Friday, 16 January 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Iran Mein Ehtejaj, Crackdown Aur Aalmi Rad e Amal

Iran Mein Ehtejaj, Crackdown Aur Aalmi Rad e Amal

ایران میں احتجاج، کریک ڈاؤن اور عالمی ردِعمل

ایران میں مظاہرے، سینکڑوں ہلاکتیں، مظاہروں کو ہوا نہیں دے رہے، امریکا، یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی اس پیچیدہ سیاسی بساط کا تازہ ترین منظرنامہ ہے جہاں طاقت، عوامی اضطراب، بیرونی بیانیے اور داخلی کمزوریاں ایک دوسرے میں گھل مل کر ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں سے ایران کے بڑے شہروں میں ابھرنے والی احتجاجی لہر اب وقتی ردِعمل کے مرحلے سے نکل کر ایک سنجیدہ سیاسی و سماجی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست پر لرزہ طاری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تہران، مشہد، تبریز، قم اور ہمدان جیسے اہم اور علامتی شہروں میں سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین محض معاشی شکایات یا وقتی غصے کا اظہار نہیں کر رہے، بلکہ وہ ایک ایسے نظام کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں جسے وہ اپنے مسائل کا بنیادی سبب سمجھتے ہیں۔ شاہی دور کے پرچموں کا دوبارہ نمودار ہونا، آتش بازی اور شہری مراکز پر قبضے کی باتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ احتجاج اب صرف مطالبات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں سیاسی علامتیں، ماضی کی یادیں اور مستقبل کے متبادل تصورات بھی شامل ہو چکے ہیں۔ رضا پہلوی کی جانب سے احتجاج کی حمایت، شہری مراکز پر کنٹرول کی اپیل اور وطن واپسی کے اعلان نے اس تحریک کو ایک نیا سیاسی رنگ دے دیا ہے، جس سے ایرانی قیادت کی تشویش میں فطری اضافہ ہوا ہے۔

ریاستی ردِعمل حسبِ روایت سخت اور بے لچک دکھائی دیتا ہے۔ کریک ڈاؤن، طاقت کا بے دریغ استعمال، متعدد ہلاکتیں اور زخمیوں کی اطلاعات اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت احتجاج کو محض نظم و نسق کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وجودی خطرہ سمجھ رہی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس، جن میں مظاہرین کی آنکھوں کو نشانہ بنانے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں، اس بحران کو عالمی سطح پر مزید حساس بنا رہے ہیں۔ ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نہ صرف اطلاعات کی ترسیل روکنے کی کوشش ہے بلکہ یہ تاثر بھی تقویت دیتا ہے کہ ریاست زمینی حقائق کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا چاہتی ہے۔ ایسے اقدامات وقتی طور پر احتجاج کو دبانے میں مدد دے سکتے ہیں، مگر طویل المدت اعتبار سے یہ عوام اور ریاست کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔

ایرانی حکام کی جانب سے مظاہروں کو "بربریت" قرار دینا اور براہِ راست امریکا پر مداخلت کا الزام عائد کرنا ایک مانوس حکمتِ عملی ہے۔ داخلی بحران کو بیرونی سازش سے جوڑ کر پیش کرنا نہ صرف عوامی غصے کا رخ موڑنے کی کوشش ہوتی ہے بلکہ ریاستی بیانیے کو اخلاقی جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ تاہم اس بار واشنگٹن کی تردید غیر معمولی طور پر سخت اور واضح رہی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کو "گمراہ کن" اور "حقیقت سے فرار" قرار دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اس بحران میں براہِ راست ملوث ہونے کے الزام کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کی حکومت اپنی اندرونی ناکامیوں اور عوامی ناراضی سے توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی دشمن کا سہارا لے رہی ہے۔

یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ امریکا واقعی ان مظاہروں کو ہوا دے رہا ہے یا نہیں، بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ ایران کے اندر ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے کہ بیرونی مداخلت کا بیانیہ بھی عوام کے ایک حصے کو مطمئن نہیں کر پا رہا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، سماجی پابندیاں، سیاسی جمود اور عالمی تنہائی نے ایرانی معاشرے میں ایک دیرینہ اضطراب کو جنم دیا ہے جو وقفے وقفے سے مختلف شکلوں میں ابھرتا رہا ہے۔ حالیہ احتجاج اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، مگر اس کی شدت، جغرافیائی وسعت اور سیاسی علامتیں اسے سابقہ مظاہروں سے کہیں زیادہ اہم بنا دیتی ہیں۔

رضا پہلوی کا کردار اس بحران میں ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ ایک جانب وہ بیرونِ ملک بیٹھ کر خود کو جمہوری اور عوامی متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں، تو دوسری جانب ان کی مداخلت حکومت کے اس بیانیے کو تقویت دیتی ہے کہ یہ سب کچھ بیرونی ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے۔ شاہی پرچموں کا لہرانا بعض حلقوں کے لیے امید کی علامت ہو سکتا ہے، مگر ایرانی معاشرے کی ایک بڑی تعداد کے لیے شاہی دور کی یادیں بھی متنازع اور تکلیف دہ ہیں۔ اس تضاد نے احتجاجی تحریک کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر یہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات، ہلاکتوں کی تعداد اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ جیسے اقدامات ایران پر پہلے سے موجود دباؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکا اور مغربی دنیا کھلے عام مداخلت سے گریز کرتے ہوئے بیانات کی حد تک محدود رہنا چاہتی ہے، کیونکہ کسی بھی براہِ راست کردار کا نتیجہ خطے میں ایک نئے تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ پہلے ہی کشیدہ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر مستحکم فضا میں ایران کا داخلی بحران ایک بڑے جیوپولیٹیکل طوفان کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔

بالآخر یہ بحران اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کے ذریعے خاموشی تو مسلط کی جا سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایرانی قیادت اس احتجاج کو محض سیکیورٹی مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کرتی رہی تو ممکن ہے وقتی سکون حاصل ہو جائے، مگر عوامی بے چینی کی آگ زیرِ راکھ سلگتی رہے گی اور اگر بیرونی طاقتیں اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایران کے موجودہ مظاہرے دراصل اس سوال کا امتحان ہیں کہ آیا ریاست عوامی آواز کو سننے اور اصلاح کی راہ اختیار کرنے پر آمادہ ہے یا ایک بار پھر طاقت اور الزام تراشی کے ذریعے وقت خریدنے کی کوشش کرے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لمحات میں کیے گئے فیصلے صرف حال نہیں بلکہ آنے والی دہائیوں کا رخ بھی متعین کر دیتے ہیں۔

Check Also

Yulia Ki Neend (1)

By Ashfaq Inayat Kahlon