امریکہ، وینزویلا اور سرمایہ کی سیاست

عالمی سیاست میں بعض واقعات بظاہر نظریات، جمہوریت یا انسانی حقوق کے نام پر وقوع پذیر ہوتے ہیں، مگر جب ان کی تہہ میں جھانکا جائے تو طاقت، سرمائے اور مفادات کی وہ کہانیاں سامنے آتی ہیں جو عالمی نظام کی اصل روح کو بے نقاب کر دیتی ہیں۔ وینزویلا میں حالیہ پیش رفت بھی کچھ ایسی ہی مثال ہے، جہاں ایک خود مختار ریاست کی سیاسی بے بسی، عالمی طاقت کی مداخلت اور کارپوریٹ سرمایہ داری ایک ایسے موڑ پر آ کر ملتی ہے جو جدید دنیا میں سیاست اور معیشت کے گٹھ جوڑ کو پوری شدت سے عیاں کر دیتا ہے۔
غیر ملکی جریدے فوربز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی وینزویلا میں براہ راست مداخلت کے نتیجے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ارب پتی سرمایہ کاروں کے لیے اربوں ڈالر کے منافع کے دروازے کھل گئے ہیں۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد جو سیاسی خلا پیدا ہوا، وہ محض اقتدار کی تبدیلی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ریاستی اثاثوں کو عالمی مالیاتی شکاریوں کے لیے ایک کھلا میدان بنا دیا۔ اس تمام عمل کا سب سے نمایاں اور فائدہ اٹھانے والا کردار پال سنگر اور اس کے زیر اثر سرمایہ کاری نیٹ ورکس کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پال سنگر، جو ہیج فنڈز کی دنیا کا ایک طاقتور اور متنازع نام سمجھا جاتا ہے، طویل عرصے سے ان ممالک کے سرکاری اثاثوں پر نظریں جمائے بیٹھا رہا ہے جو معاشی کمزوری یا سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوں۔ وینزویلا کا معاملہ اس کے لیے ایک سنہری موقع بن کر ابھرا۔ فوربز کے مطابق سنگر کی حمایت یافتہ کمپنی امبر انرجی نے وینزویلا کی سرکاری آئل کمپنی سِٹگو کو محض 5.9 ارب ڈالر میں خریدنے کا حق حاصل کر لیا، حالانکہ ماہرین کے نزدیک اس اثاثے کی اصل مارکیٹ ویلیو اس سے کہیں زیادہ ہے اور مستقبل قریب میں اس کی مالیت 13 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ محض ایک کاروباری سودا نہیں بلکہ طاقت کے توازن میں واضح عدم مساوات کی علامت ہے۔ سِٹگو، جو امریکہ میں واقع وینزویلا کی سب سے قیمتی اسٹریٹجک ملکیت تھی، تین بڑی ریفائنریوں اور تقریباً چار ہزار پیٹرول اسٹیشنز کے وسیع نیٹ ورک پر مشتمل ہے۔ اس ادارے کی فروخت دراصل وینزویلا کے توانائی کے ڈھانچے پر آخری کاری ضرب سمجھی جا رہی ہے۔ وہ ملک جو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھتا ہے، آج اپنے ہی اثاثوں سے محروم ہو کر عالمی سرمایہ داری کے رحم و کرم پر کھڑا نظر آتا ہے۔
اس معاہدے میں صرف پال سنگر ہی شامل نہیں بلکہ وال اسٹریٹ کے کئی بڑے مالیاتی ادارے بھی اس کھیل کا حصہ ہیں۔ اوکٹری کیپٹل مینجمنٹ، سلور پوائنٹ کیپٹل اور دیگر معروف ہیج فنڈز، جن کی قیادت تجربہ کار ارب پتی سرمایہ کار کر رہے ہیں، اس سودے میں شریک ہیں۔ مزید برآں، مارک روان کی سربراہی میں اپالو گلوبل مینجمنٹ نے اس ڈیل کے لیے اربوں ڈالر کی فنانسنگ فراہم کی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ معاملہ انفرادی مفاد سے بڑھ کر ایک منظم مالیاتی یلغار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
