں، ان کے پرزے عارضی مرمتوں کے سہارے چل رہے ہوں، تو پھر صرف مشین نہیں تھکتی، امید بھی تھکنے لگتی ہے۔

اس وارڈ میں گرمی صرف موسم کی نہیں۔ یہاں گرمی اس بے حسی کی بھی ہے جس نے ایئر کنڈیشنروں کو قبرستان کی یادگار بنا دیا ہے۔ کہیں کوئی یونٹ چلتا ہے، کہیں کوئی بند پڑا ہے، کہیں پرانی مشینیں اپنی آخری سانسوں سے ٹھنڈی ہوا پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر سوال یہ نہیں کہ اے سی چل رہا ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسے مریض کو، جو چار گھنٹے اپنی رگوں سے زندگی کشید کرواتا ہے، اتنا سکون بھی نصیب نہیں ہو سکتا کہ وہ پسینے میں نہ نہائے؟

فرنیچر بھی شاید انسانوں کی طرح بوڑھا ہو جاتا ہے۔ مگر انسان کی بڑھاپے میں عزت بڑھتی ہے، فرنیچر کی نہیں۔ اس وارڈ کا فرنیچر اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔ ہر کرسی، ہر بیڈ، ہر میز جیسے برسوں سے حکومتوں کی تبدیلیاں دیکھ رہی ہے اور خاموشی سے پوچھ رہی ہے کہ کیا میرے بعد بھی کوئی نئی صبح نہیں آئے گی؟

پھر وہ منظر دل کو چیر دیتا ہے جب ایک ضعیف العمر مریض پارکنگ سے وارڈ تک پہنچنے کے لیے اپنے بیٹے، بیٹی یا کسی بھی سہارا دینے والے کے کندھے پر جھک جاتا ہے۔ کہیں وہیل چیئر نہیں، کہیں سٹریچر دستیاب نہیں، کہیں تیماردار خود ایمبولینس بن جاتا ہے۔ ایک بیمار جسم جب علاج تک پہنچنے کے لیے بھی جنگ لڑے تو سمجھ لیجیے کہ بیماری صرف جسم میں نہیں، نظام میں بھی اتر چکی ہے۔

لیکن اسی منظر میں ایک روشنی بھی ہے۔ وہ روشنی اس وارڈ کا طبی عملہ ہے۔ ڈاکٹر، نرسیں، ٹیکنیشنز اور معاون عملہ۔ حیرت ہوتی ہے کہ اتنے محدود وسائل میں بھی ان کے لہجے میں نرمی کیسے باقی ہے، ان کے ہاتھوں میں محبت کیسے باقی ہے، ان کی آنکھوں میں احساس کیسے باقی ہے۔ شاید پیشہ صرف روزگار نہیں ہوتا، کبھی کبھی عبادت بھی بن جاتا ہے۔ یہ لوگ اس وارڈ کی مشینوں سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی محنت اس نظام کی شرمندگی کو کسی حد تک ڈھانپ لیتی ہے، مگر مکمل طور پر چھپا نہیں سکتی۔

شیخ زید ہسپتال برسوں سے دو حکومتوں کے درمیان ایک ایسی فائل بن گیا ہے جس پر ہر دستخط کے بعد ایک اور دستخط کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ وفاق اور پنجاب کے درمیان لٹکا ہوا یہ ادارہ دراصل ان مریضوں کی قسمت بھی لٹکا دیتا ہے جن کے پاس انتظار کی مہلت نہیں ہوتی۔ گردے سیاست کی رفتار سے کام نہیں کرتے۔ انہیں وقت پر علاج چاہیے، فیصلے نہیں۔

خواجہ عمران نذیر صاحب! وزارت صرف اختیارات کا نام نہیں، احساس کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ کبھی بغیر پروٹوکول کے اس وارڈ میں چلے جائیے۔ کسی مریض کے پاس خاموش بیٹھ جائیے۔ اس کی آنکھوں میں جھانکیے۔ آپ کو وہاں شکایت کم اور دعا زیادہ ملے گی، مگر وہ دعا آپ سے ایک سوال بھی کرے گی کہ کیا اس ملک میں بیمار ہونا ایک جرم ہے؟

اور محترمہ وزیراعلیٰ صاحبہ! تاریخ حکومتوں کو ان کے بیانات سے نہیں، ان کے فیصلوں سے یاد رکھتی ہے۔ اگر آپ واقعی پنجاب کے صحت کے نظام کو نئی شناخت دینا چاہتی ہیں تو اس قدیمی ڈائیلاسز سنٹر کو اپنی ترجیحات میں شامل کیجیے۔ یہاں صرف نئی مشینیں نہیں چاہئیں، یہاں نئی امید چاہیے۔ یہاں صرف ایئر کنڈیشنر نہیں چاہئیں، یہاں عزتِ انسان چاہیے۔ یہاں صرف فرنیچر نہیں بدلنا، یہاں یہ احساس بدلنا ہے کہ غریب آدمی کا علاج بھی غریب ہونا چاہیے۔

حکومت کی عظمت کا پیمانہ اس کے عظیم دفاتر اور پروٹوکول نہیں ہوتے، اس کے ہسپتال اور سکولز ہوتے ہیں۔ اس کی خدمات ہوا کرتی ہیں۔ قوموں کی تہذیب کا امتحان ان کی پارلیمنٹ میں نہیں، ان کے ڈائیلاسز وارڈ میں ہوتا ہے۔ وہاں جہاں ایک مجبور انسان خاموشی سے اپنے خون کے ساتھ اپنی امیدیں بھی مشین کے حوالے کرتا ہے۔

میری دعا ہے کہ وہ دن جلد آئے جب شیخ زید ہسپتال کے اس وارڈ میں داخل ہونے والا مریض یہ محسوس کرے کہ وہ کسی سرکاری عمارت میں نہیں، اپنی ریاست کی آغوش میں داخل ہوا ہے۔ کیونکہ جس دن بیمار انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ حکومت اس کے ساتھ کھڑی ہے، اس دن علاج صرف مشینیں نہیں کرتیں، امید بھی شفا دینے لگتی ہے۔

Check Also

Petroleum Narkh Rozana Barhne Ke Taziyane

By Nusrat Javed