Thursday, 09 April 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Askari Barbariat

Askari Barbariat

عسکری بربریت

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور ایران کے خلاف ان کی جارحانہ پالیسی نے عالمی منظرنامے میں ایک نہایت تشویشناک اور خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے، جس میں جنگی بربریت اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ امریکی صدر نے ایران کو "پتھر کے زمانے میں لوٹانے" کی دھمکی دی، جو محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک طویل المدت عسکری منصوبہ بندی اور بین الاقوامی قانون کے مکمل انکار کا عملی اظہار ہے۔ اس بیان سے یہ واضح ہوگیا کہ امریکہ اور اس کے حلیف، خاص طور پر صیہونی حکومت، ایران کے انفراسٹرکچر، بنیادی ڈھانچے اور شہری زندگی کو منظم اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی نیت رکھتے ہیں، تاکہ نہ صرف ایران پر سیاسی دباؤ ڈالا جا سکے بلکہ اس کی عسکری اور اقتصادی خودمختاری کو بھی محدود کیا جا سکے۔

تاریخی اور تہذیبی اعتبار سے ایران ایک ایسی قوم ہے جس نے صدیوں تک مختلف بحرانوں، جنگوں اور حملوں کا مقابلہ کیا ہے۔ تہذیبی تسلسل، عسکری خود انحصاری اور قومی یکجہتی وہ ستون ہیں جن پر یہ ملک قائم ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو ایران کو محض عسکری حملوں کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔ امریکہ کے دعوے کہ ایران کو پتھر کے زمانے میں واپس لوٹایا جا سکتا ہے، حقیقت میں ایک غیر حقیقی اور مبالغہ آمیز بیان ہے، کیونکہ ایران کی تاریخی بقا، اس کی مضبوط قومی شناخت اور عوامی بیداری اس طرح کی جارحیت کے اثرات کو محدود کر دیتی ہے۔

ٹرمپ کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس میں دھمکی آمیز زبان، فحش جملے اور متضاد مذہبی حوالہ جات جیسے "اللہ کی حمد" کی آمیزش نے ایک غیر معمولی اور خطرناک سفارتی منظرنامہ قائم کیا ہے۔ ایسے بیانات عالمی سطح پر جنگی قوانین، خاص طور پر جنیوا کنونشن کے پروٹوکولز کے تحت ممنوعہ حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق کسی بھی ملک یا قوم کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا، خاص طور پر وہ انفراسٹرکچر جو عام شہریوں کی بقا سے متعلق ہو، غیر قانونی اور اخلاقی اعتبار سے ناقابل قبول ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیان میں جس طرح بڑے اور وسیع پیمانے پر تباہی کا تذکرہ کیا گیا، اس سے نہ صرف ایران کی اقتصادی اور شہری زندگی کو نقصان پہنچانے کی نیت ظاہر ہوتی ہے بلکہ یہ ایک منصوبہ بند جنگی جرم کے مترادف بھی ہے۔

عسکری اور اسٹریٹجک نقطہ نظر سے، امریکہ کی یہ پالیسی تین درجوں کے اہداف پر مبنی ہے: سب سے اوپر ایران پر غلبہ، درمیانے درجے میں ملک کو ٹکڑوں میں بانٹنا اور نچلے درجے پر بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی۔ موجودہ صورتحال میں، ایران کی عسکری خود انحصاری اور قومی بیداری کی وجہ سے امریکی اہداف کا سب سے اوپر اور درمیانے درجے کا حصول ممکن نہیں ہوا اور جنگ زیادہ تر نچلے درجے کے ہدف یعنی انفراسٹرکچر کی نقصان دہ کارروائی تک محدود رہی۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ ایران کی تاریخ اور مضبوط قومی ادارے کسی بھی جارحیت کو مستحکم اور طویل المدت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتے، جس سے یہ منصوبہ ناکام ہونے کے لیے پہلے ہی مقدر ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیانات میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی دھمکی دی، جس میں ایران کو سنگین نتائج کے خطرے کے تناظر میں اس راستے کو کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ دھمکی خلیج فارس میں تیل کی عالمی ترسیل، عالمی مارکیٹ میں استحکام اور عالمی تجارت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف ایران بلکہ خطے کے دیگر ممالک، عالمی معاشی استحکام اور بین الاقوامی سیاسی تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ ایک بڑے پیمانے پر تباہی کے منصوبے کی عملی صورت میں دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اس سے بچاؤ کی حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔

عسکری ادبیات میں "پتھر کے زمانے میں واپس لوٹانا" سے مراد صرف انفراسٹرکچر کی تباہی نہیں بلکہ ایک قوم کے روزمرہ زندگی، توانائی، مواصلات، صحت اور تعلیم کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہ کوئی محض سیاسی بیان بازی یا تشہیری حربہ نہیں بلکہ ایک طویل المدت عسکری منصوبہ بندی ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ پل یا عمارتیں دوبارہ تعمیر کی جا سکتی ہیں، لیکن امریکہ کی عالمی ساکھ، اعتماد اور اخلاقی حیثیت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ناممکن ہوگا۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں اور قومی خودمختاری امریکی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایران نے نہ صرف اپنی دفاعی تیاری کو مضبوط کیا ہے بلکہ اپنے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے کے لیے بھی متعدد تدابیر اختیار کی ہیں۔ یہ اقدامات امریکی حملوں کے اثرات کو محدود کرتے ہیں اور ایران کی عسکری خودمختاری کو برقرار رکھتے ہیں۔ نتیجتاً، امریکہ کی دھمکی اور بیانات صرف نظریاتی اور سیاسی دباؤ کے لیے ہیں، جبکہ عملی نتائج میں ایران کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ناممکن ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال کے اثرات بھی نہایت سنگین ہیں۔ امریکہ کے اس رویے سے عالمی امن، بین الاقوامی تعلقات اور قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ عالمی طاقتوں کی خاموشی اور عدم مداخلت ایسے اقدامات کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہے، جس سے عالمی سطح پر امن اور انسانی حقوق کی پامالی کے رجحانات کو تقویت ملتی ہے۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی انتباہ ہیں کہ کس طرح طاقتور ممالک بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرکے اپنی ترجیحات اور مفادات کے حصول کے لیے جارحیت اختیار کر سکتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ صدر ٹرمپ کے بیانات ایران کے بنیادی ڈھانچے اور شہری زندگی کو نشانہ بنانے کے لیے ایک منصوبہ بند، بلاجواز اور غیر قانونی رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایران کی عسکری صلاحیت، قومی بیداری اور تاریخی وقار ایسے اقدامات کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہیں، جبکہ بین الاقوامی قوانین، جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کی رو سے یہ بیانات اور دھمکیاں واضح طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ صورتحال ایک سنگین انتباہ ہے کہ کس طرح طاقتور ممالک اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد کے حصول کے لیے غیر قانونی اقدامات کی راہ اختیار کر سکتے ہیں۔ ایران کی مضبوط قومی شناخت اور تاریخی بقا اس بات کی علامت ہے کہ ایک عظیم ملت کو بمباری اور جارحیت کے ذریعے نابود کرنا ممکن نہیں اور یہ امریکی منصوبے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

یہ کالم نہ صرف صدر ٹرمپ کے بیانات کا تجزیاتی جائزہ پیش کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور خطے کی عسکری و سیاسی حقیقتوں کے تناظر میں ایران کی پوزیشن کو بھی واضح کرتا ہے۔ ایران کی تاریخی قوت، عسکری استعداد اور قومی بیداری امریکی جارحیت کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے کافی ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طاقتور دھمکیوں اور جنگی جنایات کے باوجود ایک مضبوط قوم اپنی بقا اور خودمختاری برقرار رکھ سکتی ہے۔

Check Also

Shabash Pakistan

By Muhammad Riaz