Friday, 30 January 2026
  1.  Home
  2. Amir Khakwani
  3. Bharat Europen Union Deal Pakistan Par Kya Asar Daale Gi?

Bharat Europen Union Deal Pakistan Par Kya Asar Daale Gi?

بھارت یورپی یونین ڈیل پاکستان پر کیا اثر ڈالے گی؟

بھارت یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ جسے مدر آف آل ڈیلز کا نام دیا گیا ہے، اس نے پورے ریجن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں بھی اس پر سوچا اور غوروفکر کیا جا رہا ہے۔ کاروباری حلقے پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ جیسے اپٹما کے سابق سربراہ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان کی یورپی یونین کو ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں، اس لئے حکومت اس حوالے سے کچھ کرے۔

البتہ محسوس یہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فیصلہ ساز اس پر پریشان نہیں۔ پاکستان اب امریکہ کے ساتھ چلنے اور کئی حوالوں سے مل کر آگے بڑھنے کا طے کر چکا ہے۔ پاکستان کے نزدیک یورپ کی نسبت امریکہ زیادہ اہم ہے اور اسلام آباد میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اس نئے منظرنامے سے کس طرح اپنے لئے مواقع نکالے جا سکتے ہیں؟

بعض حقیقت پسند پاکستانی کاروباری حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری اتنی بڑی ڈیل کی کیپسیٹی ہی نہیں۔ انڈیا کی ایسی کیپیسٹی ہے، وہ ڈیل کر سکتا ہے، کر لے۔ ہمیں تو اپنے حساب سے، اپنے سائز، اپنے لئے مواقع کے اعتبار سے دیکھنا اور پلان بنانا ہے۔ پاک امریکہ تعلقات کی نئی جہت پاکستانی اس پر خوش ہیں کہ امریکہ اس بار پاک چین تعلقات یا سی پیک ٹو کو روکنے کی بات نہیں کر رہا۔ امریکہ اور پاکستان دونوں تعلقات کے اس نئے فیز میں بہت پریکٹیکل اور پریگمیٹک اپروچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کو چین کی گود میں نہ بٹھا دے اور اس کے لئے چین کے علاوہ دیگر آپشنز بھی پیدا کرے۔ ریکوڈیک کی فنانسنگ میں بھی امریکیوں نے مدد کی ہے۔

دوسری طرف پاکستان چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کے باوجود امریکہ کو انوالو رکھنا چاہتا ہے، وہ امریکہ کی اس ریجن اور پاکستان میں دلچسپی بنائے رکھنے کا خواہشمند ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان اپنے رئیر ارتھ منرلز وغیرہ کے لئے امریکیوں کو اٹریکٹ کر رہے ہیں۔ پاکستان صدر ٹرمپ کی وجہ سے ہی غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہوا۔ مدر آف آل ڈیل سے پاکستان کے لئے کیا چیلنج پیدا ہوا؟ یورپی یونین پاکستان کا دوسرا بڑا ایکسپورٹ پارٹنر ہے۔

پاکستان کی یورپی یونین (EU) کو برآمدات کا حجم تقریباً 9 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ پاکستان کی کل عالمی برآمدات کا تقریباً 28% حصہ اکیلے یورپی یونین کو جاتا ہے۔ پاکستان کی یورپی یونین کو ہونے والی ٹوٹل ایکسپورٹ کا تقریباً 75% سے 76% حصہ صرف ملبوسات، بیڈ لینن، تولیے اور ریڈی میڈ گارمنٹس پر مشتمل ہے۔ دیگر اشیاء میں چمڑے کی مصنوعات، سرجیکل آلات، چاول اور کھیلوں کا سامان (فٹ بال وغیرہ) شامل ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یورپی یونین میں پاکستان کی جو پراڈکٹ ایکسپورٹ ہوتی ہیںِ ، کم وبیش وہی انڈین ایکسپورٹ پراڈکٹس بھی ہیں۔ پہلے ان پر دس بارہ فیصد ٹیرف تھا۔ پاکستانی مال پر ٹیرف زیرو تھا۔ فطری طور پر پاکستانی مصنوعات کچھ سستی تھیں۔ اب جب انڈین پراڈکٹس پر زیرو ٹیکس ہوگا تو ان کی قیمت بھی کم ہوجائیگی۔ انڈیا کو اپنی لارج سکیل مینو فیکچرنگ اور سستی لیبر کا ایڈوانٹیج بھی ہے۔ یوں آنے والے مالی سال میں پاکستان کی یورپی یونین کو ایکسپورٹس پانچ سے دس یا پندرہ فیصد تک متاثر ہوسکتی ہیں۔

