سوشل میڈیا کا جن

گزشتہ ہفتے مجھے اقوام متحدہ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں قائم یو این او چا (UNOCHA) کے زیر اہتمام ہونے والے آن لائن مذاکرے میں بطور صدر نشست شریک ہونے کا موقع ملا جس میں قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں سوشل میڈیا کے کردار کو موضوع بحث بنایا گیا تھا۔
دراصل یو این او چا جنیوا اور نیویارک میں قائم کردہ اپنے مراکز کے علاوہ ساٹھ سے زائد ممالک میں چوبیس سو سے زیادہ سٹاف کے ساتھ موجود ہے جس کا بنیادی مقصد ہنگامی حالات سے متاثرہ افراد کی امداد کو یقینی بنانا ہے اور اس ضمن میں قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مربوط اور منظم روابط استوار کرکے متاثرہ علاقوں میں بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے۔
یہ ادارہ ہر سال اپنے بین الاقوامی شراکت دار اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر جنیوا میں ایک ہفتہ پر مبنی مختلف سیمینارز اور مذاکراے منعقد کرواتا ہے جس میں دنیا بھر سے پارٹنر تنظیموں اور اداروں کے علاوہ تعلیم و تحقیق سے وابستہ ماہرین کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔
ہنگامی حالات میں انسانی امداد اور اس سے متعلقہ مختلف امور پر سیر حاصل گفتگو کی جاتی ہے جس میں آئندہ کے لئے موثر ترین لائحہ عمل اپنانے کے لئے سفارشات بھی پیش کی جاتی ہیں۔ چونکہ میری پی ایچ ڈی میں ریسرچ کا بنیادی موضوع لیڈرشپ اور کرائسس کمیونیکشن ہے لہذا یو این او چا کا منشور اور اس کے مقاصد کا میری تحقیق کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ یو این او چا کی سالانہ تقریب میں شرکت کے لئے مجھے اوائڈ ایبل ڈیتھس نیٹ ورک (اے ڈی این) جو کہ یونیورسٹی آف لیسٹر اور جاپان کی کنسائی یونیورسٹی کا مشترکہ فورم ہے، نے منتخب کیا۔
اس ضمن میں گزشتہ دسمبر میں مجھے باقاعدہ ایک مذاکرے کو ترتیب دے کر اس کی افادیت پر مشتمل ایک پروپوزل جمع کروانے کا کہا گیا تھا جس کی یو این او چا سے منظوری کے بعد ہی میری شرکت ممکن ہو سکتی تھی۔ خوش قسمتی سے میری طرف سے تجویز کردہ مذاکرہ منظور کر لیا گیا جس کا موضوع تھا کرائسس کمیونیکشن میں سوشل میڈیا کا کردار۔ لہذا جنوری کے اوائل میں مجھے اس کے انعقاد کی تاریخ اور وقت کے متعلق مطلع کر دیاگیا جو 21 مارچ دو بجے دن مقرر ہو چکا تھا۔
لگ بھگ چھ ہفتے قبل میں نے اے ڈی این کی بانی صدر ڈاکٹر نبی ڈٹا ری بینٹ جو یونیورسٹی آف لیسٹر میں پروفیسر بھی ہیں، کے ساتھ مل ایک گھنٹے پر مشتمل اس مذاکرے کی عملی تیاریاں شروع کردیں۔ حتمی پروگرام میں مجھ سمیت تین مقررین کی گفتگو کے علاوہ سامعین کے سوالات اور جوابات کے لئے بھی وقت مختص کیا گیا۔
