Hamdardi Ke Doghle Mayarat
ہمدردی کے دوغلے معیارات
جاپان کے چڑیا گھر میں چھ ماہ کے بندر کی ویڈیو بہت وائرل ہورہی ہے۔ بندر کے بچے کو اپنی ماں میسر نہیں ہے۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ نے اس کی تنہائی اور ممتا کی تلاش کو دیکھتے ہوئے اسے ایک کھلونا بھالو دے دیا جسے وہ اپنی معصومیت میں ماں ہی سمجھتا ہے۔ جب دوسرے بندر اسے تنگ کرتے ہیں تو وہ اس کھلونے کی آغوش میں پناہ لیتا ہے اور ہر وقت اس کھلونے کو اپنے ساتھ لئے پھرتا ہے۔ اس بچے کی بے بسی، تنہائی اور ممتا کے وجود کی کمی نے بہت سے لوگوں کو رلا کے دکھ دیا۔ جب سے سوشل میڈیا پر اس بندر کی ویڈیوز نشر ہوئی ہیں، کئی متمول میڈیا انفلوئینسرز نے اسے گود لینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
یہاں ایک منٹ رک کر دنیا کے دوغلے اخلاقی معیارات پر بات کرنا بنتی ہے۔ غزہ کے معصوم بچوں کی منظم نسل کشی کو یہ تیسرا سال ہے۔ بہت سے شیر خوار بچے بمباری کے بھیانک دھماکوں کی آوازوں سے تڑپ کے مر گئے۔ ہزاروں بچے ملبے تلے دب کے جاں بحق ہوئے۔ سخت سردی کی حالت میں گرم ماحول اور غذا نہ ملنے کے سبب ٹھٹھر کے فروسٹ ہوگئے۔ اس وقت بھی ہزاروں نفوس کو قحط سالی اور دیگر مصائب کا سامنا ہے مگر عالمی ضمیر سویا ہوا ہے! گلیوں میں بھاگتے دوڑتے گلاب چہروں والے بچوں نے اپنی اپنی ٹانگوں پر قلم سے اپنے نام لکھے تاکہ جب وہ شہید کردئیے جائیں تو ان کے اعضاء سے انھیں پہچانا جاسکے!
ایک فلسطینی صحافی خاتون حمدان نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اب مذید رپورٹنگ نہیں کرنا چاہتی۔ اس نے روتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ زدہ علاقوں میں زخمی خاندانوں کی سٹوریز لکھا کرتی تھی مگر اب وہ یہ کام چھوڑنا چاہتی ہے، اس لئے کہ دنیا نے غزہ میں بلکتی انسانیت سے منہ موڑ لیا ہے۔ لوگ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اندھے بہرے گونگے بنے ہوئے ہیں!
دنیا ان تعصبات اور دوغلے اخلاقی معیارات کے ساتھ نہیں چل سکتی جہاں کسی ایک جانور کی تکلیف تو محسوس کی جاتی ہے مگر لاکھوں انسانوں کے بہتے خون سے آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں۔ سوائے نعرے بازی اور سڑکوں پہ کھڑے ہونے کے، عملی طور پر اس نسل کشی کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا جاتا! بقول شاعر:
جب میں مَر جاؤں تو
جہاں چاہو دفن کر دینا!
کسی ہرے بھرے میدان میں جہاں خود رُو پھول
گھاس سے سر نکال نکال کر جُھومتے ہوں!
یا کسی ایسے ویرانے میں
جہاں کھنڈر ہوں، بگولے اُڑتے ہوں!
جہاں خزاں اور بہار میں کوئی فرق نہ ہو۔
جہاں تنہائی ہو، وحشت ہو!
یا۔۔ کسی چوٹی پر
درختوں کے جُھنڈ میں دَفن کر دینا!
جہاں برفباری میری قبر پر سفید چادر چڑھاتی رہے!
بہار آنے پر جب سُورج چَمکے
تو کلیاں کِھل کر پُھول بن جائیں!
مُعطر ہوائیں خُوشبوئیں بکھیرتی ہوئی گُزر جائیں۔
کوئی تیز سا جھونکا آئے
تو قبر پر پُھولوں کی بارش ہو جائے!
یا پھر۔۔ مُجھے اپنے "دِلوں" میں دفن کر دینا

