Friday, 27 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Do Tok Aur Ba Waqar

Do Tok Aur Ba Waqar

دوٹوک اور باوقار

پاکستان کی عسکری تاریخ میں بعض نام شور و غوغا کے بغیر اپنی جگہ بناتے ہیں۔ وہ نہ تو اپنی ذات کی تشہیر کرتے ہیں، نہ ہی تاریخ کے صفحات پر خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وقت خود ان کے گرد ایک حلقۂ وقار کھینچ دیتا ہے۔ عبدالوحید کاکڑ بھی ایسا ہی ایک نام ہے۔ 1984 میں جب انہیں کوئٹہ میں 16ویں انفنٹری ڈویژن کی کمان بطور جنرل آفیسر کمانڈنگ سونپی گئی تو شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ یہی افسر آنے والے برسوں میں پاکستان کی آئینی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔

1987 تا 1989 وہ ایڈجوٹنٹ جنرل کے منصب پر آرمی جی ایچ کیو میں فائز رہے۔ انہی دنوں ایک واقعہ پیش آیا جس نے ان کے کردار کی اصل بنیاد واضح کر دی۔ صدرِ مملکت محمد ضیاءالحق کی براہِ راست ہدایت کے باوجود انہوں نے تین طلبہ کو آرمی میڈیکل کالج میں داخلہ دینے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ کم از کم معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ طاقت کے ایوانوں میں انکار کی گونج اکثر سنائی نہیں دیتی، مگر یہ انکار محض انتظامی فیصلہ نہیں تھا، یہ اصول کی پاسداری تھی۔ بعد ازاں نشستوں کی تعداد بڑھا دی گئی، مگر کاکڑ صاحب نے معیار کی لکیر کو نہیں بدلا۔ 1989 میں انہیں کوئٹہ ہی میں XII کور کی کمان سونپی گئی اور وہ ایک میدان کار افسر کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کرتے چلے گئے۔

1993 کا موسمِ گرما پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ہنگامہ خیز باب تھا۔ وزارتِ دفاع نے ریٹائر ہونے والے جرنیلوں کی فہرست جاری کی جس میں لیفٹیننٹ جنرل کاکڑ کا نام بھی شامل تھا۔ وہ ریٹائرمنٹ کے خواہاں تھے، مگر تاریخ نے ان کے لیے کچھ اور لکھ رکھا تھا۔ صدرغلام اسحاق خان نے وزیر اعظم نواز شریف سے مشاورت کے بغیر نسبتاً جونیئر لیفٹیننٹ جنرل کاکڑ کو چار ستارہ عہدے پر ترقی دے کر چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا۔ یہ تقرری غیر معمولی تھی کیونکہ انہوں نے چھ سینئر جرنیلوں کو سپرسیڈ کیا، جن میں چیف آف جنرل اسٹاف، ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر اہم عہدوں پر فائز افسران شامل تھے۔

عسکری روایت میں سینیارٹی ایک حساس مسئلہ ہوتا ہے اور جب اسے نظر انداز کیا جائے تو ادارے کے اندر اضطراب پیدا ہونا فطری ہے۔ مگر دلچسپ امر یہ تھا کہ نظر انداز کیے جانے والے بعض افسران نے اپنے عہدوں پر کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، گویا ادارے کی سالمیت کو ذاتی ترجیحات پر فوقیت دی گئی۔ اس تقرری پر ایک رکنِ قومی اسمبلی کا یہ جملہ زبان زدِ عام ہوا کہ "پختونوں کا دور شروع ہوگیا ہے"۔ یہ بیان اپنی جگہ، مگر کاکڑ صاحب نے خود کو کسی نسلی یا علاقائی شناخت تک محدود نہیں ہونے دیا، ان کی شناخت پیشہ ورانہ دیانت اور آئینی شعور بن کر ابھری۔

بطور سربراہِ پاک فوج، پاک فوج کی قیادت سنبھالتے ہی ان کے سامنے ایک آئینی بحران کھڑا تھا۔ صدر اور وزیر اعظم کے درمیان کشمکش ملک کو سیاسی تصادم کی طرف لے جا رہی تھی۔ توقع یہ تھی کہ فوج اقتدار سنبھال لے گی، جیسا کہ ماضی میں ہو چکا تھا، مگر کاکڑ صاحب نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے پہلے صدر غلام اسحاق خان اور پھر وزیر اعظم نواز شریف سے استعفیٰ لے کر ایک ایسی فضا پیدا کی جس میں نئے انتخابات ممکن ہو سکے۔ یہ وہ لمحہ تھا جسے بعد ازاں "کاکڑ ماڈل" کہا گیا۔ اس عمل کے نتیجے میں عام انتخابات ہوئے اور بینظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی۔ اس پورے مرحلے میں فوج نے براہِ راست اقتدار نہیں سنبھالا بلکہ ایک عبوری انتظام کے ذریعے آئینی تسلسل کو برقرار رکھا گیا۔ یہ قدم اپنی نوعیت میں منفرد تھا کیونکہ اس نے طاقت کے بجائے توازن کو ترجیح دی۔ اسی دور میں شاہین میزائل منصوبے کے لیے حکومتی فنڈنگ کے حصول میں بھی انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا، جو دفاعی خود انحصاری کی سمت ایک اہم قدم تھا۔

