جیفری ایپسٹین فائلز

جیفری ایپسٹین کا نام اب کسی ایک فرد کی شناخت نہیں رہا بلکہ یہ نام جدید عالمی سیاست، طاقت، دولت، جنسی استحصال، عدالتی نظام کی کمزوری اور ذرائع ابلاغ کی اخلاقی آزمائش کی علامت بن چکا ہے۔ "ایپسٹین فائلز" کے نام سے منظرِ عام پر آنے والی دستاویزات نے ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے اٹھا دیا ہے کہ کیا دنیا میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا پھر طاقتور طبقات کے لیے انصاف ایک قابلِ خرید شے بن چکا ہے؟ ایپسٹین کی زندگی، اس کے روابط اور اس کی پراسرار موت نے ایسے بے شمار پردے چاک کیے ہیں جن کے پیچھے عالمی اشرافیہ کے وہ چہرے چھپے تھے جو بظاہر انسانی حقوق، اخلاقیات اور جمہوری اقدار کے علمبردار سمجھے جاتے رہے ہیں۔
جیفری ایپسٹین ایک ایسا شخص تھا جو رسمی طور پر نہ کسی بڑی کارپوریشن کا سربراہ تھا اور نہ ہی کسی منتخب حکومت کا نمائندہ، مگر اس کے تعلقات دنیا کے طاقتور ترین سیاست دانوں، شہزادوں، ارب پتی سرمایہ کاروں، ماہرینِ قانون، خفیہ اداروں اور میڈیا کے نمایاں چہروں تک پھیلے ہوئے تھے۔ "ایپسٹین فائلز" نے واضح کیا کہ یہ تعلقات محض سماجی میل جول تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کے پس منظر میں ایک منظم استحصالی نیٹ ورک کارفرما تھا، جس میں کم عمر لڑکیوں کو بااثر افراد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ انکشافات سے یہ حقیقت بھی بے نقاب ہوئی کہ یہ سب کچھ کسی لاعلمی یا اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ برسوں تک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جاری رہا۔
ایپسٹین کے خلاف الزامات کوئی اچانک سامنے آنے والا واقعہ نہیں تھے۔ اس کے ماضی میں ایسے شواہد موجود تھے جو بروقت کارروائی کی صورت میں بے شمار زندگیاں بچا سکتے تھے، مگر حیران کن طور پر امریکی عدالتی نظام، تفتیشی ادارے اور سیاسی قیادت اس معاملے میں غیر معمولی نرمی اور خاموشی کا مظاہرہ کرتی رہی۔ "ایپسٹین فائلز" یہ بھی بتاتی ہیں کہ کس طرح مخصوص قانونی معاہدوں، خفیہ ڈیلز اور استثنیٰ کے ذریعے اسے قانون کے شکنجے سے بارہا نکالا گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انصاف کا تصور محض ایک نظری نعرہ بن کر رہ جاتا ہے اور طاقت کی حرکیات اصل فیصلے کرتی نظر آتی ہیں۔
ایپسٹین کی موت نے اس معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا۔ ایک ایسے شخص کی، جو عالمی سطح پر حساس رازوں کا حامل تھا، انتہائی سکیورٹی جیل میں موت محض ایک فرد کی جان جانے کا واقعہ نہیں بلکہ نظام پر ایک کاری ضرب تھی۔ "ایپسٹین فائلز" کے تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ واقعی خودکشی تھی یا پھر کسی بڑے اسکینڈل کو دفن کرنے کی ایک کوشش؟ اگر یہ خودکشی تھی تو نگرانی کے نظام، کیمروں اور جیل انتظامیہ کی ناکامی محض اتفاق نہیں لگتی اور اگر یہ قتل تھا تو اس کے پیچھے موجود قوتیں انسانی قانون سے کہیں زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہیں۔
ان دستاویزات کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان میں جن ناموں کا تذکرہ آیا، ان میں سے اکثر آج بھی بااثر عہدوں پر فائز ہیں یا عالمی پالیسی سازی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ کون مجرم ثابت ہوا اور کون نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سچ تک پہنچنے کا راستہ جان بوجھ کر مسدود کیا جا رہا ہے؟"ایپسٹین فائلز" اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ جدید دنیا میں سچائی کا انحصار اخلاقی اصولوں پر نہیں بلکہ طاقت کے توازن پر ہوتا ہے۔
میڈیا کا کردار بھی اس پورے معاملے میں دو دھاری تلوار ثابت ہوا۔ ایک طرف کچھ صحافیوں اور تحقیقاتی اداروں نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی، تو دوسری طرف بڑے میڈیا ہاؤسز کی خاموشی یا محتاط رپورٹنگ نے سوالات کو جنم دیا۔ "ایپسٹین فائلز" یہ واضح کرتی ہیں کہ اشتہارات، سیاسی وابستگیاں اور کارپوریٹ مفادات کس طرح خبر کے انتخاب اور اس کے انداز کو متاثر کرتے ہیں۔ یوں عوام کو سچ کا وہ مکمل چہرہ دکھائی ہی نہیں دیتا جو انہیں دکھایا جانا چاہیے۔
یہ معاملہ صرف امریکہ یا مغربی دنیا تک محدود نہیں۔ ایپسٹین اسکینڈل نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ طاقتور طبقات کے احتساب کا فقدان ایک عالمی مسئلہ ہے۔ کمزور ممالک میں تو انصاف پہلے ہی سوالیہ نشان ہے، مگر جب ترقی یافتہ جمہوریتوں میں بھی یہی صورت حال سامنے آئے تو یہ عالمی اخلاقی بحران کی علامت بن جاتا ہے۔ "ایپسٹین فائلز" دراصل اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ انسانی حقوق کے عالمی بیانیے اور عملی حقیقت کے درمیان کتنا گہرا تضاد موجود ہے۔
ان فائلز نے عوامی شعور میں ایک نیا سوال بھی پیدا کیا ہے کہ کیا قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات اس نظام کو درست کر سکتی ہیں، یا پھر مسئلہ اس سے کہیں گہرا ہے؟ جب طاقت، دولت اور خفیہ معلومات ایک ہی ہاتھ میں جمع ہو جائیں تو قوانین محض کاغذی رکاوٹ بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایپسٹین کا کیس اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ طاقت کے مراکز میں طے ہوتا ہے۔
بالآخر "ایپسٹین فائلز" ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اگر اس جیسے معاملات پر اجتماعی خاموشی برقرار رہی تو آنے والے وقت میں استحصال کے یہ نیٹ ورک مزید مضبوط ہوں گے۔ یہ صرف ماضی کا اسکینڈل نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایپسٹین کون تھا، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ نظام کون سا ہے جو ایپسٹین جیسے کردار پیدا کرتا، انہیں تحفظ دیتا اور پھر ضرورت پڑنے پر خاموشی سے منظر سے ہٹا دیتا ہے۔ جب تک اس سوال کا دیانت دارانہ جواب تلاش نہیں کیا جاتا، انصاف محض ایک خواب اور سچ ایک ادھورا بیانیہ ہی رہے گا۔

