Thursday, 01 January 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Haqiqi Khushi

Haqiqi Khushi

حقیقی خوشی

یہ سوال کہ "حقیقی خوشی آخر کہاں بسی ہے؟" انسان کے لاشعور میں صدیوں سے دستک دیتا آیا ہے۔ تہذیبیں بدلی ہیں، نظریات نے رنگ بدلا ہے، معاشی نظاموں نے انسان کو نئے خواب دکھائے ہیں، مگر دل کی اس پیاس کا جواب اب تک بیشتر لوگ دولت، طاقت اور شہرت کے سراب میں ڈھونڈتے رہے ہیں۔ بظاہر یہی تین عناصر کامیابی کی معیاری تعریف بنا دیے گئے بلند بنک بیلنس، سماجی حیثیت اور دنیاوی فتوحات لیکن وقت نے بارہا ثابت کیا کہ سب کچھ پا لینے کے بعد بھی انسان کے اندر کہیں کوئی خلا اداس بیٹھا رہتا ہے۔ اسی داخلی اذیت اور انسانی نفسیات کے اس قدیم سوال کو سمجھنے کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی کی طویل المدتی تحقیق نے انسانی زندگی کے ایک وسیع کینوس کو چھویا اور 85 برس تک جاری رہنے والے اس مطالعے نے وہ سچ آشکار کیا جس نے کامیابی کے رائج تصور کو متزلزل کرکے رکھ دیا۔

یہ تحقیق نہ کسی لمحاتی مشاہدے کا نتیجہ تھی، نہ چند سالہ اعداد و شمار کی بنیاد پر اخذ کردہ رائے، بلکہ یہ انسان کے پورے سفرِ زیست کو قریب سے دیکھنے کی ایک سنجیدہ سائنسی کوشش تھی۔ اس طویل مشاہدے میں مختلف طبقوں، مختلف ذہنی و معاشی پس منظر رکھنے والے افراد کو دہائیوں تک دیکھا گیا ان کے حالات بدلے، روزگار اور خاندان بدلے، بعض دولت مند ہوئے، کچھ محرومیوں سے گزرے، کسی کے مقدر میں شہرت لکھی تھی، کسی کے حصے میں گمنامی مگر ایک عنصر ایسا تھا جو وقت کے ساتھ مسلسل نمایاں ہوتا رہا۔ نتیجہ حیران کن بھی تھا اور سبق آموز بھی: وہ افراد جو زندگیاں زیادہ پُرسکون، صحت مند اور طویل عرصے تک بھرپور طریقے سے گزار سکے، وہ نہ سب سے زیادہ دولت مند تھے، نہ سب سے زیادہ طاقتور یا مشہور، وہ وہ لوگ تھے جن کے انسانی تعلقات مضبوط، گرم جوش، مہربان اور بااعتماد تھے۔

ڈاکٹر رابرٹ والڈنگر، جو اس تحقیق کے حالیہ ڈائریکٹر رہے، اس نتیجے کو محض ایک نفسیاتی مشاہدہ نہیں بلکہ ایک عمیق انسانی صداقت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق حیرت کی اصل جہت یہ نہیں کہ دولت اور شہرت خوشی کی ضمانت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے تعلقات یعنی ہمارا اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ جذباتی رشتہ ہماری جسمانی صحت، ذہنی توازن اور عمر کے معیار تک پر براہِ راست اثرانداز ہوتا ہے۔ گویا تعلقات صرف سماجی ضرورت نہیں، بلکہ ایک حیاتیاتی حقیقت ہیں۔ انسان تنہا جیتا ہے تو صرف تنہائی نہیں سہتا، وہ اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتا ہے، ذہنی دباؤ جسمانی بیماریوں میں ڈھلنے لگتا ہے اور کامیابی کے نام پر حاصل کردہ سب کچھ اپنی معنویت کھو بیٹھتا ہے۔

یہ نکتہ اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ جدید معاشرہ ہمیں مسلسل اس کے برعکس یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں کامیابی کی پیمائش اعداد و شمار، ملکیت، عہدے اور سوشل امیج سے کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس دباؤ کو کئی گنا بڑھا دیا ہے اب خوشی بھی ایک نمائش بن چکی ہے۔ تصاویر پر مسکراہٹیں جتنی گہری ہوتی ہیں، اکثر دل اتنے ہی خالی ہوتے ہیں۔ لوگ بظاہر کامیاب ہیں مگر ذہنی دباؤ ان کے اعصاب کو تھکا دیتا ہے، تعلقات رسمی رہ جاتے ہیں، گفتگو کم اور تاثر زیادہ ہو جاتا ہے۔ انسان کے درمیان فاصلے بڑھتے جاتے ہیں، حالانکہ ٹیکنالوجی نے جسمانی قرب کو بے معنی بنا دیا تھا۔ اسی تضاد کے بیچ ہارورڈ کی یہ تحقیق ایک اخلاقی اور فکری یاددہانی ہے کہ خوشی کا سرچشمہ باہر نہیں، رشتوں کے اندر ہے ان تعلقات میں جو ہمیں سنبھالتے ہیں، سنتے ہیں اور قبول کر لیتے ہیں۔