1995 میں ایک اور آزمائش سامنے آئی۔ ایک گروہ نے، جس کی قیادت میجر جنرل ظاہرالاسلام عباسی کر رہے تھے اور جس کے روابط ایک شدت پسند تنظیم سے تھے، حکومت اور فوجی قیادت کے خلاف سازش تیار کی۔ منصوبہ یہ تھا کہ آرمی چیف اور وزیر اعظم کو قتل کرکے اقتدار پر قبضہ کیا جائے۔ ملٹری انٹیلی جنس اور ملٹری پولیس نے بروقت کارروائی کرکے اس سازش کو ناکام بنایا۔ اس واقعے نے واضح کیا کہ کاکڑ صاحب کے نزدیک جمہوری عمل کا تحفظ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عملی ترجیح تھا۔ 1996 میں انہوں نے اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع لینے سے انکار کر دیا اور خاموشی سے ریٹائر ہو گئے۔ نہ کوئی پریس کانفرنس، نہ یادداشتوں کی اشاعت، نہ سیاسی میدان میں واپسی۔ وہ راولپنڈی میں گوشہ نشین ہو کر رہنے لگے۔ اقتدار کے ایوانوں سے نکل کر خاموشی اختیار کرنا شاید سب سے مشکل امتحان ہوتا ہے اور وہ اس میں بھی کامیاب ٹھہرے۔

ان کی شخصیت کے بارے میں ہم عصر افراد نے انہیں مضبوط ارادوں کا حامل، دوٹوک اور باوقار قرار دیا۔ وہ گھڑسواری اور کوہ پیمائی کے شوقین تھے، ایک ایسا امتزاج جس میں جسمانی جرات اور ذہنی استقامت یکجا ہو جاتی ہے۔ بعض قوم پرست رہنماؤں نے ان کی تقرری کو نوآبادیاتی عسکری روایت سے ہٹ کر ایک روشن خیال قیادت کے طور پر سراہا۔ تجزیہ نگار اکرام سہگل نے بعد میں لکھا کہ بنگلہ دیش میں 2007 کا ماڈل دراصل 1993 کے اسی نمونے سے متاثر تھا، جہاں فوج نے براہِ راست اقتدار سنبھالنے کے بجائے سیاسی عمل کو انارکی سے بچانے کی کوشش کی۔

یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا فوج سیاست سے مکمل کنارہ کش رہ سکتی ہے جبکہ قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں؟ کاکڑ ماڈل کا جواب یہ تھا کہ مداخلت اقتدار کے لیے نہیں، استحکام کے لیے ہونی چاہیے اور جیسے ہی استحکام بحال ہو، فوج کو پس منظر میں چلا جانا چاہیے۔ شاید اسی لیے ان کے اقدام کو کسی عدالت میں چیلنج نہ کیا گیا، کیونکہ اسے نیک نیتی کے ساتھ انجام دیا گیا سمجھا گیا۔ تاریخ میں بعض کردار شور سے نہیں، سکوت سے پہچانے جاتے ہیں اور جنرل عبدالوحید کاکڑ انہی میں سے ایک ہیں، جنہوں نے طاقت کے مرکز میں رہ کر بھی طاقت کو مقصد نہیں بنایا بلکہ ریاستی توازن کو ترجیح دی۔

یہ کالم پاکستان کی عسکری و آئینی تاریخ کے ایک اہم کردار کی سوانحی جھلک کو فکری اور ادبی پیرائے میں پیش کرتا ہے، جہاں طاقت، اصول اور جمہوریت کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔

وقارِ حرف تھا، شورِ علمبردار نہ تھا
وہ شخص منصبِ عالی میں بھی طلبگار نہ تھا

نہ تاج کی ہوس، نہ تخت کی کوئی خواہش
اسے تو صرف وطن کا ہی اعتبار نہ تھا

جو وقت آیا تو طوفاں کے روبرو ٹھہرا
مگر لہو میں کوئی رنگِ اشتہار نہ تھا

قدم ہٹایا تو تاریخ نے صدا یہ دی
یہی وہ شخص تھا، جس پر کبھی غبار نہ تھا

Check Also

Do Tok Aur Ba Waqar

By Asif Masood