Dil Ka Acha
دل کا اچھا

ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بہت عام ہے: "وہ دل کے بہت اچھے ہیں، بس مزاج کے تھوڑے سخت ہیں"۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دل کا اچھا ہونا کافی ہے؟ دل کو کون دیکھتا ہے؟ لوگ تو ہماری زبان سنتے ہیں، ہمارا رویہ محسوس کرتے ہیں اور ہمارے اندازِ گفتگو سے متاثر ہوتے ہیں۔
بعض اوقات ہم چند لمحوں کے غصے میں ایسے الفاظ کہہ دیتے ہیں جو سننے والے کے دل و دماغ پر نقش ہو جاتے ہیں۔ زخم جسم پر ہو تو بھر جاتا ہے، مگر لفظوں کی چوٹ یادوں میں زندہ رہتی ہے۔ ہم معذرت بھی کر لیں، پھر بھی وہ جملہ کہیں نہ کہیں ذہن میں گونجتا رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا: "وَالُكَاظِمِينَ الُغَيُظَ وَالُعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الُمُحُسِنِينَ" (قرآن مجید، سورۃ آلِ عمران 3: 134)
"اور وہ لوگ جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے"۔
یہ آیت ہمیں صرف غصہ نہ کرنے کا نہیں بلکہ غصہ پی جانے کا درس دیتی ہے۔ یعنی دل میں اٹھنے والے طوفان کو ضبط کرنا۔
اسی طرح حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے"۔ (صحیح بخاری)
سوچنے کی بات ہے کہ جس عمل پر اللہ کی محبت اور اجر کی خوشخبری ہو، ہم اسے معمولی کیوں سمجھتے ہیں؟
ہم نماز بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، صدقہ بھی دیتے ہیں، لیکن اگر ہمارے الفاظ کسی کا دل توڑ دیں تو کیا ہم واقعی بندوں کے حقوق ادا کر رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو معاف فرما سکتا ہے، مگر بندوں کے حقوق بندے ہی معاف کرتے ہیں۔
عملی زندگی میں ہم سب ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو دل کے شاید واقعی اچھے ہوتے ہیں، مگر ان کا سخت لہجہ، طنزیہ جملے اور بار بار کا غصہ دوسروں کو دور کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ لوگ ان سے بات کرنے سے گھبرانے لگتے ہیں۔ احترام کم نہیں ہوتا، مگر دلوں میں فاصلہ آ جاتا ہے۔
کمیونیکیشن اسکل صرف خوبصورت الفاظ بولنے کا نام نہیں، بلکہ نرم لہجہ، برداشت اور سامنے والے کے جذبات کا خیال رکھنے کا نام ہے۔ ایک اچھا انسان وہ ہے جس کے ساتھ بیٹھ کر دل کو سکون ملے، نہ کہ خوف۔
یہ کالم میں صرف دوسروں کے لیے نہیں، اپنے لیے بھی لکھ رہی ہوں۔ کیونکہ ہم سب انسان ہیں، ہم سے بھی غلطی ہوتی ہے، ہمیں بھی غصہ آتا ہے۔ مگر اگر ہم ہر روز تھوڑا سا اپنے لہجے کو نرم کرنے کی کوشش کریں، ایک جملہ کم سخت بولیں، ایک لمحہ زیادہ صبر کر لیں، تو شاید ہمارے اردگرد کے دل بھی محفوظ ہو جائیں۔
دل کا اچھا ہونا یقیناً بڑی بات ہے، لیکن دل کی اچھائی زبان اور رویے سے ظاہر ہو، تبھی اس کا اثر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے غصے پر قابو پانے، بندوں کے حقوق ادا کرنے اور اپنے اخلاق کو نبی کریم ﷺ کے اخلاق جیسا بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ کمیونیکیشن سکل اور دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ ہم نے ان کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اور خود کو بہتر انسان بنانے کے لیے اپنے رویے پر کام کرنا ہے۔
یاد رکھیں ہم نے اللہ کی رضا کے لیے کام کرنا ہے اور انسانوں کو اللہ نے انسانوں کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ضرور ہے مگر ضرورت سے زیادہ نہیں۔ خود پہ کام کریں خوش رہیں خوشیاں بانٹے اپنی صحت کا بہت خیال رکھیں۔ رمضان میں اللہ تعالی نے نیکیوں پر سیل لگائی ہوئی ہے۔ اس سیل سے فائدہ اٹھائیں۔

