Mazameen e Quran, Atharhvi Nimaz e Taraweeh
مضامینِ قرآن، اٹھارہویں نماز تراویح

انسویں پارے کے کل 97 رکوع ہیں جس میں سورہ الفرقان کے 4 رکوع، سورہ الشعرا کے 11 رکوع اور سورہ النمل کے 4 رکوع شامل ہیں۔ اس پارے کے مضامین میں کفارِ مکہ کا فرشتوں پر اعتراض، تکبر و سرکشی، اس پر اللہ تعالیٰ کا ان کو جواب دیا گیا ہے۔ یہ بتایا گیا کہ کفار کے اعمال ان کسی کام نہ آئیں گے اور اُن کو قیامت میں برباد کر دیا جائے گا جبکہ اہلِ ایمان نیک لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر انعامات و اکرام کا ذکر کیا گیا ہے۔
قیامت کے دن آسمان کا پٹھنا اور فرشتوں کے ظہور بیان کرنے کے بعد بتایا گیا کہ بروزِ حشر اللہ تعالیٰ ہی کی بادشاہی ہوگی اور وہ دن کفار پر بہت سخت ہوگا۔ یکبارگی قرآن کریم نہ نازل نہ کرنے کی حکمت بیان ہوئی۔ حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا اجمالی واقعہ بیان ہوا۔ کفار و منکرین پر عذاب الہی کا نزول اور ان سے کفار کو عبرت حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی۔ کچھ لوگوں کو جانوروں سے بھی بدتر کہا گیا کہ ایسے وہ لوگ ہیں جو نہ کچھ سنتے ہیں اور نہ ہی کچھ سمجھتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ کو مخاطب کرکے بتایا کہ ہم نے آپﷺکو خوشخبری اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
توکل، تسبیح و تحمید کا بیان آیا کہ اس زندہ پر بھروسہ کرو جو کبھی نہ مرے گا اور اسی کی حمد کرتے ہوئے اسی کی پاکی بیان کرو کیونکہ وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔ بندگان خدا اور مقرب بندوں کے اوصاف کے ساتھ انکی خلوتی زندگی اور ان کی نصیحت سننے کو بیان کیا کہ وہ کیسے ہوتے ہیں اور وہ کس طرح اپنی زندگی کی بسر کرتے ہیں۔ شرک سے بچتے رہنے، گناہ کے بعد سچی توبہ کرنے اور گناہوں پر ڈٹے رہنے کی سزاؤں کو بیان کیا گیا۔ منکرین توحید کو تنبیہ کی گئیں اور ان کے بارے وعیدیں بیان ہوئیں، اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کرو گے تو تم پر ہمیشگی کا عذاب رہے گا۔
سورہ الشعراء میں آیات قرآنی کی عظمت اور آقا کو تسلیاں دی گئیں کہ آپ کفار کے رویوں پر غم نہ کھائیں اور کفار کو معجزے اور نشانیاں مانگنے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آسمان سے کوئی نشانی اتاریں تو ان کے بڑے بڑے سردار اُس نشانی کے آگے جھکے رہیں۔ حضرت موسیٰؑ کو حکم الہی اور احکامات دیے اور فرعون پر کئے گئے احسان جتائے جس پر فرعون اور موسیٰؑ کا سارا واقعہ بیان کیا۔ حضرت ابراہیمؑ کو دعوتِ غور و فکر دی اور حضرت ابراہیمؑ کا بتوں سے اعلان براءت کے مضامین اور انکی دعائیں شامل ہیں۔
حضرت نوحؑ کی قوم کو تبلیغ اور اس پر ان کی قوم کا رویہ، دھمکی اور پھر اللہ تعالیٰ کا کفار کی ہلاکت کے واقعات بیان ہوئے۔ قوم عاد اور قوم عود کے برے اعمال، ان کی تنبیہ، انعامات الہیہ کی یاددہانی اور ان کو عذاب الہی سے ڈرانے کے مضامین شامل کئے۔ حضرت صالحؑ کی قوم اور ان کی قوم کا اونٹنی کی رگوں کا کاٹنا اور پھر ان پر عذاب الہی کا آنا بیان کیا گیا تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں اور اچھے کام کریں۔
حضرت لوطؑ اور ان کی قوم کی بدفعلیوں بارے تفصیلات کو کھل کر بیان کیا۔ حضرت شعیبؑ کا واقعہ بیان کرنے کے بعد نبی کریمﷺکی صداقت کی دلیل بیان کرکے اہلِ ایمان پراللہ کی شفقت و رحمت اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنے کی تعلیم دی گی۔ سورہ کے آخر میں شعراء کا حال، گمراہ لوگوں کی پیروی کرنے اورشاعروں کو ہر وادی میں بھٹکنے والا کہا گیا (مسلمان شاعروں کے اچھے کلام مزموم نہیں ہیں)۔
سورہ النمل میں جو مضامین بیان ہوئے ان میں قرآن پاک کی عظمت و شان، نماز، زکوۃ، آخرت، ایمان لانے اور ایمان نہ لانے والوں، حضرت موسیٰؑ کا واقعہِ کوہ طور اور مرکزی مضمون حضرت سلیمان کا بیان ہوا ہے۔ حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کو عطائے علم، ان کی طاقت و دسترس کو بیان کیا جو انسانوں، جنات، ہوا، جانوروں پر تھی۔ ملکہ سباء کی ملاقات، تختِ بلقیس کا دربارِ سلیمان میں پلک جھپکنے میں حاضر ہونا اور پھر ملکہ کا قبولِ اسلام کے قصے شامل کئے تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر دیکھیں۔
حضرت صالحؑ کی قوم کو تبلیغ، بدشگونی لینے پر ان کو نصیحت، 9 فسادیوں کے ناپاک ارادے، فسادیوں کی سازش و ہلاکت اور اہلِ ایمان کی نجات کو بیان کیا گیا۔ پارے کے آخرمیں حضرت لوطؑ اور انکی قوم کا حال اور بد اعمالیوں کو ایک بار پھر بیان کرکے ان سے عبرت حاصل کرنے کا بیان ہوا۔ پھر بتادیا کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں اور ان بندوں پر سلام ہو جن کو اللہ توالی نے چن لیا اور اللہ ہی بہتر ہے ان کے خود ساختہ شریکوں سے۔

