گل پلازہ کی آگ: کراچی، غفلت اور اجتماعی احتساب کا دہکتا سوال

کراچی ایک بار پھر آگ کے شعلوں میں نہیں، بلکہ اجتماعی غفلت، انتظامی بے حسی اور برسوں کے جمع شدہ لاپرواہ رویّوں کی لپیٹ میں جلتا دکھائی دیا۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کی آتشزدگی محض ایک حادثہ نہیں رہی، بلکہ یہ سانحہ اب سوال بن چکا ہے سوال نظام سے، سوال ذمہ داری سے اور سوال اس شہر کے مستقبل سے۔ 33 گھنٹوں تک لگی آگ، 40 گھنٹوں بعد ریسکیو اہلکاروں کی عمارت میں رسائی اور پھر ملبے سے نکلتی لاشیں، انسانی اعضا اور ناقابل شناخت اجساد۔۔ یہ سب مناظر کراچی کے باسیوں کے حافظے پر ایسا نقش چھوڑ گئے ہیں جو شاید کبھی مٹ نہ سکے۔
یہ حقیقت کہ آگ لگنے کے وقت عمارت کے 16 میں سے 13 دروازے مقفل تھے، سانحے کی سنگینی کو دوچند کر دیتی ہے۔ کاروباری اوقات کے اختتام کے قریب دروازے بند کر دینا ایک معمولی انتظامی عمل سمجھا جاتا رہا، مگر اسی "معمول" نے درجنوں جانوں کو قید کرکے موت کے حوالے کر دیا۔ گل پلازہ میں موجود افراد کے پاس نہ فرار کا راستہ تھا، نہ بروقت آگاہی کا کوئی موثر نظام۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دم گھٹنے، شعلوں اور زہریلے دھوئیں نے وہ تباہی مچائی جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
ریسکیو اہلکاروں کو اندر داخل ہونے میں غیر معمولی تاخیر، عمارت کا غیر محفوظ ڈھانچہ اور ملبہ ہٹانے میں متوقع کئی ہفتوں کا وقت اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ کراچی میں تجارتی عمارتیں کس قدر بے ہنگم انداز میں بنائی اور چلائی جا رہی ہیں۔ فائر سیفٹی قوانین یا تو فائلوں میں دفن ہیں یا محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹ اور باقاعدہ سیفٹی آڈٹس واقعی نافذ ہوتے تو شاید آج یہ شہر 26 جانوں کے سوگ میں نہ ڈوبا ہوتا اور درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں در بدر نہ پھر رہے ہوتے۔
لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی نوبت آنا بذاتِ خود ایک المناک مرحلہ ہے۔ جب انسانی وجود اس حد تک جھلس جائے کہ چہرہ، شناخت اور پہچان سب مٹ جائیں، تو یہ محض آگ کی شدت نہیں بلکہ حفاظتی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔ لاپتہ افراد کی فہرست، جن کی آخری لوکیشن گل پلازہ بتائی جا رہی ہے، اس سانحے کے دائرۂ اثر کو مزید وسیع کر دیتی ہے۔ ہر لاپتہ نام کے پیچھے ایک خاندان، ایک کہانی اور ایک امید جڑی ہوئی ہے جو ملبے کے نیچے دبی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
سانحے کے بعد مشتعل ہجوم کا عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کرنا اس اجتماعی اضطراب کا مظہر ہے جو ایسے واقعات کے بعد جنم لیتا ہے۔ یہ غصہ صرف آگ پر نہیں، بلکہ اس پورے نظام پر ہے جو ہر بڑے حادثے کے بعد وعدوں، کمیٹیوں اور اعلانات کی نذر ہو جاتا ہے۔ پولیس کی اضافی نفری طلب کرنا وقتی نظم و ضبط تو قائم کر سکتا ہے، مگر عوامی اعتماد بحال نہیں کر سکتا۔
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان یقیناََ ایک بڑا ریلیف ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا مالی امداد ان جانوں کا نعم البدل ہو سکتی ہے جو ناقابل تلافی طور پر ضائع ہوگئیں؟ کیا یہ رقوم اس ماں کے درد کو کم کر سکتی ہیں جس نے بیٹے کی راکھ تک نہ دیکھی؟ یا اس باپ کے زخم بھر سکتی ہیں جو ڈی این اے رپورٹ کے انتظار میں دن گن رہا ہے؟ امداد ضروری ہے، مگر یہ اصل مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ایک وقتی مرہم ہے۔
انکوائری کمیٹی، فرانزک معاونت اور ممکنہ عدالتی تحقیقات کے اعلانات ماضی کے سانحات سے مانوس لگتے ہیں۔ ہر بڑے حادثے کے بعد یہی بیانیہ سامنے آتا ہے کہ "ذمہ داروں کا تعین ہوگا" اور "کسی کو بلاوجہ قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے گا"۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کبھی اجتماعی غفلت کو واقعی اجتماعی ذمہ داری میں بدلا گیا؟ یا پھر چند نچلے درجے کے اہلکاروں پر الزام ڈال کر اصل اسباب کو پسِ پشت ڈال دیا گیا؟
وزیراعلیٰ کا یہ اعتراف کہ حکومت کی جانب سے غلطیاں ہوئی ہیں، ایک اہم مگر ناکافی قدم ہے۔ اصل امتحان اس اعتراف کو عملی اصلاحات میں ڈھالنا ہے۔ فائر سیفٹی آڈٹ 2024 کا نفاذ، دکانوں میں فائر الارم کی تنصیب اور عمارتوں کے باقاعدہ معائنے اگر واقعی سنجیدگی سے کیے گئے تو شاید یہ سانحہ مستقبل میں کسی اور عمارت میں دہرایا نہ جائے۔ تاہم اس کے لیے محض حکومتی احکامات کافی نہیں، بلکہ تاجر برادری، بلڈنگ مالکان اور شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
گل پلازہ کی آگ ہمیں یہ سکھا گئی ہے کہ شہر صرف عمارتوں سے نہیں بنتے، بلکہ قوانین، اخلاقیات اور احتساب سے بنتے ہیں۔ جب یہ تینوں کمزور پڑ جائیں تو ایک چنگاری پورے معاشرتی ڈھانچے کو جلا کر رکھ دیتی ہے۔ کراچی کو اب ایک اور کمیٹی نہیں، بلکہ ایک واضح اور غیر مبہم فیصلہ درکار ہے: یا تو انسانی جان کو اولین ترجیح دی جائے، یا پھر ہر کچھ عرصے بعد ایسے ہی سانحات کے لیے خود کو تیار رکھا جائے۔
یہ سانحہ ایک کالم، ایک خبر یا ایک وقتی بحث سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ یہ ایک آئینہ ہے، جس میں ہم سب کو اپنا چہرہ دیکھنا ہوگا حکومت کو بھی، اداروں کو بھی اور ہمیں خود کو بھی۔ اگر ہم نے اس آئینے سے نظریں چرا لیں تو آگ بجھ جائے گی، ملبہ ہٹ جائے گا، مگر اگلا گل پلازہ کسی اور سڑک پر، کسی اور نام سے، ہمارے سامنے کھڑا ہوگا۔