کونسی پاکستانی ایکسپورٹس متاثر ہوں گی؟ 1۔ ہوم ٹیکسٹائل۔ سب سے زیادہ خطرہ پاکستانی ٹیکسٹائل کو ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت اس شعبے میں بہت مضبوط ہے اور اس کی کاٹن کی کوالٹی بہترین مانی جاتی ہے۔ 2۔ ریڈی میڈ گارمنٹس۔ پاکستان کے ڈینم اور نِٹ ویئر کا یورپ میں بڑا نام ہے، لیکن بھارت کی 'گارمنٹ انڈسٹری' کا حجم اور تنوع پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لئے یہ خدشہ ہے کہ بعض بڑے یورپی برانڈ جیسے ایچ اینڈ ایم اور زارا وغیرہ جو پاکستان سے مال اٹھاتے تھے، اب بھارت سے سستی اور زیادہ ورائٹی والی مصنوعات کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ 3۔ چمڑے کی مصنوعات پاکستان کے دستانے اور چمڑے کے لباس یورپی منڈی میں مقبول ہیں۔ اب بھارتی لیدر گڈز کو زیرو ٹیرف مل جانے سے مقابلہ سخت ہوجائے گا کیونکہ بھارت نے حالیہ برسوں کے دوران اپنی لیدر انڈسٹری میں جدید ٹیکنالوجی پر بہت کام کیا ہے۔

کن شعبوں میں پاکستان مضبوط ہے؟ ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس اب بھی کچھ ایسے شعبے ہیں جہاں بھارت کا اثر کم ہے جیسے باسمتی چاول۔ پاکستان کا باسمتی چاول اپنے ذائقے اور خوشبو کی وجہ سے یورپ میں الگ پہچان رکھتا ہے۔ اسی طرح سیالکوٹ کے سرجیکل آلات کا معیار اور قیمت فی الحال بھارت کے لیے چیلنج کرنا مشکل ہے۔ جبکہ فٹ بال اور کھیلوں کے سامان میں بھی پاکستان کی برتری ہے۔

جی ایس پی پلس سٹیٹس ہی فیصلہ کن امر پاکستان کی یہ کوشش اور ترجیح ہوگی کہ وہ یورپی یونین کی منڈی کو ہاتھ سے جانے نہ دے، اس کیلئے جی ایس پی پلس سٹیٹس ہر حال میں برقرار رکھنا ہوگا۔ پرابلم یہ ہے کہ جی ایس پی پلس ایک یک طرفہ معاہدہ ہے جو کسی بھی وقت منسوخ ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کی مدت 2023 میں ختم ہو رہی تھی، لیکن یورپی کمیشن نے اسے 2027 تک بڑھا دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگلے دو سال تک ہمارے پاس یہ رعایت موجود ہے۔ تاہم یہ رعایت مفت نہیں ملتی۔ پاکستان کو 27 بین الاقوامی کنونشنز (انسانی حقوق، لیبر حقوق، ماحولیات اور گڈ گورننس) پر عمل درآمد کی رپورٹ دینی ہوتی ہے۔ اگر پاکستان ان ستائیس کنونشنز پر عمل درآمد میں سستی یا کوتاہی دکھاتا ہے، تو یورپی یونین کے پاس اب بھارت کی صورت میں ایک ایسا تجارتی پارٹنر موجود ہے جو ان کی منڈی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔

پاکستان کے پاس متبادل آپشنز کیا ہیں؟ یورپ میں بھارت کے بڑھتے ہوئے قدموں کے بعد اب پاکستان کے لیے امریکہ اور چین کی منڈیوں کی اہمیت دوگنی ہوگئی ہے۔ امریکہ میں پاکستانی ٹیکسٹائل (خاص طور پر ڈینم اور تولیے) کی بہت مانگ ہے۔ اگر پاکستان وہاں اپنی مارکیٹ کو مزید 2 سے 3 ارب ڈالر تک بڑھا لے تو یورپی یونین کے ممکنہ نقصان کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان خلیجی ممالک میں نئی منڈیاں ڈھونڈنا چاہتا ہے اور اس مقصدکے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر غوروفکر جاری ہے تاکہ پاکستان کی خوراک اور لائیوسٹاک کی برآمدات بڑھ سکیں۔

چین میں موجود پوٹینشل: چین کی مارکیٹ بہت زیادہ مسابقتی ہے اور وہاں کوالٹی کے معیار بہت سخت ہیں تاہم چین اب اپنی معیشت کو مینوفیکچرنگ سے سروسز کی طرف منتقل کر رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اب کپڑے اور سستی مصنوعات خود بنانے کے بجائے باہر سے منگوائے گا۔ پاکستان کے پاس چاول، سمندری خوراک (Seafood) اور تانبے (Copper) کی برآمدات بڑھانے کا بڑا موقع ہے۔ پاکستان چیری اور خشک کھجور بھی ایکسپورٹ کرنا چاہ رہا۔ اگر سی پیک کا دوسرا مرحلہ کامیاب ہو جاتا ہے تو پاکستان کا چین پر انحصار صرف قرضوں تک نہیں رہے گا بلکہ وہاں سے ڈالر کمائے جا سکیں گے۔

Check Also

Lahore Ki Do Azla Mein Taqseem

By Noorul Ain Muhammad