طاقت کی دوڑ، بڑھتی عسکری برتری اور کمزور ہوتا مکالمہ

بلاشبہ عصرِ حاضر کی دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت کی تعریف محض عسکری برتری، ایٹمی توازن اور ہتھیاروں کے ذخائر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ بڑی طاقتیں جدید جنگی جہازوں، خلائی دفاعی نظاموں، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر اور میزائل شیلڈز پر کھربوں کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اعداد و شمار اپنی ظاہری چمک میں متاثر کن دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان اعداد کے پس منظر میں ایک ایسی خاموش لرزش بھی پوشیدہ ہے جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ طاقت کے یہ ڈھانچے بظاہر دفاعی حکمتِ عملی کہلاتے ہیں مگر درحقیقت وہ خوف، عدم اعتماد اور عدمِ مکالمہ کی بنیاد پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ جب طاقت مکالمے سے آزاد ہو جاتی ہے، تو وہ امن کے بجائے خطرے کو جنم دیتی ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ممکنہ تصادم کی لکیریں واضح ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
عالمی سیاسیت کی بساط پر اب جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ لیبارٹریوں، تحقیقی مراکز، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور معاشی پالیسیوں میں تخلیق ہوتی ہے۔ ایک طرف جدید اسلحے کے تجربات ہیں، دوسری جانب طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے نام پر مسلسل ہتھیاروں کی دوڑ۔ یہ دوڑ کسی ایک ملک کی مجبوری نہیں بلکہ عالمی اسٹرکچر کا حصہ بن چکی ہے، جسے سلامتی کے بیانیے، قومی مفاد اور عالمی قیادت کے فیصلوں سے تقویت ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نیا معاہدہ، ہر نئی تکنیکی پیش رفت اور ہر دفاعی بجٹ صرف ایک ملک کی طاقت نہیں بڑھاتا بلکہ خطے بھر میں خوف اور ردِعمل کی ایک نئی لہر کو بھی جنم دیتا ہے۔ اس ردِعمل میں نئی صف بندیاں بنتی ہیں، نئے بلاکس ابھرتے ہیں اور دنیا ایک بار پھر اُس ذہنی کیفیت کے قریب جا کھڑی ہوتی ہے جسے مورخین سرد جنگی پراسراریت اور عسکری مقابلہ آرائی کہتے ہیں۔
انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت جب بات چیت سے منقطع ہو جائے تو فاصلے بڑھتے ہیں اور فاصلے جب بڑھیں تو جنگ کے امکانات محض تصور نہیں رہتے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگیں محض اتفاقی حادثے نہیں تھیں، وہ عدمِ بصیرت، تعصب، جارحانہ سفارت کاری اور طاقت کی اس نفسیات کے نتائج تھیں جس میں مکالمہ کمزور اور عسکری فیصلہ سازی غالب ہو جاتی ہے۔ آج دنیا ایک مرتبہ پھر اسی سمت دھکیلی جا رہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار جنگ کے محرکات زیادہ پیچیدہ، تیز رفتار اور ہمہ جہت ہیں۔ اب محاذ صرف زمینی سرحد پر نہیں بنتا، بلکہ معلومات، معیشت، خلائی نظام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی کھلتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی معمولی غلط فہمی، غلط فیصلہ یا جذباتی اقدام کے نتیجے میں ہونے والا تصادم پوری دنیا کے امن کو تہہ و بالا کر سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقتور ریاستیں اپنی دفاعی منصوبہ بندی کو ناگزیر قرار دیتی ہیں۔ وہ اسے استحکام، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا نام دیتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کا یہ تصور انسانیت کو محفوظ بنا سکا ہے؟ اگر طاقت واقعی امن کا ضامن ہوتی تو آج لاکھوں انسان جنگی خوف کے سائے میں نہ جیتے، عالمی معیشت غیر یقینی کا شکار نہ ہوتی اور کمزور ممالک کے مستقبل پر فیصلہ ساز قوتیں مسلط نہ ہوتیں۔ عسکری ترقی جب سماجی انصاف، معاشی برابری اور انسانی فلاح سے کٹ جائے تو پھر وہ ترقی نہیں رہتی بلکہ ایک غیرمحسوس خطرہ بن جاتی ہے ایسا خطرہ جو خاموشی سے اقوام کے درمیان فاصلے پیدا کرتا ہے اور دلوں میں بے یقینی بو دیتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادت طاقت کے معنی ازسرنو متعین کرے۔ طاقت کا حقیقی تصور وہ ہونا چاہیے جو جنگی تیاری میں نہیں بلکہ سفارت، مفاہمت، مکالمہ اور ذمہ دارانہ فیصلوں میں پوشیدہ ہو۔ امن کو محض ایک سیاسی نعرہ یا سفارتی علامت بنا کر چھوڑ دینے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ امن کو عملی پالیسی، تعلیمی نظام، میڈیا بیانیے اور بین الاقوامی تعلقات کا مرکزی محور بنانا ہوگا۔ دنیا کو ایسے فورمز کی ضرورت ہے جہاں اختلافات کو طاقت کے زور پر نہیں بلکہ دلیل، رواداری اور اخلاقی بصیرت کے ساتھ حل کیا جائے۔ بدقسمتی سے موجودہ عالمی ماحول میں مکالمہ کمزور جبکہ عسکری خطابات زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں یہی وہ خامی ہے جو مستقبل کے کسی بڑے بحران کی بنیاد بن سکتی ہے۔
عالمی سماج کو یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ ہتھیار کبھی تحفظ کا مکمل راستہ فراہم نہیں کرتے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ اصل سلامتی طاقت کے ذخائر میں نہیں بلکہ انصاف، معاشرتی مساوات، معاشی استحکام اور انسانی وقار کے احترام میں پوشیدہ ہے۔ اگر دنیا کے بجٹ کا محض ایک حصہ اسلحہ خانوں کے بجائے تعلیم، صحت، تحقیق، ماحول اور غربت کے خاتمے پر خرچ ہو تو شاید انسانیت کا رخ کسی نئی روشنی کی طرف موڑ جائے۔ مگر افسوس کہ آج بھی اعداد و شمار اشتعال پیدا کرنے کے لیے زیادہ استعمال ہوتے ہیں، امن کی تشکیل کے لیے کم۔
یہ لمحہ اس سوال کا متقاضی ہے کہ کیا ہم طاقت کے موجودہ بیانیے کو اسی طرح قبول کرتے رہیں گے، یا پھر اس کے مقابل ایک ایسا فکری باب لکھیں گے جس میں طاقت اور امن کے درمیان توازن قائم ہو سکے؟ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کا امکان جتنا نظریاتی مسئلہ ہے، اتنا ہی عملی خطرہ بھی ہے۔ اگر طاقت کی بڑھتی ہوئی یہ ڈور مکالمے سے نہ جڑی تو کل کا مورخ شاید اس عہد کو ایک ایسے زمانے کے طور پر یاد کرے گا جس نے خبردار ہونے کے باوجود سبق نہ سیکھا۔
کاش کہ یہ وسیع اعداد و شمار، بجٹ کی یہ بلند شرحیں اور عسکری ترقی کے یہ حیران کن مراحل کسی نئی کشیدگی کے بجائے امن کی راہیں ہموار کریں۔ کاش کہ طاقت کی دوڑ کسی وقت رک کر انسانیت کی طرف پلٹ آئے اور دنیا کو یہ احساس ہو کہ امن اب بھی ایک خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت بن سکتا ہے، اگر طاقت کو گفتگو اور حکمت کے تابع کر دیا جائے۔ مگر فی الحال، امن بدستور ایک حسین مگر ادھورا خواب ہے اور اسی خواب کو حقیقت میں بدلنا آنے والی نسلوں کے لیے ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

