Thursday, 08 January 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Ramzan o Eidain: Scienci Pesh Goi, Ijtemai Nazm Aur Taqveemi Imkan

Ramzan o Eidain: Scienci Pesh Goi, Ijtemai Nazm Aur Taqveemi Imkan

رمضان و عیدین: سائنسی پیشگوئی، اجتماعی نظم اور تقویمی امکان

رمضان المبارک، عیدالفطر اور عیدالاضحی صرف تقویمی ایام نہیں ہوتے، یہ مسلمان معاشرے کی روحانی دھڑکن اور اجتماعی احساس کے وہ خاص لمحات ہیں جن سے دلوں میں عبدیت کا شعور اور اجتماعیت کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ سال کے انہی مقدس ایام کے تعین سے متعلق پاکستان میں سیکرٹری جنرل رویتِ ہلال ریسرچ کونسل خالد اعجاز مفتی کی جانب سے حال ہی میں سامنے آنے والی سائنسی و فلکیاتی بنیادوں پر مرتب کردہ ممکنہ تاریخوں نے ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ جدید سائنسی مشاہدہ اور روایتی شہادت کس طرح مل کر امت کے اجتماعی نظم کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق فلکیاتی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ رمضان المبارک کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کے واضح امکانات رکھتا ہے اور اس طرح یکم رمضان کے 19 فروری کو ہونے کا قوی امکان ہے۔ اسی طرح انہوں نے سائنسی قرائن کی بنیاد پر یہ بھی اندازہ ظاہر کیا ہے کہ شوال کا چاند 20 مارچ کو دیکھا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عیدالفطر 21 مارچ کو متوقع ہے۔ مزید برآں یکم ذوالحجہ کے 17 مئی کو ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو بالآخر 27 مئی کو عیدالاضحی کے امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ تمام تاریخیں محض تخمینے نہیں بلکہ فلکیاتی مشاہدات، حسابی ماڈلز اور موسمی حالات کے جائزے پر مبنی مرتب کی گئی سائنسی پیشگوئیاں ہیں۔

ہمارے معاشرے میں رویتِ ہلال ہمیشہ ایک مذہبی، سائنسی، سماجی اور نفسیاتی بحث کا محور رہی ہے۔ چاند کی شہادت صدیوں تک آنکھ سے مشاہدے کی روایت سے وابستہ رہی، مگر عصرِ حاضر میں جب فلکیات، موسمیات اور آپٹیکل سسٹمز نے نئی راہیں کھولی ہیں، تو یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ سائنسی امکانات اور بصری شہادت کے مابین توازن کیسے قائم کیا جائے۔ خالد اعجاز مفتی کی پیشگوئیوں کی اہمیت بھی دراصل اسی تناظر میں ہے، کہ یہ قوم کو پیشگی آگاہی فراہم کرتی ہیں، جس سے انتظامی، مذہبی اور معاشرتی سطح پر بہتر منصوبہ بندی ممکن ہو جاتی ہے۔

رمضان المبارک کی آمد سے قبل روزہ دار اپنے معمولاتِ زندگی ترتیب دیتے ہیں، مساجد اپنے اوقاتِ تراویح منظم کرتی ہیں، میڈیا دینی نشریات کے شیڈول مرتب کرتا ہے، تجارت اور دفتری اوقات میں ردوبدل سامنے آتا ہے ایسے میں اگر ممکنہ تاریخوں کا سائنسی انداز میں تخمینہ پہلے سے دستیاب ہو، تو قومی نظم کو سہولت حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پیشگوئیاں محض ایک اطلاع نہیں بلکہ ایک تحقیقی اور تدبیری خدمت کی حیثیت رکھتی ہیں۔

فلکیاتی علوم ہمیں بتاتے ہیں کہ چاند کی پیدائش، اس کا زاویۂ ارتقاع، افق پر اس کی بلندی اور غروبِ آفتاب کے بعد اس کی مرئی مدت یہ تمام عوامل اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ چاند نظر آسکے گا یا نہیں۔ رویتِ ہلال ریسرچ کونسل کی جانب سے مرتب کردہ ممکنہ تاریخیں انہی سائنسی اصولوں کے اطلاق کا نتیجہ ہیں۔ البتہ اسلامی روایت میں آنکھ سے دیکھنے کی شہادت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور پاکستان سمیت مسلم دنیا کی مذہبی کمیٹیاں اس اصول پر قائم رہتی ہیں کہ حتمی فیصلہ عملی رویت کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا۔ یہی نقطہ شریعت کی حکمت اور سائنسی تقدیر کے باہمی مکالمے کو ایک متوازن سمت عطا کرتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ایسے تخمینے معاشرے میں غیر ضروری اختلاف کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماضی میں کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک ہی ملک میں مختلف ایام پر روزہ یا عید کا اعلان ہوا، جس سے قومی وحدت اور عبادات کی اجتماعی شان متاثر ہوئی۔ سائنسی اندازِ فکر، شفاف معلومات اور مستند ادارہ جاتی گفتگو اس امکان کو کم کرتی ہے کہ محض قیاس یا جزوی شہادت کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا جائے۔ خالد اعجاز مفتی کی جانب سے پیش کی جانے والی یہ تاریخیں اسی وژن کا تسلسل محسوس ہوتی ہیں یعنی ایسی معلومات کی فراہمی جو نہ شرعی اصول سے متصادم ہوں اور نہ ہی سائنسی حقائق سے غافل۔