دوسری طرف یو این او چا نے اپنی ویب سائٹ پر سالانہ ہفت روزہ تقریبات اور اس ضمن میں منعقد ہونے والے مختلف مذاکروں میں شرکت کرنے والے سامعین کے لئے آن لائن رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا۔ چنانچہ طے شدہ پروگرام کے تحت گزشتہ جمعے کے روز برطانیہ کے وقت دو بجے مذاکرہ شروع ہوا جس میں ڈاکٹر نبی ڈٹا نے تمام شرکاء اور دنیا بھر سے شریک سامعین کو خوش آمدید کہا اور اے ڈی این کے قیام کے مقاصد اور یو این او چا کے ساتھ اپنی شراکت داری کا مختصر تعارف کروایا۔ اس کے بعد پروگرام کی صدارت راقم الحروف کے سپرد کر دی گئی۔ سب سے پہلے ڈاکٹر اطہر منصور کو خطاب کی دعوت دی گئی جو بنیادی طور پر پاکستان کی سول سروس سے وابستہ ہیں مگر آجکل برطانیہ کی نامور کیمرج یونیورسٹی کے ساتھ منسلک ہیں۔
ڈاکٹر اطہر نے ہنگامی حالات میں سوشل میڈیا کے کردار پر بھرپور روشنی ڈالی اور فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن کے باعث درپیش مسائل کا خوب احاطہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ سوشل میڈیا کے منفی اثرات عیاں ہیں مگر کرائسس کمیونیکشن میں اس کا موثر استعمال ہنگامی حالات سے نمٹنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر منصور کے بعد راقم نے اپنی گفتگو میں اس امر پر زور دیا کہ سوشل میڈیا دراصل سٹیزن میڈیا کے طور پر سامنے آیا ہے جس میں ہر شہر ی سمارٹ فون کے ذریعے اک صحافی بن چکا ہے جس کے لئے نہ کوئی تعلیمی معیار مقرر ہے اور نہ ہی کسی ادارے سے تربیت حاصل کرنا لازم ہے۔
مذاکرے کے تیسرے اور آخری مقرر جاپان کی کنسائی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اے ڈی این کے کو فائونڈر اور صدر ڈاکٹر ہائیڈی یوکی تھے جنہوں نے جاپان میں آنے والے زلزلوں اور دیگر پبلک ایمرجنسی حالات میں سوشل میڈیا کے کردار پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے قیادت کی سطح پر سوشل میڈیا کے موثر استعمال کے ساتھ ساتھ اس پر پھیلائی گئی بے بنیاد خبروں سے شہریوں کو آگاہ کرنے کے لئے اک مربوط مہم کی ضرورت پر زور دیا۔
مذاکرے کے آخری مرحلے میں سامعین کے سوالات اور ان کے جوابات کا آغاز ہوا جن میں کئی دلچسپ پہلو اجاگر کیے گئے۔ نائجیریا سے شریک مسٹر گاڈون نے 2014 میں ایبولا وائرس کی وبا کے دوران سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ڈس انفارمیشن کی مثال پیش کی جس نے چند گھنٹوں میں نائجیریا جیسے بڑے ملک کو اپنے حصار میں جکڑ لیا۔ نتیجے میں لوگوں نے اس موذی وبا سے بچاؤ کے لئے ایک غیر مصدقہ طریقہ علاج کے طور پر نمک کو پانی میں گھول کر پینا شروع کردیا اور یوں معدے کے امراض میں مبتلا ہو گئے۔
مزید گفتگو کے دوران 2019 کے کرونا وائرس کی تباہ کاری کے دوران سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی بے بنیاد معلومات اور ہیجان انگیز جھوٹی خبروں کے حوالے بھی دیے گئے۔ اپنے اختتامی کلمات میں راقم الحروف نے ہنگامی حالات میں سوشل میڈیا کے مثبت اور موثر استعمال کے لئے قانونی اقدامات کے ساتھ ساتھ اداروں کے اندر مضبوط اور مستحکم کمیونیکشن کے پائیدار نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو شہریوں کو بروقت آگاہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور جس کی درست اور ناقابل تردید معلومات فیک نیوز کے پھیلاؤ کا راستہ روک سکیں۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا سوشل میڈیا کا جن بوتل میں دوبارہ بند کیا جا سکے گا۔