Sunday, 15 February 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Atomi Muahide Ka Khatma

Atomi Muahide Ka Khatma

ایٹمی معاہدے کا خاتمہ

دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں تاریخ، طاقت اور تباہی ایک دوسرے سے آنکھیں ملا رہی ہیں۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک عالمی ایٹمی نظم و ضبط کی علامت سمجھے جانے والے ایٹمی ہتھیاروں پر کنٹرول کے معاہدے کا خاتمہ محض ایک قانونی یا سفارتی واقعہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک گہرا سوال ہے۔ وہ معاہدہ جس نے سرد جنگ کے انتہائی کشیدہ ادوار میں بھی امریکا اور روس کو ایک حد کے اندر رکھا، اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے اور اس کے بعد پیدا ہونے والا خلا عالمی امن کے لیے ایک خاموش مگر مہلک خطرہ بن کر ابھر رہا ہے۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دنیا کے اسی فیصد سے زائد ایٹمی ہتھیار امریکا اور روس کے پاس ہیں۔ انہی دو طاقتوں کے درمیان ایٹمی توازن نے گزشتہ دہائیوں میں اگر مکمل امن نہیں تو کم از کم مکمل تباہی کو روکے رکھا۔ مگر اب اس معاہدے کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک نہ صرف نئے ایٹمی ہتھیار بنانے بلکہ ان کی کھلے عام آزمائش اور تعیناتی میں بھی خود کو آزاد محسوس کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا یہ انتباہ کہ ایسے حالات میں عالمی امن اور سلامتی شدید خطرے میں ہے، محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

گزشتہ پچاس برسوں میں ایٹمی ہتھیاروں کی دنیا میں جو پیش رفت ہوئی ہے، وہ عام فہم تصور سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خوفناک ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے ایسے ہتھیار ممکن بنا دیے ہیں جو نہ صرف زیادہ طاقتور بلکہ زیادہ خاموش، زیادہ درست اور زیادہ تباہ کن ہیں۔ بہت سے تجربات اعلانیہ نہیں کیے گئے، بہت سی تحقیقات پردۂ راز میں رہیں اور بہت سی صلاحیتیں صرف اس لیے منظرعام پر نہیں آئیں کہ عالمی معاہدے کی پابندیاں موجود تھیں۔ اب جب یہ بندھن ٹوٹ چکا ہے تو اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ وہ سب کچھ جسے برسوں سے دبا کر رکھا گیا تھا، اچانک دنیا کے سامنے آ جائے گا۔

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے یوکرین کے تناظر میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی اس نئے دور کی ایک خطرناک علامت ہے۔ یہ محض ایک سیاسی دباؤ کا حربہ نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ ایٹمی ہتھیار اب دوبارہ عملی سیاست کا حصہ بننے لگے ہیں۔ دوسری جانب امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ ریمارکس بھی عالمی یادداشت میں محفوظ ہیں جن میں انہوں نے ایک ایسے ہتھیار کا ذکر کیا تھا جو پورے افغانستان کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ ایسے بیانات کو بعض حلقے محض مبالغہ یا سیاسی اندازِ گفتگو قرار دیتے ہیں، مگر ایٹمی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ الفاظ کبھی کبھی ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے میں ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب ایٹمی طاقتوں کی فہرست صرف امریکا اور روس تک محدود نہیں رہی۔ گزشتہ نصف صدی میں بھارت اور پاکستان جیسے ممالک بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا، جو پہلے ہی تاریخی تنازعات، سرحدی کشیدگی اور سیاسی عدم اعتماد کا شکار ہے، اب ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کا ایک حساس مرکز بن چکا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے نئے میزائل نظام، جدید ڈیلیوری میکنزم اور دفاعی حکمت عملیوں کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایٹمی توازن کا کھیل اب کہیں زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی ہوگیا ہے۔

مسئلہ صرف ہتھیاروں کی تعداد یا طاقت کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کو ایک قابلِ استعمال آپشن سمجھنے لگے۔ سرد جنگ کے دوران "ڈیٹرنس" یعنی باز deterrence کا تصور غالب تھا، جس کا مقصد دشمن کو خوف کے ذریعے روکنا تھا، نہ کہ واقعی تباہی پھیلانا۔ مگر موجودہ عالمی فضا میں یہ سرحد دھندلا رہی ہے۔ علاقائی تنازعات، قومی مفادات کی جارحانہ تشریحات اور عالمی اداروں کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت اس خطرے کو بڑھا رہی ہے کہ کہیں کوئی غلط اندازہ، کوئی تکنیکی خرابی یا کوئی سیاسی جنون دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان کی طرف نہ دھکیل دے۔

اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ نیا ایٹمی معاہدہ محض سابقہ معاہدوں کی توسیع نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے موجودہ زمینی حقائق، نئی ٹیکنالوجیز اور ابھرتی ہوئی ایٹمی طاقتوں کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا جانا چاہیے۔ اس میں شفافیت، تصدیق کے مؤثر نظام اور خلاف ورزی کی صورت میں واضح نتائج شامل ہونا ناگزیر ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایٹمی ہتھیاروں کو دوبارہ انسانی بقا کے تناظر میں دیکھا جائے، نہ کہ محض طاقت کے اظہار کے آلے کے طور پر۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کا بے لگام استعمال آخرکار تباہی پر منتج ہوتا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے میں یہ تباہی صرف کسی ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری انسانیت اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتونیو گوتریس کی آواز کو محض سفارتی شور سمجھ کر نظرانداز کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔ یہ آواز دراصل آنے والے کل کی چیخ ہے، جو آج ہم سے ہوش، تدبر اور اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا کر رہی ہے۔

اگر عالمی طاقتیں واقعی امن، استحکام اور انسانی ترقی کی خواہاں ہیں تو انہیں ایٹمی ہتھیاروں کے اس بے قابو سفر کو روکنا ہوگا۔ ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہ سوال پوچھے گی کہ جب تباہی کے آثار واضح تھے تو دنیا نے خاموشی کیوں اختیار کی اور شاید اس بار اس سوال کا جواب دینے والا کوئی باقی نہ بچے۔

Check Also

Bukhari Ko Imam Banane Wale Log

By Javed Chaudhry