Tuesday, 03 February 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Aalmi Muashi Adam Istehkam Ka Barhta Hua Khatra

Aalmi Muashi Adam Istehkam Ka Barhta Hua Khatra

عالمی معاشی عدم استحکام کا بڑھتا ہوا خطرہ

عالمی معیشت اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں خوشحال کہلانے والی ریاستیں خود اپنے ہی پیدا کردہ مالی بوجھ کے نیچے دبتی چلی جا رہی ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جاپان جیسے ممالک، جنہیں دہائیوں تک مالی نظم، صنعتی قوت اور پالیسی سازی کا استعارہ سمجھا جاتا رہا، آج سرکاری قرض کے ایسے پہاڑ تلے آ چکے ہیں جو نہ صرف ان کی داخلی معاشی سلامتی بلکہ پوری عالمی اقتصادی ساخت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔ نیویارک ٹائمز سمیت عالمی معاشی مبصرین اس امر پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ریکارڈ سطح تک پہنچنے والا یہ قرض اب محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی ترقی کی رفتار، سرمایہ کاری کے رجحانات اور مالی استحکام کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کر رہا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں ترقی یافتہ معیشتوں نے جس بے دریغ انداز میں قرض پر انحصار کیا، اس کی جڑیں عالمی مالیاتی بحران، وبائی حالات، جنگی اخراجات اور سماجی فلاحی وعدوں میں پیوست ہیں۔ امریکا میں حکومتی قرض قومی پیداوار کے مقابلے میں ایسی سطح تک جا پہنچا ہے جس کا تصور کبھی صرف معاشی تھیوری کی کتابوں تک محدود تھا۔ برطانیہ میں بجٹ خسارہ اور قرض کا باہمی رشتہ ریاستی مالیاتی خودمختاری پر سوالیہ نشان بن چکا ہے، جبکہ فرانس اور اٹلی جیسے ممالک میں قرض اور کمزور معاشی نمو کا امتزاج مستقبل کے لیے مزید خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ جاپان، جو پہلے ہی دنیا کے سب سے زیادہ مقروض ممالک میں شمار ہوتا ہے، اب بڑھتی عمر کی آبادی اور محدود معاشی وسعت کے باعث قرض کے بوجھ سے نکلنے میں مزید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

قرض کا یہ بحران اس لیے بھی خطرناک ہے کہ اب عالمی مالیاتی ماحول اس کے لیے سازگار نہیں رہا۔ ماضی میں کم شرحِ سود نے حکومتوں کو یہ سہولت فراہم کی کہ وہ سستے قرض کے ذریعے اپنے بجٹ خسارے کو وقتی طور پر قابو میں رکھ سکیں، مگر اب بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ نے مرکزی بینکوں کو شرحِ سود میں نمایاں اضافہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نتیجتاً قرض پر ادا ہونے والا سود خود ایک الگ اور بھاری حکومتی خرچ بن چکا ہے۔ کئی ممالک میں سود کی ادائیگی دفاع، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہونے لگی ہے، جو ایک تشویشناک علامت ہے۔

یہ صورتحال ترقیاتی اور سماجی منصوبوں کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ جب ریاست کا بڑا حصہ قرض کی واپسی اور سود کی ادائیگی میں صرف ہو جائے تو بنیادی ڈھانچے، تحقیق، انسانی ترقی اور سماجی تحفظ کے منصوبے یا تو محدود کر دیے جاتے ہیں یا مکمل طور پر مؤخر ہو جاتے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑتا ہے، جہاں صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع سکڑنے لگتے ہیں۔ یوں معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کی خلیج گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔

بڑھتی ہوئی شرحِ سود اور قرض کے بوجھ کا ایک اور سنگین پہلو مہنگائی کا وہ دباؤ ہے جو بالواسطہ طور پر عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔ جب بڑی معیشتیں مالیاتی سختی اختیار کرتی ہیں تو عالمی منڈیوں میں سرمایہ کی نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے، ترقی پذیر ممالک سے سرمایہ نکلنے لگتا ہے اور ان کی کرنسیوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ نتیجتاً مہنگائی ایک عالمی مسئلہ بن جاتی ہے، جس کی قیمت سب سے زیادہ وہ معاشرے ادا کرتے ہیں جو پہلے ہی کمزور معاشی بنیادوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ یوں امیر ممالک کا مالی بحران غریب اور ترقی پذیر دنیا کے لیے بھی ایک نیا امتحان بن کر سامنے آتا ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ قرض بحران دراصل پالیسی ترجیحات کی ایک طویل تاریخ کا نتیجہ ہے۔ کئی ترقی یافتہ ریاستوں نے سیاسی مقبولیت کے حصول کے لیے طویل المدتی مالی نظم کو نظرانداز کیا، فلاحی وعدوں کو پائیدار آمدن کے بغیر وسعت دی اور عسکری و اسٹریٹجک مداخلتوں پر ایسے اخراجات کیے جن کے معاشی فوائد واضح نہ تھے۔ آج وہی فیصلے قرض کی صورت میں ایک اجتماعی بوجھ بن کر ابھر رہے ہیں، جس سے نکلنے کے لیے محض عارضی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔

عالمی سطح پر اس بحران کا حل صرف اخراجات میں کٹوتی یا ٹیکسوں میں اضافے تک محدود نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ایک جامع مالیاتی اور معاشی حکمتِ عملی درکار ہے جس میں پائیدار ترقی، منصفانہ ٹیکس نظام، غیر ضروری عسکری اخراجات میں کمی اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ ساتھ ہی عالمی مالیاتی اداروں کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی تاکہ قرض کا بوجھ ایک منصفانہ اور متوازن طریقے سے سنبھالا جا سکے۔

آخرکار یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اگر دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں اپنے قرض کے بحران کو سنجیدگی سے حل کرنے میں ناکام رہیں تو اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی کی رفتار سب متاثر ہوگی اور ایک ایسا مالیاتی عدم استحکام جنم لے سکتا ہے جو گزشتہ بحرانوں سے بھی زیادہ گہرا اور طویل ثابت ہو۔ اس تناظر میں امیر ممالک کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ قلیل مدتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایسی معاشی سمت کا تعین کریں جو نہ صرف ان کے اپنے شہریوں بلکہ پوری دنیا کے لیے استحکام اور ترقی کی ضمانت بن سکے۔

Check Also

Balochistan Dehshatgardi, Ghair Mulki Hath Ya Ehsas e Mehroomi?

By Nusrat Javed