اس بحث کا ایک سماجی پہلو بھی نمایاں ہے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی صرف مذہبی تہوار نہیں، یہ معاشی سرگرمیوں، سفری منصوبہ بندی، قربانی کی تیاریوں، ملازمتوں کی چھٹیوں، تعلیمی اداروں کے شیڈول اور خاندانوں کے میل جول سے جڑی ہوئی تقریبات ہیں۔ جب ان ایام کے بارے میں قوم کو پیشگی آگاہی ملتی ہے تو ہزاروں خاندان اپنے سفر، ملاقاتوں اور گھریلو معاملات کو پہلے سے مربوط بنا سکتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں محققانہ انداز پر مبنی سائنسی پیشگوئیاں ایک عملی سماجی قدر میں بدل جاتی ہیں۔

تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ پیشگوئی، پیشگی امکان ہے فیصلہ نہیں۔ چاند کی رویت موسمی حالات، بادلوں کی موجودگی اور فضائی شفافیت سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے سائنسی امکان چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، شرعی رویت کے فیصلے تک اسے قطعی نتیجہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہی امتیاز دراصل اسلامی فقہ کی اس احتیاط کا مظہر ہے جس میں عبادات کے اوقات کو انسانی تجربے اور گواہی سے وابستہ رکھا گیا ہے۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابلِ تحسین ہے کہ پاکستان میں ایسے ادارے موجود ہیں جو محض مذہبی روایت کے محافظ ہی نہیں بلکہ سائنسی روایت کے بھی ہم سفر ہیں۔ رویتِ ہلال ریسرچ کونسل کی کاوشیں اس بات کی علامت ہیں کہ ہمارے علمی حلقوں میں یہ شعور پیدا ہو رہا ہے کہ سائنس اور مذہب متوازی خطوط کے مسافر نہیں بلکہ ایک ہی فکری تہذیب کی تکمیلی جہتیں ہیں۔ چاند کے تعین جیسے مسائل میں یہی توازن ہمیں بے جا انتشار سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

اگر مستقبل قریب میں ریاستی اور مذہبی اداروں کے درمیان سائنسی معلومات کے تبادلے کا عمل مزید مضبوط ہوا، تو نہ صرف رویتِ ہلال کا نظام زیادہ شفاف اور قابلِ اعتماد بنے گا بلکہ قوم کا مجموعی اعتماد بھی اس عمل کے ساتھ وابستہ ہو جائے گا۔ ایک مہذب اور علمی معاشرہ وہی ہوتا ہے جو روایت کو احترام کے ساتھ محفوظ رکھتا ہے اور علم کی روشنی کو بھی قبول کرتا ہے۔

خالد اعجاز مفتی کی جانب سے پیش کی گئی ممکنہ تاریخیں فی الوقت ایک تحقیقی رہنمائی کی حیثیت رکھتی ہیں یہ ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ عبادات کا کیلنڈر محض فلکیاتی مشاہدہ نہیں، یہ اجتماعی شعور، روحانیت، نظمِ قومی اور تدبرِ اجتماعی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ جیسے جیسے ہم سائنسی اور مذہبی مکالمے کو متوازن انداز میں آگے بڑھائیں گے، ہماری عبادات کی اجتماعی شان مزید نکھر کر سامنے آئے گی۔

یہی امید کی جا سکتی ہے کہ جب 18 فروری، 20 مارچ اور 17 مئی جیسے ممکنہ ایام ہمارے دروازے پر دستک دیں گے، تو قوم محض تقویمی انتظار میں نہیں بلکہ شعوری تیاری کے ساتھ ان مقدس لمحات کا استقبال کرے گی اور یہی رویہ ایک بامعنی، متوازن اور علم دوست معاشرے کی پہچان ہے۔

Check Also

Sir Major James Abbott: Aik Muntazim, Aik Insan

By Asif Masood