دلچسپ اور بیک وقت تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سِٹگو کی فروخت سے حاصل ہونے والی پوری رقم وینزویلا کے خزانے میں جانے کے بجائے مختلف بین الاقوامی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے پرانے قانونی دعوؤں کی ادائیگی میں استعمال ہوگی۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا کو اس سودے سے ایک ڈالر بھی حاصل نہیں ہوگا۔ یوں ایک خود مختار ریاست کا قومی اثاثہ نیلام ہو رہا ہے، مگر اس کے عوام کو اس کا کوئی معاشی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ یہ صورتحال اس عالمی نظام پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے جو کمزور ممالک کو قرضوں، پابندیوں اور قانونی جال میں جکڑ کر ان کے وسائل پر قبضے کو "قانونی عمل" کا نام دیتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے وینزویلا میں سیاسی مداخلت کو جمہوریت کی بحالی یا انسانی حقوق کے تحفظ سے جوڑا جاتا رہا ہے، مگر فوربز کی رپورٹ اس بیانیے کے پیچھے چھپے معاشی محرکات کو بے نقاب کرتی ہے۔ جب اقتدار کی تبدیلی کے فوراً بعد ارب پتی سرمایہ کاروں کو ایسے معاہدے میسر آ جائیں جو مارکیٹ ویلیو سے کہیں کم قیمت پر ہوں، تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اصل فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔ کیا یہ سب کچھ وینزویلا کے عوام کے لیے ہے یا پھر عالمی مالیاتی اشرافیہ کے لیے؟
یہ معاملہ محض وینزویلا تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک سبق اور وارننگ بھی ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال مگر سیاسی طور پر غیر مستحکم ریاستیں ہمیشہ عالمی طاقتوں اور مالیاتی اداروں کے نشانے پر رہی ہیں۔ کہیں قرضوں کے ذریعے، کہیں پابندیوں کے ذریعے اور کہیں براہ راست سیاسی مداخلت کے ذریعے ان ممالک کو اس مقام پر لا کھڑا کیا جاتا ہے جہاں ان کے پاس اپنے اثاثے بیچنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
سِٹگو کی فروخت دراصل جدید نوآبادیاتی نظام کی ایک عملی شکل ہے، جہاں فوجی قبضے کے بجائے مالی معاہدے، قانونی چارہ جوئی اور سرمایہ کاری کے نام پر وسائل پر قبضہ کیا جاتا ہے۔ اس نظام میں بندوق کی جگہ معاہدہ، توپ کی جگہ بینک اور سپاہی کی جگہ وکیل آ جاتا ہے، مگر نتیجہ وہی رہتا ہے: کمزور کی کمزوری اور طاقتور کی طاقت میں اضافہ۔
بالآخر یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ عالمی انصاف کا معیار کیا ہے؟ اگر ایک ملک کے عوام اپنی غربت، پابندیوں اور سیاسی بحران کی قیمت اپنے قومی اثاثے گنوا کر ادا کریں اور دوسری جانب چند ارب پتی سرمایہ کار اربوں ڈالر کے منافع سمیٹ لیں تو اسے کس نام سے پکارا جائے؟ وینزویلا کا معاملہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا بین الاقوامی نظام واقعی مساوات اور انصاف پر قائم ہے یا پھر یہ طاقتور کے لیے مواقع اور کمزور کے لیے آزمائشوں کا میدان بن چکا ہے۔
فوربز کی یہ رپورٹ محض ایک معاشی خبر نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے، جس میں عالمی سیاست، سرمایہ داری اور طاقت کے حقیقی چہرے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پال سنگر نے کتنا منافع کمایا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا کے کمزور ممالک کب تک اس کھیل کا ایندھن بنتے رہیں گے اور عالمی ضمیر کب جاگے گا کہ ریاستی خود مختاری محض ایک نعرہ نہیں بلکہ انسانوں کے مستقبل سے جڑا ایک بنیادی حق ہے۔