تحقیق کا ایک نہایت لطیف اور معنی خیز نتیجہ یہ بھی سامنے آیا کہ تعلقات کی محض تعداد اہم نہیں، اصل مادہ تعلقات کا معیار ہے۔ ایسے تعلقات جو اعتماد، خیرخواہی اور جذباتی تحفظ پر استوار ہوں، انسان کے ذہنی و جسمانی سکون کے لیے ایک ڈھال بن جاتے ہیں۔ شریکِ حیات کے ساتھ ہم آہنگی، خاندان کا ساتھ، دوستوں کی رفاقت اور کمیونٹی سے جڑاؤ یہ سب مل کر ایک ایسا سماجی حصار تشکیل دیتے ہیں جو زندگی کے نشیب و فراز میں انسان کو بکھرنے نہیں دیتا۔ معاشی ناکامی ہو، پیشہ ورانہ دباؤ، بیماری یا بڑھاپے کی کمزوری جن لوگوں کے پاس مضبوط رشتوں کا سہارا تھا، وہ زندگی کے ان مراحل سے کہیں زیادہ متوازن انداز میں گزرے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دولت کی کشش کم اور تعلقات کی اہمیت بڑھتی چلی گئی۔ تحقیق میں شامل بہت سے افراد نے اپنے بڑھاپے میں اعتراف کیا کہ اگر زندگی دوبارہ ملتی تو وہ زیادہ وقت اپنے پیاروں کے ساتھ گزارتے، زیادہ مکالمہ کرتے، کم مقابلہ کرتے۔ یہی احساس شاید انسانی تجربے کے سب سے تلخ مگر روشن اقراروں میں سے ایک ہے: انسان بہت دیر سے سمجھتا ہے کہ وہ جس چیز کے پیچھے زندگی دوڑاتا رہا، وہ اصل سرمایہ تھی ہی نہیں۔

یہ نتائج ہمیں ایک وسیع تر سماجی سوال کی طرف بھی متوجہ کرتے ہیں کہ کیا ہماری اجتماعی اقدار انسان کو رشتوں سے کاٹ کر کامیابی کی ایک بے روح دوڑ میں نہیں دھکیل رہیں؟ ہم اپنے بچوں کو مقابلے اور کارکردگی کے اصول تو سکھاتے ہیں، مگر تعلقات نبھانے کی اخلاقیات، مکالمے کا قرینہ اور دل جوڑنے کی اہمیت کم ہی سکھاتے ہیں۔ جب معاشرہ تعلقات کو ثانوی اور مفادات کو بنیادی بنا دے، تو پھر بداعتمادی، احساسِ تنہائی اور نفسیاتی اضطراب اجتماعی سطح پر پھیلنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر ترقی یافتہ معاشروں میں ذہنی امراض اور تنہائی کے احساسات میں اضافہ ہو رہا ہے ترقی نے سہولیات تو بڑھائیں، لیکن قرب کے لمحات کم ہوتے گئے۔

یہ تحقیق ہمیں ایک عملی رہنمائی بھی دیتی ہے کہ خوشی محض ایک جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے جو تعلقات کی تہذیب سے جنم لیتا ہے۔ کسی سے دل کی بات شیئر کرنا، کسی تکلیف کے لمحے میں کسی کا ہاتھ تھامنا، کسی خوشی میں دل سے شریک ہونا یہ وہ چھوٹے چھوٹے اعمال ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر زندگی کے بڑے خلا پُر کر دیتے ہیں۔ رشتے مانگتے کم ہیں، مگر ان کی لاج رکھنا، ان میں مستقل مزاجی، احترام، قربانی اور اخلاص کی مہک برقرار رکھنا یہی وہ اخلاقی جہتیں ہیں جو انسان کو اندر سے مضبوط کرتی ہیں۔

آخرکار یہ سوال اپنی پوری معنوی شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے زاویے کس قدر درست ترتیب دے سکے ہیں؟ اگر ہماری کامیابی کا مرکز صرف بینک اکاؤنٹس، عہدوں اور سماجی نمایاں ی تک محدود ہے، تو شاید ہمیں اپنے اندر جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہماری زندگی میں وہ لوگ خاموشی سے ہماری توجہ کے منتظر ہوں جن کی موجودگی ہی ہماری اصل خوشی کا سرچشمہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم نے رفتار کو اتنی اہمیت دے دی ہو کہ راستے میں کھڑے قیمتی رشتے ہمیں نظر ہی نہ آئے ہوں۔

ہارورڈ کی یہ طویل تحقیق دراصل ایک سادہ مگر گہری حکمت کی طرف لوٹنے کی دعوت ہے کہ خوشی کسی بلند مقام پر جا کر نہیں ملتی، بلکہ انسانوں کے درمیان رہ کر، بانٹ کر، تعلق نبھا کر ملتی ہے۔ دولت اور شہرت اپنی جگہ اہم ہوسکتی ہے، مگر یہ خوشی کے بنیادی ڈھانچے کو تشکیل نہیں دیتیں۔ جو دل محبت سے خالی ہو، وہ محل میں رہ کر بھی ویران رہتا ہے اور جو دل رشتوں کے سائے میں مطمئن ہو، وہ معمولی گھر میں بھی ایک بھرپور زندگی جیتا ہے۔

حقیقی خوشی شاید یہی ہے کہ ہم کسی کے لیے اہم ہوں، کوئی ہمارے لیے اہم ہو اور زندگی کے اس سفر میں ایک دوسرے کا ساتھ کسی مجبوری کے تحت نہیں، بلکہ دل کی آمادگی اور باہمی احترام کے ساتھ دیا جائے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو نہ وقت چھین سکتا ہے، نہ حالات۔ باقی سب کچھ، صرف عارضی ہالہ ہے۔

Check Also

Kya Pakistan Islami Riyasat Nahi Hai?

By Muhammad Riaz